19 محرم 1441 هـ   18 ستمبر 2019 عيسوى 2:50 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-02-27   295

مسلمانوں کا قبلہ

 

اللہ تعالی کے لئے کوئی سمت نہیں ہے جس طرح دیگر اشیا کے لئے سمت ہے بلکہ مسلمان جس سمت کا بھی رخ کریں اس طرف خداہے، لیکن خانہ کعبہ کو بعنوان قبلہ انتخاب کرنا ایک تعبدی حکم ہے اس کی بنا پر مسلمان دوران نماز، کسی جانور کو ذبح کرتے وقت یا کسی مسلمان کے احتصار کے وقت اس طرف رخ کرتے ہیں۔

خانہ کعبہ ایک ایسی عمارت ہے جس کی کئی دفعہ تعمیر ہوئی البتہ اس کی بنیاد حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام نے رکھی۔ اس کو زمینی پتھروں کے ذریعے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ صرف ایک پتھر"حجر اسود " زمینی نہیں بلکہ یہ آسمانی ہے۔خانہ کعبہ کی قدرومنزلت اور حرمت اللہ تعالی کی طرف نسبت کی وجہ سے ہے اس عمارت کی ساخت یا اس کی تاریخی نوعیت کی وجہ سے نہیں ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا اس سمت رخ کرکے سجدہ بجالانے کامطلب بھی یہ نہیں کہ وہ اسی عمارت کو سجدہ کر رہے ہیں، بلکہ سجدہ خدا کو ہی کرتے ہیں اور کعبہ کی جانب رخ کرنا درحقیقت حکم خداوندی کی تعمیل کے لئے ہے۔

مسلمانوں کا پہلا قبلہ بیت المقدس تھا جس کی طرف انہوں نے تقریبا چودہ سال تک رخ کرکے نماز پڑھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لےگئے تو اللہ کی طرف سے نماز خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے بجالانے کا حکم ہوا۔ اس قبلہ کی طرف نما ز پڑھنے کا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی انتظار تھا جیساکہ آیہ شریفہ میں ارشاد رب العزت ہے

((قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ)) (144 ـ البقرة)  ہم آپ کو بار بار آسمان کی طرف منہ کرتے دیکھ رہے ہیں، سو اب ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کریں اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اس کی طرف رخ کرو اور اہل کتاب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق پر مبنی (فیصلہ)ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

خانہ کعبہ کے کئی نام ہیں؛مکہ،البیت،البیت العتیق، البیت الحرام،اول بیت ۔

کعبہ کو قبلہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کےلئے عبادت بجالانے کے مرکز کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ اس کےلئے لوگ دور و نزدیک سے اپنی زندگی میں ایک مرتبہ (اگر مستطیع ہوں) تو حج بجالانے کےلئے جاتے ہیں۔

فریضہ حج: اس کی تفصیل کو ہم مناسب مقام کےلئے چھوڑ دیتے ہیں

 

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018