
| مقالات | فطرت سے یقین تک: قرآن کریم میں علم اور معرفت کے نظریاتی اصول

فطرت سے یقین تک: قرآن کریم میں علم اور معرفت کے نظریاتی اصول
الشيخ معتصم السيد أحمد
قرآنِ مجید اپنے علم کے بیان کا آغاز نہ تو ادراک کے ذرائع پر بحث سے کرتا ہے اور نہ ہی معرفت کے اسباب کے بارے میں سوال سے،بلکہ یہ بنیادی سطح سے بات کا آغاز کرتا ہے، یعنی انسان اور اس کا وجود کے ساتھ تعلق۔قرآنی تصورِ علم میں معرفت صرف معلومات کا ذخیرہ یا عقل محض کی مہارت نہیں بلکہ یہ ایک ایسا وجودی سفر ہے جو خدا کی پہچان سے شروع ہو کر ایسے انسان کی تشکیل پر ختم ہوتا ہے جو کائنات اور زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اسی لیے قرآنی نظریہِ علم محض فلسفیانہ سوچ نہیں بلکہ انسان اور حقیقت کے تعلق کومنظم کرنے والا ایک عملی اور فکری منصوبہ ہے۔ یہ نظریہ ایک بنیادی اور اہم اصول پر قائم ہے اور وہ یہ کہ خدا کی معرفت وہ سرچشمہ ہے جس سے باقی تمام علوم اور فہم کے راستے پھوٹتے ہیں چنانچہ قرآنی نقطۂ نظر میں خدا کوئی ذہنی تصور یا وضاحتی مفروضہ نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن میں موجود سب سے زیادہ واضح اور زندہ حقیقت ہے۔ اسی معنی میں خدا پر ایمان علم کے سفر کے آخر میں آنے والی چیز نہیں بلکہ اس کی ابتدا ہے کیونکہ وہی وجود کو اس کا مفہوم اور حقیقی حیثیت عطا کرتا ہے۔ دنیا کو بھی ایک ایسی مستقل حقیقت کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جس پر اعتماد کیا جا سکے جب تک یہ یقین نہ ہو کہ وہ کسی برحق ذات سے صادر ہوئی ہے، حکمت پر قائم ہے اور باقاعدہ اصولوں اور قوانین کے تحت چل رہی ہے۔
خدا کی معرفت انسانی زندگی میں بہترین اوصاف کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، جو ایک ہی وقت میں کائنات کو چلانے والے قوانین بھی ہیں اور انسانی معاشرے کو منظم کرنے والی اخلاقی اور قانونی اقدار بھی ہیں۔اس طرح خدائی اوصاف محض عبادت میں پڑھے جانے والے الفاظ نہیں بلکہ دنیا اور زندگی کو سمجھنے کی کنجیاں ہیں۔ چنانچہ عدل، دانائی، رحمت اور حق صرف خدا کی صفات ہی نہیں، بلکہ کائناتی اصول اور اقدار کےوہ معیار بھی ہیں، جن کے ساتھ انسان کو اپنی سوچ، ارادے اور عمل میں ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں انسانی معرفت کا سفر غیب کی دنیا اور ظاہر کی دنیا کے درمیان ربط اور ہم آہنگی قائم کرنے پر مبنی ہے،غیب میں استحکام، اقدار اور معنی کا پہلو ہے جبکہ شہود انسانی تجربے، تبدیلی اور ارتقا کا میدان ہے۔ اس سفر میں قرآن کا کردار یہ نہیں کہ وہ تیار شدہ علمی فارمولے پیش کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کو نفسیاتی اور اقدار کے اعتبار سے اس قابل بنائے کہ وہ حقیقت کو بگاڑ یا گمراہی کے بغیر سمجھ سکے۔ چنانچہ علم صرف عقل کی پیداوار نہیں بلکہ یہ انسان کی فطری صلاحیت، عقل اور اقدار کی باہمی داخلی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔
اس تصور کے مطابق انسان میں معرفت کا آغاز ایک ابتدائی فطری احساس سے ہوتا ہے جو اسے اپنے وجود پر ایک اصل حقیقت کے طور پر اعتماد کرنے کے قابل بناتا ہے۔انسان دلیل قائم کرنے اور تجزیہ کرنے سے پہلے ہی بدیہی طور پر محسوس کرتا ہے کہ یہ وجود کوئی وہم نہیں بلکہ معنی پر قائم ہے۔ واضح رہے کہ وجود پر یہ ابتدائی اعتماد نہ تو صرف حواس کے ذریعےسے قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی محض عقل سے ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ دونوں میں شک کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ لہذا یہ اعتماد دراصل خدا پر ایمان کے ذریعے قائم ہوتا ہے جسے سب سے نمایاں اور واضح حقیقت سمجھا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے تمام موجودات کو ان کی حقیقی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ اس ایمان کے بغیر خود اپنے وجود پر اعتماد کے لیے بھی کوئی مضبوط بنیاد باقی نہیں رہتی۔
اسی بنا پر قرآنی نقطۂ نظر ان بہت سی جدید فلسفیانہ آرا سے مختلف ہے، جن میں عقل یا حواس کو علم کی حتمی کسوٹی بنا دیا گیا ہے۔قرآن نہ عقل کے کردار کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی حواس کے کردار کا منکر ہے لیکن وہ انہیں اس اعلیٰ حقیقت سے جدا کرنے کو درست نہیں سمجھتا جو انہیں اعتبار اور بھروسا عطا کرتی ہیں۔ عقل اور حواس کے ذریعے حاصل ہونے والے ادراک پر اعتماد خود بخود پیدا نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اس یقین سے جنم لیتا ہے کہ یہ دنیا برحق ہے اور اس کے پیچھے ایک باحکمت ارادہ کارفرما ہے جو وجود کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرتا۔ چنانچہ خدا کی معرفت، جو ایک فطری حقیقت کے طور پر موجود ہے، اسی قلبی اطمینان کی ضامن بنتی ہے۔
اس معنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر وہ فلسفہ جو حقیقت پسندی کا دعویٰ کرتا ہے، چاہے وہ اس کا کھلے لفظوں میں اعتراف نہ بھی کرے، کسی نہ کسی صورت میں خدا پر ایمان کو فرض کرتا ہےکیونکہ اسے ایسے بنیادی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو وجود کی حقیقت اور علم کے امکان کی ضمانت دے۔ اس کے برعکس ہر شکی یا سفسطائی فلسفہ، چاہے وہ الحاد کا صریح اعلان کرنے سے بچے، عملی طور پر حقیقت کے انکار ہی پر منتج ہوتا ہے کیونکہ وہ ادراک اور معنی کے رشتے کواور وجود اور حق کے تعلق کو توڑ دیتا ہے۔ لہٰذا یہاں اختلاف محض الفاظ کا نہیں بلکہ نقطۂ آغاز کا اختلاف ہے۔ اسی لیے قرآن کی طرف سے خدا پر ایمان کی دعوت محض عبادت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک علمی اور فکری دعوت ہے جس کا مقصد انسان کے دنیا کو دیکھنے کے زاویے کو درست کرنا اور وہ نگاہ قائم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ حقائق کو پہچان سکے۔ چیزوں کو ماننا اور ان کے پیچھے موجود معنی اور حقوق کو تسلیم کرنااسی وقت ممکن ہوتا ہے جب پہلے یہ مان لیا جائے کہ وہ برحق ہیں۔ اور یہ اعتراف صرف اسی صورت میں پیدا ہوتا ہے جب انسان ایک ایسی فطری معرفت پر اعتماد کرے جو اسے اس خدا تک لے جاتی ہے جس نے پوری کائنات کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
یہاں سے قرآنی معرفتی نقطۂ نظر میں توحید علم کی درستگی کی ضمانت بن جاتی ہے۔ توحید محض عقیدے کا ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری سانچہ ہے جو انسان کے دنیا کو سمجھنے کے طریقے کا تعین کرتا ہے۔ فطری حقائق وہ بنیاد ہیں جن پر باقی تمام علوم قائم ہوتے ہیں اور انسان کا اپنی معرفت پر اعتماد باہر سے نہیں بلکہ اندر سے شروع ہوتا ہے۔یہ اعتماد اس کے باطن اور وجدان سے آتا ہے جو ہر دلیل سے پہلے ہی ان حقائق کی گواہی دے دیتا ہے۔
اس علمی فریم ورک میں خدائی اوصاف کو ایک مرکزی مقام حاصل ہےکیونکہ یہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ربط قائم کرنے کی بنیاد ہیں، چاہے وہ علمی سطح پر ہو یا عبادتی سطح پر ہو۔ خدا کی معرفت خالی جگہ میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ انہی اوصاف کو اقدار اور معیار کے طور پر سمجھنے کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ پس جتنا انسان ان اقدار کے مطابق اپنی شخصیت کو ڈھالتا چلاجاتاہے، اتنا ہی وہ حقیقت کے قریب ہوتاجاتا ہے اور جتنا ان سے دور ہوتا ہے، اتنا ہی اس کا علمی توازن بگڑتا چلاجاتاہے۔
جہاں تک ایمان کا تعلق ہےجو کہ ایک قرآنی اصطلاح ہے، یہ محض ذہنی تصدیق کا نام نہیں بلکہ حق کو تسلیم کرنے کا عمل ہے۔ انسان کا اپنی معرفت پر اعتماد ہی اسے اشیاء کے وجود اور ان کی حقیقت کو قبول کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اسی لیے واضح ہوتا ہے کہ ایمان حقوق اور قوانین کی بیج کی حیثیت رکھتا ہےکیونکہ جب کسی موجود کو تسلیم کر لیا جائے تو وہ ایک ایسا حق بن جاتا ہے جس کا احترام ضروری ہے۔ چنانچہ خدا پر اور اس کی مخلوقات پر ایمان، ایک ہی وقت میں خدا کے حقوق اور مخلوق کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ اسی لیے غیب اور ظاہر پر ایمان میں کسی قسم کی تقسیم نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ یہ خالق کے حقوق اور مخلوقات کے حقوق، خدا کے حقوق اور انسان کے حقوق اور تمام وجود کے حقوق کو تسلیم کرنے کا عمل ہے۔ اسی اعتراف سے اخلاق جنم لیتا ہے، قوانین قائم بنتے ہیں، اور انسانی رویہ فطری طور پر درست رہتا ہے، جس میں کسی قسم کی جبر یا بناوٹی پن نہیں ہوتا۔
ایمان زندگی پر اعلیٰ مقاصد اور عظیم اقدار کا رنگ چڑھاتا ہے، جس سے زندگی خود ایک ایسی قیمتی شے بن جاتی ہے جو جینے اور قربانی دینے کے قابل ہو۔ وہ زندگی جو مقاصد اور معنی سے خالی ہو، انسان میں تخلیقی توانائی کو نہیں جگاتی اور ارادہ کو متحرک نہیں کرتی۔ زندگی پر ایمان دراصل اس حکمت پر ایمان ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہے اوراس فلسفے پر ایمان ہے جو وجود کو قابل فہم اور بامقصد بناتا ہے۔ یہ نکتہ انسان پر اسی وقت واضح ہوتا ہے جب وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ ایک باحکمت ارادہ اس کائنات پر حکمرانی کر رہا ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان فطرتاً خدا اور اس کے بہترین اوصاف کو جاننے کے لیے پیدا ہوا ہے اور علم کے جامع اصول اور حکمت کے بنیادی مبادی اس کی فطرت میں موجود ہیں، خواہ وہ ان سے غافل بھی ہو جائے۔ یہاں علم کے جامع اصول سے مراد جزئی تفصیلات نہیں بلکہ وہ عظیم اقدار اور بنیادی معیار ہیں جو خدائی اوصاف سے جھلکتی ہیں۔ یہ اقدار عقل کے لیے ایک حوالہ کا کام کرتی ہیں اور ان کے بغیر عقل کے لیے اعمال اور حالات پر فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ عقل خالی جگہ میں کام نہیں کرتی بلکہ اسے ہمیشہ کسی قدری معیار کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ چیزوں کا وزن کر سکے۔اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ انسان کے لیے کسی بھی چیز کا اندازہ لگانا بغیر کسی قدر پر انحصار کے ناممکن ہے۔ حتیٰ کہ سب سے زیادہ مجرد عقلی احکام بھی اپنے اندر قدری مفروضات چھپائے رکھتے ہیں، خواہ انسان اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اقدار معرفت میں استحکام کا پہلو رکھتی ہیں کیونکہ یہ وہ حوالہ جاتی فریم ورک فراہم کرتی ہیں جس کے بغیر علم نامکمل اور غیر مستحکم رہتا ہے۔
جہاں تک عقل کا تعلق ہے، اگر حقائق کے بنیادی اصول فطری ہیں تو عقل کا کام اس فطرت کو دریافت کرنا اور اسے واضح کرنا ہے۔ یہ کام متعدد راستوں سے انجام پاتا ہے: قرآن پر غور و تدبر کے ذریعے، کائنات کی نشانیوں پر تفکر کے ذریعےاور زندگی میں پیش آنے والے واقعات و تجربات سے عبرت حاصل کرنے کے ذریعے۔ اس مقام پر عقل حقیقت کی موجد نہیں بلکہ اس کے پردے کو کھولنے والا ہے اور اس کا بنیادی فریضہ مستقل اقدار اور بدلتے ہوئے حقائق کے درمیان ربط قائم کرنا ہے۔یہاں قرآنی نظریہ علم میں ایک متحرک پہلو واضح ہوتا ہے۔ اقدار استحکام کا پہلو پیش کرتی ہیں، جبکہ عقل کا کام خارجی موضوعات کے لیے مناسب اقدار کا تعین کرنا تبدیلی کا پہلو ہے۔ علم جامد نہیں ہے لیکن یہ اتنا بھی نسبتی نہیں کہ افراتفری پیدا ہو؛ یہ ایک مستقل بنیاد اور بدلتے ہوئے حقائق کے درمیان مسلسل حرکت اور توازن ہے۔
اسی تناظر میں قرآن کی وہ ہدایات سامنے آتی ہیں جو معرفتی غلطیوں سے بچنے کے بارے میں ہیں اور ان کا بنیادی مقصد نفس پر قابو پانا اور خواہشات و جذبات کے اثر کو محدود کرنا ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ قرآنی نقطۂ نظر میں معرفت کا مسئلہ زیادہ تر نفسیاتی نوعیت کا ہے نہ کہ صرف عقلی نوعیت کا ،ایسے میں اگر انسان کا ارادہ خواہش کے آگے سر تسلیم خم کر دےتو عقل بھی حقیقت کو ظاہر کرنے والے ذرایع کی بجائے دلیل سازی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
قرآنی نظریہ علم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انسان کو ایک مرکب وجود کے طور پر تسلیم کرتا ہے جو عقل اور خواہشات دونوں پر مشتمل ہےاور اسے محض مجرد عقل کے طور پر نہیں دیکھتا۔ صرف عقل کو تسلیم کرنا معرفتی مایوسی کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ بار بار غلطیوں کی طرف لے جاتی ہے اور صرف خواہشات کو تسلیم کرنا نسبتی سوچ کی طرف لے جاتا ہے جس میں حقیقت مدھم ہو جاتی ہے۔ جبکہ دونوں کو فطری قدری فریم ورک میں جوڑنا وہ توازن فراہم کرتا ہے جو علم کو ممکن اور معتبر بناتا ہے۔
اس طرح قرآنی نظریہ علم ایک مکمل منصوبے کے طور پر سامنے آتا ہےجو معرفت کو اخلاق سے جدا نہیں کرتا، عقل کو فطرت سے الگ نہیں کرتا اور غیب و ظاہر کے تعلق کو نہیں توڑتا۔ یہ نظریہ انسان سے آغاز کرتا ہےلیکن اسی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اسے اس کے حقیقی مقام پر واپس لاتا ہے: یعنی حق کا گواہ اور اس کے ادراک اور عمل کرنے کا ذمہ دار۔


