25 رجب 1447 هـ   13 جنوری 2026 عيسوى 2:10 am کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن یعنی 25 رجب سنہ 183 ہجری کو ساتویں امام حضرت امام موسیٰ ابن جعفر الکاظم علیہ السلام کو بغداد میں ہارون رشيد کے قید خانہ میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔
مین مینو

 | مقالات  |  شکست بطورِ فکر، فتح بطورِ آزمائش
2025-12-25   162

شکست بطورِ فکر، فتح بطورِ آزمائش

الشيخ معتصم السيد أحمد

تاریخ محض جنگوں کا ریکارڈ نہیں بلکہ ان خیالات کا بھی ریکارڈ ہوتی ہے جو جنگوں سے پہلے جنم لیتے ہیں۔ کسی ایک لمحے میں جسے فتح یا شکست کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک طویل اور دقیق عمل کا ظاہری نتیجہ ہوتا ہےیہ اجتماعی شعور، اقدار کے نظام اور انسان کے اپنے آپ اور دنیا میں اپنے مقام کو سمجھنے کے انداز سے تشکیل پاتا ہے۔ قومیں اس وقت نہیں ہارتیں جب وہ ظاہری جنگ ہار جائیں بلکہ وہ جنگ اس وقت ہارتی ہیں جب وہ اندر سے شکست کھا چکی ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ صرف بہتر لڑنے کی وجہ سے نہیں جیتتیں بلکہ اس لیے کامیاب ہوتی ہیں کہ پہلے وہ اس معنی اور مقصد کو پا چکی ہوتی ہیں جو کسی بھی جدوجہد یا مقابلے کو واضح سمت عطا کرتا ہے۔

شکست اپنی اصل میں کوئی فوجی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی کیفیت ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب عمل اپنے معنی سے کٹ جاتا ہے، طاقت خود مقصد بن جاتی ہےاور وہ رہنمائی ختم ہو جاتی ہے جو ممکن اور جائز کے درمیان فرق بتاتی ہے۔ جب کوئی قوم اس حالت کو پہنچ جاتی ہے تو اس کی ہار محض وقت کا مسئلہ بن جاتی ہے، چاہے وہ بظاہر طاقتور، متحد اور اپنی مرضی مسلط کرنے کے قابل ہی کیوں نہ نظر آئے۔ ایسی طاقت جو شعور کے تابع نہ ہو، بہت جلد اپنے ہی مالک کے لیے بوجھ بن جاتی ہے اور تعمیر کا ذریعہ بننے کی بجائے خود تباہی کا ہتھیار بن جاتی ہے۔

جہاں تک فتح کی بات ہے تو وہ بھی نہ کوئی اخلاقی کمال کی انتہا ہوتی ہے اور نہ ہی برتری کی آخری سند ہوتی ہےبلکہ ایک نہایت نازک امتحان ہوتی ہے۔ فتح وہ باتیں ظاہر کر دیتی ہے جو شکست ظاہر نہیں کر پاتی کیونکہ یہ قوم کی خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت اور رفریب سے بچنے کی طاقت کو پرکھتی ہے۔ بہت سی قومیں اس لیے نہیں گریں کہ وہ کمزور تھیں بلکہ اس لیے گریں کہ وہ یہ سمجھ بیٹھیں کہ اب ان کا زوال ممکن ہی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فتح اقدار کو مضبوط کرنے کے موقع کی بجائے انا کے پھیلاؤ کا لمحہ بن جاتی ہے اور ایک نئی ابتدا کے بجائے زوال کے آغاز میں بدل جاتی ہے۔

اس زاویۂ نظر سے کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ قوموں کو ان کی کمزوری پر اتنی سزا نہیں دیتی جتنا ان کی اپنی ذات سے ناواقفیت پر دیتی ہے۔ وہ شکست جسے صرف سازش سمجھ لیا جائے، ایک مستقل مقدر بن جاتی ہے جبکہ وہ شکست جسے حالات اور شرائط کی خرابی سمجھا جائےخود احتسابی اور اصلاح کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ اسی طرح وہ فتح جسے محض ذاتی اور مطلق حق سمجھ لیا جائےاپنے اندر زوال کے بیج بو دیتی ہےجبکہ وہ فتح جسے ایک امانت سمجھا جائے تسلسل اور بقا کے نئے افق کھول دیتی ہے۔

اسی لیے یہ محض اتفاق نہیں کہ قرآن مجید ایک طرف فتح و شکست کو اور دوسری طرف الٰہی سنتوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ قرآنی متن تاریخ کو فوری جزا و سزا کا میدان نہیں سمجھتا بلکہ اسے قوانین کے ظہور کی جگہ قرار دیتا ہے،ارشاد باری تعالی ہوتا ہے۔ (فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ) (سورہ روم آیت ۴)

چند سالوں میں، پہلے بھی اور بعد میں بھی اختیار کل اللہ کو حاصل ہے، اہل ایمان اس روز خوشیاں منائیں گے۔

یہ کوئی سادہ مذہبی جملہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہے کہ نتائج کو صرف اسباب کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے اور یہ کہ عدلِ الٰہی کسی ایک لمحے میں نہیں بلکہ پورے عمل اور سفر میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنوں کا آنا جانا محض اتفاق نہیں بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ دلوں کے حال کھل جائیں، سچے اورفقط دعوے دار میں فرق ہو جائے اور باشعور لوگ خود فریبی میں مبتلا لوگوں سے الگ پہچان بنا لیں۔

جب ہم ابتدائی اسلامی تجربے کو اس زاویے سے مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے معانی سطحی وعظی تعبیر سے ہٹ کر واضح ہو جاتے ہیں۔ جیساکہ جنگ بدر کی فتح کوئی آخری فتح نہیں تھی بلکہ شعور کے امتحان کی ابتدا تھی اور جنگ اُحد کی ظاہری شکست اخلاقی زوال نہیں بلکہ ایک تربیتی جھٹکا تھا جس نے یہ حقیقت کھول دی کہ صرف ایمان کافی نہیں ہوتا جب تک وہ نظم، اطاعت اور نتائج کے شعور میں نہ ڈھل جائے۔ رہی بات غزوۂ احزاب کی کامیابی کی تو وہ کسی غیر معمولی مادی قوت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ پچھلے تجربے سے جنم لینے والے شعور کا ثمر تھی۔ یہاں تاریخ کا یہ چکر محض بھِڑ چال کے طور پر نہیں بلکہ غلطی اور اصلاح، غفلت اور بیداری کے درمیان ایک فکری و تربیتی حرکت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

یہ منطق کسی ایک قوم یا کسی خاص دین تک محدود نہیں بلکہ تاریخ کی حرکت کا ایک عام قانون ہے۔ جدید قومیں جو جنگوں کے ملبے تلے سے اٹھیں وہ اس لیے نہیں سنبھلیں کہ وہ ہار گئی تھیں بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنی شکست کو سمجھ لیا۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ صرف عمارتیں اور معیشت ہی نہیں گری تھیں بلکہ سوچنے کا پورا طریقہ ہی ٹوٹ چکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے کارخانوں سے پہلے انسان کی تعمیر کی، انتقام اور نعروں کی بجائے علم، نظم و ضبط اور طویل المدت محنت کو اہمیت دی۔ جب یہ بنیادی شرائط قائم ہو گئیں تو ترقی کسی معجزے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فطری نتیجے کے طور پر سامنے آئی۔

اس کے برعکس وہ قومیں جو طاقت اور تسلط رکھتی تھیں لیکن اپنی ذات پر تنقیدی نظر ڈالنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اندر سے توازن کھونے لگیں۔ استبداد محض حکمرانی کا طریقہ نہیں بلکہ ایک فکری کیفیت ہے جو خود کو کامل سمجھنے کے فریب اور اجتماعیدانش کے انکار پر قائم ہوتی ہے۔ غرور بھی محض نفسیاتی صفت نہیں بلکہ ایک علمی کمی ہے جو قوم کو اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے سے عاجز بناتی ہے۔ جب استبداد اور غرور ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو اصلاح کا عمل رک جاتا ہے اور طاقت ایک سست مگر یقینی خودکشی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔

یہاں سے موجودہ عرب اور اسلامی بحران کو سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ سیاسی یا معاشی بحران سے پہلے شعور کا بحران ہے۔ آج ہم جس شکست کا سامنا کر رہے ہیں وہ کسی ایک تاریخی لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ طاقت اور اقدار، دین و حقیقت اور حکومت اور ذمہ داری کے درمیان تعلق کے طویل عرصے سے پیدا ہونے والے خلل کا نتیجہ ہے۔ جب شناخت صرف نعروں تک محدود ہو جائے، اقدار محض تقریروں میں رہ جائیں اور عمل خواہشات تک محدود ہو جائےتو پسپائی ایک عام کیفیت بن جاتی ہے اور کسی کو کوئی استثناء نہیں۔

تاہم وہ فلسفہ جو تاریخ کو محض اتفاق یا کھیل نہیں بلکہ ایک منطقی سلسلہ سمجھتا ہےامید کا دروازہ بھی کھولتا ہے۔ جیسا کہ زوال محض اتفاق نہیں تھا، اسی طرح عروج بھی ناممکن نہیں۔ مگر یہ مشروط ہے اس بنیادی سوال کے دوبارہ اٹھانے سےکہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ نہ کہ جذباتی خواہش ہو بلکہ بامقصد اور شعوری منصوبہ بندی کر لی گئی ہو۔ قومیں اس لیے نہیں اٹھتی کہ وہ اٹھنا چاہتی ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی ذات کی نئی تشریح کرتی ہیں، اپنی ترجیحات دوبارہ ترتیب دیتی ہیں اور اپنی غلطیوں کو بغیر کسی حجت کے تسلیم کرنے کی ہمت رکھتی ہیں۔

سب سے خطرناک چیز جس کا سامنا ایک شکست خوردہ قوم کرتی ہےوہ یہ ہے کہ وہ فلسفیانہ سوال سے بھاگ کر فوری سیاسی جواب تلاش کرے۔ سب سے خطرناک چیز جس فاتح قوم کو سامنا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اخلاقی سوال سے بھاگ کر نتائج کا جشن منائے۔ دونوں صورتوں میں گہری سوچ ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ عارضی ردعمل لے لیتا ہےجو نہ مستقبل تعمیر کرتا ہے اور نہ حقیقی معنویت پیدا کرتا ہے۔

جب شکست کو فلسفیانہ انداز سے پڑھا جائے تو یہ فتح کا مخالف نہیں بلکہ اس کے شعور کی شرط ہوتی ہے۔ جب فتح کو اخلاقی انداز سے سمجھا جائے تو یہ کوئی آخری مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ شکست اور فتح کے درمیان قومیں ایک کھلے دائرے میں حرکت کرتی ہیں یہ اندھا نصیب نہیں بلکہ انسان کا تاریخ کے قوانین سے شعور اور ان سے سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

جب ہم سمجھ لیتے ہیں کہ حقیقی لڑائی صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ عقل اور ضمیر میں لڑی جاتی ہے تو ہم یہ جان لیتے ہیں کہ مستقبل کا انتظار نہیں کیا جاتابلکہ اسے خود بنایا جاتا ہے۔ انسانی فکر کےنتیجے میں ہی فتح و شکست جنم لیتی ہیں اس سے پہلے کہ تاریخ انہیں اپنے صفحات میں درج کرے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018