25 رجب 1447 هـ   13 جنوری 2026 عيسوى 2:14 am کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن یعنی 25 رجب سنہ 183 ہجری کو ساتویں امام حضرت امام موسیٰ ابن جعفر الکاظم علیہ السلام کو بغداد میں ہارون رشيد کے قید خانہ میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔
مین مینو

 | مقالات  |  انسانی محرکات یکساں مگرانتخاب جدا جدا
2026-01-04   39

انسانی محرکات یکساں مگرانتخاب جدا جدا

الشيخ معتصم السيد احمد

انسان اکثر اس وقت غلطی کر بیٹھتا ہے جب وہ دوسروں سے اس بنیاد پر معاملہ کرتا ہے کہ ان کے محرکات اس کے اپنے محرکات سے بلکل مختلف ہیں یعنی جو چیز اسے متحرک کرتی ہے وہ کسی اور کو متحرک نہیں کر سکتی۔ یہ سوچ سماجی شعور میں رچا بسا وہم ہے جو لوگوں کے درمیان نفسیاتی طور پر فاصلے پیدا کرتا ہے،غلط فہمیوں کو بڑھاتا ہے،جبر کو جواز دیتا ہے اور بعض اوقات برتری اور تکبر کوبڑھاتاہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے باطن میں اس قدر ایک دوسرے سے مشابہ ہیں کہ جتنا ہم تسلیم بھی نہیں کرتے۔ اختلاف محرک کی اصل میں نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کے طریقے اور اس راستے سے ہے جس پر اسے چلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

اگر انسان سچائی کے ساتھ اپنے اندر جھانکے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کے دل میں بسنے والی خواہشات، امنگیں اور خوف وہی ہیں جو دوسروں کے دلوں میں بھی بستے ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کی قدر کی جائے، اس کا ذکر اچھے لفظوں میں ہو اور وہ یہ محسوس کرے کہ اس کے وجود کی کوئی معنویت اور اثر ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی درجے میں برتری کا احساس چاہتا ہے یا کم از کم کمتر سمجھے جانے کے احساس سے بچنا چاہتا ہے۔ ہر ایک کو نظر انداز کیے جانے پر تکلیف ہوتی ہے، پہچان ملنے پر خوشی ہوتی ہے، توجہ نہ ملنے پر غصہ آتا ہے اور عزت و پذیرائی پانے پر دل کو سکون ملتا ہے۔ یہ کسی ایک طبقے کی خاص صفات نہیں، نہ ہی کوئی غیر معمولی نفسیاتی بیماریاں ہیں بلکہ انسانی نفسیاتی ساخت کے بنیادی اجزا ہیں۔

انسان کو سمجھنے میں ہمیں سب سے زیادہ مغالطے میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ ہم محرک پر توجہ دیے بغیر صرف رویّے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ ہم کسی کو مرتبے کا طلبگار دیکھتے ہیں تو اسے ناپسندیدہ کا نام دے دیتے ہیں، کسی دوسرے کو نمایاں ہونے کی کوشش کرتے دیکھتے ہیں تو اس پر شہرت طلبی کا الزام لگا دیتے ہیں اور کسی تیسرے کو مال جمع کرتے دیکھتے ہیں تو اسے محض لالچ میں محدود کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل محرک ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ ہے تحفظ کی ضرورت، تسلیم کیے جانے کی خواہش یا مٹ جانے کا خوف۔ فرق اس ضرورت کے وجود میں نہیں بلکہ اس راستے میں ہے جو ہر شخص نے اسے پورا کرنے کے لیے چنا ہے۔

مثلاً مرتبے کی محبت بذاتِ خود کوئی اخلاقی بگاڑ نہیں۔ یہ اس گہری خواہش کا اظہار ہے کہ انسان کی اس دنیا میں کوئی قدر و بات  ہو اور وہ محض ایک عارضی عدد بن کر نہ رہ جائے۔

مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ خواہش جنون کی صورت اختیار کر لیتی ہےاور اپنے اخلاقی سیاق سے کٹ جاتی ہے تو پھر وہ دوسروں کو باہر دھکیلنے، کچلنے یا ان کے حقوق پامال کرنے کا جواز بن جاتی ہے۔ یہاں خرابی محرک میں نہیں ہوتی بلکہ اس ضابطے کی عدم موجودگی میں ہوتی ہے جو اسے درست سمت دیتا ہے۔

اسی طرح ملکیت کی محبت بھی ہے۔ انسان اپنی فطرت کے مطابق چاہتا ہے کہ اس کے پاس وہ ہو جو دوسروں کے پاس نہ ہو یا کم از کم اتنا ضرور ہو جو اسے محتاجی اور تنگ دستی سے بچا لے۔ یہ میلان اپنی فطری حد میں ہو تو یہی اسے محنت، تخلیق اور تہذیبوں کی تعمیر پر آمادہ کرتا ہے۔یہ اس وقت مسئلہ بن جاتا ہے جب اس کی کوئی حد نہ رہےاور جب ملکیت باعزت زندگی کے ذریعے کی بجائے خود مقصد بن جائےتواس میدان میں نفس آسانی سے سیر نہیں ہوتا؛ جب وہ مال یا اثر و رسوخ تک پہنچتا ہے تو فوراً اس سے آگے کی طرف دیکھنے لگتا ہےاس لیے نہیں کہ واقعی ضرورت ہےبلکہ اس لیے کہ خواہش کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے افق کو مسلسل وسیع کرتی رہتی ہے۔

یہیں سے انسانی زندگی کے دردناک تضادات میں سے ایک جنم لیتا ہے کہ بعض لوگ بہت کچھ رکھتے ہیں مگر مستقل بے چینی میں جیتے ہیں اور بعض لوگ بہت کم مال و دولت رکھتے ہیں مگر زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔ فرق یہاں اس بات میں نہیں کہ انسان کے پاس کتنا ہے بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کا اپنے مال و متاع سے رشتہ کیسا ہے۔ کیا وہ اپنے پاس موجود چیزوں کا مالک ہے یا ان کا قیدی؟ کیا مال اور مرتبہ اس کی خدمت میں ہیں یا وہ خود ان کی خدمت میں ہے؟ یہی سوال نفسیاتی سکون اور دائمی اضطراب کے درمیان حدِ فاصل بنتا ہے۔

اسی طرح سخاوت اور بخل، شجاعت اور خوف، جرات اور تذبذب کے درمیان کشمکش کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جو خالصتاً سخی پیدا ہوا ہو اور اس میں بخل بالکل نہ ہو، نہ ہی کوئی ایسا ہے جو مطلق شجاع ہو اور خوف سے بالکل خالی ہو۔ یہ ایک مثالی تصور ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔ سخاوت دراصل اس صلاحیت کا نام ہے کہ عطا کے وقت انسان پکڑ کر رکھنے کی فطری خواہش پر قابو پا لے اور شجاعت خوف کو مٹانے کا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے کا نام ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ فضیلت کا مطلب مخالف رجحان کا بالکل نہ ہونا ہےوہ انسانی نفسیات کو غلط سمجھتا ہےاور ایک خطرناک اخلاقی منافقت کا دروازہ کھول دیتا ہے، جس میں انسان کمال کا دکھاوا تو کرتا ہے مگر اپنے باطن کا سامنا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

اصل اختلاف انسانوں کے درمیان خواہش کےوقت ظاہر نہیں ہوتا بلکہ انتخاب کے وقت سامنے آتا ہے۔ خواہش تقریباً سب کے دروازے پر دستک دیتی ہے مگر اس کا جواب یکساں نہیں ہوتا۔ دو لوگ ایک ہی لالچ یا جذبے کا سامنا کر سکتے ہیں مگر ایک اس پر حد لگا دیتا ہےجبکہ دوسرا اسے آگے بڑھنے دیتا ہے۔ یہ انتخاب خالی جگہ میں نہیں ہوتابلکہ چھوٹے چھوٹے فیصلوں کے طویل سلسلے کے ذریعے بنتا ہے۔ جب بھی انسان کسی کم قدر کی چیز پر اعلیٰ قدر کو ترجیح دیتا ہےوہ اپنے آپ کو اس رویے کی تربیت دیتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

اسی لیےاخلاق کوئی مستقل حالت نہیں جس میں انسان پیدا ہوتا ہےبلکہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو تجربے اور جدوجہد کے ذریعے بنتا ہے۔ فضیلت اس بات کا نام نہیں کہ کشمکش موجود نہ ہو بلکہ یہ اسے سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔جو انسان اس اندرونی جدوجہد کو نہیں جیتا، وہ یا تو اپنی خواہشات کے آگے مکمل طور پر سر تسلیم خم کر چکا ہے یا اس نے اپنے آپ کو سچائی کے ساتھ نہیں پرکھا۔ جو شخص اس کشمکش کو محسوس کرتا ہے کہ یہ کیا چاہتی ہے اور کیا  کیا جانا چاہیے۔وہ حقیقی انسانی تجربے کے مرکز میں ہے۔

اسی سیاق میں امام علی بن ابی طالب ع کے الفاظ انسانی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتے ہیں، نہ صرف اس لیے کہ وہ ایک دینی شخصیت کے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ نفس کے حقیقی فہم کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ وہ اصلاح کا راستہ جانتے ہیں مگر دوسروں کی اصلاح کے لیے اپنی ذات کو برباد نہیں کرتے تو وہ ایک اخلاقی اصول قائم کرتے ہیں جو وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہے: کوئی اصلاحی منصوبہ اس وقت تک قابل قدر نہیں جب تک اس کی قیمت انسان کی اندرونی تبدیلی نہ ہو۔جب وہ خواہش کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں، پھر اسے اپنی رہنمائی نہ کرنے دیتے تو وہ اپنی انسانیت سے انکار نہیں کرتےبلکہ اسے مضبوط کرتے ہیں اور اسے ایک شعوری اخلاقی سمت دیتے ہیں۔

یہ فہم ہمیں ایک جعلی ثنویت سے آزاد کرتا ہے جس نے طویل عرصے تک اخلاقی سوچ کو ثقیل کر رکھا تھا: فرشتے نما انسان کے مقابل شہوانی انسان کا تصور۔ انسان نہ یہ ہے نہ وہ۔ وہ ایک مرکب وجود ہے، جس میں صعود کی صلاحیت اور زوال کا امکان دونوں موجود ہیں۔ اور اس کا مقام اس سے نہیں طے ہوتا کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے بلکہ اس سے طے ہوتا ہے کہ وہ کیا انتخاب کرتا ہے۔ لہٰذا، انسان کا حساب و کتاب اس کے افعال اور فیصلوں پر ہونا چاہیے نہ کہ صرف اس کے اندرونی محرکات پرجو دوسروں کے ساتھ مشترک ہیں۔

جب ہم انسانوں کے درمیان اس گہری مماثلت کو سمجھ لیتے ہیں تو ہماری معاشرتی سوچ کا انداز بدل جاتا ہے۔ ہم دوسروں کو اجنبی مخلوقات کی طرح دیکھنا بند کر دیتے ہیں اور انہیں اپنے ہی انسانی تجربے کا حصہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ سمجھنا فیصلہ کرنے سے پہلے آتا ہے، رحم تنقید کی بنیاد بنتا ہے اور نفس کی کمزوری کا شعور اصلاح کا دروازہ بنتا ہے، نہ کہ الزام تراشی کا جواز بنتا ہے۔ معاشرہ انسانی فطرت کو جھٹلانے پر نہیں بلکہ اسے سمجھنے، ہدایت دینے اور ایسے اخلاقی و قانونی نظام بنانے پر قائم ہوتا ہے جو اسے مدنظر رکھیں۔

آخر میں، جب انسان سچائی کے ساتھ اپنے آپ میں جھانکتا ہے اور سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے اندر حرکت کرتا ہے وہ دوسروں کے اندر بھی حرکت کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو سدھارنے کا راستہ پہلے خود کی اصلاح سے شروع ہوتا ہے۔  خواہش کا انکار کر کےنہیں بلکہ اسے قابو میں لا کر نہ اخلاقی برتری کا دعویٰ کر کے، بلکہ شعوری انتخاب کی مشق کر کےبار بارتاکہ انسان اپنے ساتھ زیادہ ہم آہنگ اور دوسروں کے ساتھ زیادہ منصف بن جائے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018