10 رجب 1444 هـ   1 فروری 2023 عيسوى 9:47 pm کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن یعنی 10 رجب المرجب سنہ 195 ہجری کو خاندانِ رسالت کے نویں چراغ حضرت امام محمد الجواد علیہ السلام کی ولادت ہوئی، آپ نے 17 سال امامت کے فرائض انجام دیئے اور 25 سال کی عمری میں شہید ہوئے۔
مین مینو

2023-01-09   91

خمس ایک اسلامی فریضہ جو سیاست کی وجہ سے نظر انداز ہوا

خمس ایک اسلامی فریضہ ہے مگر اسے اس طرح سے ترک کیا گیا ہے کہ عام مسلمان عوام کو تو چھوڑیں بہت سے نام نہاد علما بھی اس کے بارے میں بات نہیں کرتے اور اس کی تفصیلات نہیں جانتے۔حقیقت یہ ہے کہ خمس کا وجوب سورج سے واضح ہے اور روشن دن کے طرح اس میں کوئی شک نہیں ہے۔اس پر قرآن مجید کی آیت دلالت کرتی ہے اور نبی اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ اس کی تاکید کرتی ہیں۔

اس کے بارے میں سیاسی وجوہات کی بنیاد پر  نزاع پیدا کیا گیا ہے اور بعض اوقات اس کی وجوہات مالی بھی ہیں۔کچھ لوگوں کا حسد اورکبر اس باعث بنا کہ خمس کی اہمیت کو کم کر دیں اس کی وجہ مذہبی کی بجائے سیاسی اور مالی تھی۔لوگوں نے اسلامی حکم کی بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور ایسی حکم کو ترک کر دیا جو نصوص شرعیہ سے ثابت ہے۔جب کوئی شخص اسلامی نصوص کی روشنی میں خمس کے مسئلے پر غور و فکر کرتا ہے تو اس پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خمس ایک شرعی فریضہ ہے۔حق یہ ہے کہ تھوڑی سے توجہ سے حق سچ واضح ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید میں خمس کے احکام موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ شرعی واجب ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے :

((وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّهِ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ))(سورة الأنفال ـ 41)

اور جان لو کہ جو غنیمت تم نے حاصل کی ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول اور قریب ترین رشتے داروں اور یتیموں اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو ہم نے فیصلے کے روز جس دن دونوں لشکر آمنے سامنے ہو گئے تھے اپنے بندے پر نازل کی تھی اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔

اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کریں گے تو خمس کی حقیقت مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے اور حق سامنے آ جاتا ہے کہ خمس ایک  اسلامی فریضہ ہے۔

اس آیت مجید  میں لفظ غنمتم آیا ہے یہ غنیمت سے ہے اصطلاح میں غنیمت وہ مال ہے جو لڑائی کے نتیجے میں کفار سے حاصل کیا جاتا ہے وہ مال نہیں جو صلح کے نتیجے میں پیش کیا جاتا ہے کیونکہ غنیمت کا تعلق  فقط میدان جنگ سے ہے۔آیت مجید میں جو چیز  "من شی" سے مراد ہے وہ مال ہے مال کے بدلے کوئی اور چیز نہیں ہے۔اگرچہ  اہل لغت نے غنیمت سے مراد ہر وہ چیز لی ہے جو بغیر مشقت کے حاصل کر لی جائے۔جب کہا جاتاہے کہ یہ چیز غنیمت سے ملی تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے لینے میں کامیاب ہوا۔اسی لیے غنم الشئ یعنی فاز الشئ ہوتا ہے۔اس چیز کو بلا مشقت  لے لیا اور بغیر جدو جہد کے پالیا۔اسی لیے خمس کی بحث فقہ و لغت ہر دو میں ہوتی ہے۔ اس کی کچھ تشریح کریں گے بالخصوص جب قرآن مجید کی آیت کریمہ میں یہ جنگ کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔بادی النظر میں یہ بات قابل فہم نہیں ہے کہ جنگ اور شدید معرکہ کی جدو جہد کو  مشقت اور جدوجہد شمار نہ کیا جائے۔

یہ بات ملحوظ رہے کہ لفظ غنم کا اطلاق ہر چیز پر ہوتا ہے اور یہ صرف مال کو نہیں کہتے۔عام مادہ سے بنی تمام اشیاء بھی غنائم میں داخل ہے جیسے تلواریں،گھوڑے،خیمے وغیرہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ غنیمت میں ہر چیز داخل ہے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا))(سورة النساء ـ94)

اے ایمان والو! جب تم راہ خدا میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو، تم دنیاوی مفاد کے طالب ہو، جب کہ اللہ کے پاس غنیمتیں بہت ہیں، پہلے خود تم بھی تو ایسی حالت میں مبتلا تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا تحقیق سے کام لو، یقینا اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

جب یہ بات طے ہو گئی کہ لفظ غنمتم ایک عمومی لفظ ہے جس میں تمام طرح کے منافع اور فوائد شامل ہیں جو بھی  کوئی بندہ حاصل کر سکتا ہے تو  ہم اسے مشقت  اور بغیر مشقت سے خاص نہیں کر سکتے بلکہ جو فائدہ کسی بھی طرح سے حاصل ہوتا ہے  مشقت بغیر مشقت ہر دو پر خمس ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ اہلبیت نبیﷺ نے تمام طرح کے منافع پر خمس کو واجب قرار دیا ہے وہ جنگ سے حاصل ہوں یا تحفہ وغیرہ کے ذریعے ملیں ان پر خمس ہو گا خمس کے واجب ہونے میں کوئی قید شرط نہیں ہے کہ وہ خاص منافع پر ہو اور باقی پر نہ ہو یہ خمس کے وجوب پر اہم دلیل ہے۔

آیت شریفہ  اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر شخص کو حاصل ہونے والے مال پر چاہیے وہ جنگ کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر جنگ کے حاصل ہو وہ شخص لڑنے والا ہو یا لڑنے والا نہ ہواس پر خمس واجب ہے۔نبی اکرمﷺ کی عبدالقیس اور اس کی قوم کو کی گئی وصیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا:گواہی دو کہ اللہ صرف ایک ہے،محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز پڑھو،زکوۃ ادا کرو،ماہ مبارک رمضان کے روزے رکھو اور ہر طرح کے منافع پر خمس ادا کرو۔۔۔اس کے علاوہ نبی اکرمﷺ کے ان دسیوں خطوط سے بھی خمس کی تائید ہوتی ہے جو آپﷺ نے قبیلہ بنی  قیل ،قبیلہ بنی قیس،قبیلہ بنی جرمز،قبیلہ  اجنادہ،قبیلہ مالک بن احمر،قبیلہ صیفی بن عامر  شیخ بنی ثعلبہ ،قبیلہ فجیع،قبیلہ نھشل بن مالک  جو کہ بنی عام کے سربراہ تھے ان کے ساتھ وہ بھی شامل  کر لیں جو آپ نے حمیر اور یمن کے بادشاہ کو لکھے تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔

مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ہم خمس کی تعریف کچھ یوں کر سکتے ہیں کہ یہ آیات قرآنی اور احادیث کی روشنی میں ایک مالی فریضہ ہے اور اس کی مقدار بیس فیصد ہے جو جنگ کے مال غنیمت پر فرض ہے،اسی طرح وہ مال جو زمین سے خزانوں کی شکل میں نکالا جاتا ہے کچھ شرائط کے ساتھ،اسی طرح وہ مال جس میں حلال و حرام مخلوط ہو چکے ہوں،وہ مال جو تجارت میں منافع کے ذریعے حاصل ہواور اسی طرح اس زمین کی قیمت جو کوئی ذمی مسلمان سے خریدتا ہے ان سب پر خمس واجب ہے۔

خمس ہر اس بالغ پر واجب ہے جس کے پاس مذکورہ اموال میں سے کوئی موجود ہو اور شرط یہ ہے کہ اس پر ایک سال گزر گیا ہو یہ اس وقت واجب نہیں ہوتا جب مسلمان محتاج اور فاقہ کی حالت میں ہو،اسی طرح خمس اس مال پر بھی نہیں ہے جو کوئی انسان اپنی شخصی ضروریات پر جو کچھ خرچ کرتا ہے جیسے کھانے، پینے، پہننے، رہنے ، علاج معالجے اور سفر پر، اس پر خمس نہیں ہے۔ دقیق الفاظ میں کہیں تو خمس اس مال پر ہے جو کسی فرد  کے اپنے اور اپنے متعلقین کے اخراجات سے زائد ہو جو اوس نے تجارت اور دیگر کاروباری ذرائع  جیسے صنعت، تجارت، زراعت، کرایہ، رہن، خدمات جیسے درزی،لوہار،ترکھان ،شکار اور دیگر صنعتوں میں کام پر اجرت وغیرہ سے حاصل کرے۔

خمس کا اطلاق ہر طرح کے فائدہ پر ہوتا ہے اگرچہ وہ فائدہ بغیر مشقت اور کوشش کے ہی حاصل ہوا ہو جیسے تحفہ،ہبہ،انعام،وصیت، میراث پر خمس نہیں ہےاسے استثنی حاصل ہے۔اسی طرح خمس ان خدمات کے نتیجے میں حاصل ہونےو الے منافع پر بھی ہوتا ہے جو انسان کسی بھی خدمت کے عوض اسلامی حکومت سے پاتا ہے۔خمس خرچ کرنے کے موارد معین ہیں اور ن میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔قرآن مجید کی آیت کی روشنی میں خمس  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے،نبی اکرمﷺ کےخاندان والوں کے لیے ہے وہ ہاشمی سادات ہیں جو اولاد فاطمہؑ ہوں،اس کے بعد یتیم و مسکین اور مسافر شامل ہیں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((.... لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ....))(سورة الأنفال ـ41)

اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول اور قریب ترین رشتے داروں اور یتیموں اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔۔۔

یہاں لفظ  للہ سے اللہ تعالی سبحانہ کا حصہ پتہ چلتا ہے۔

ورسولہ سے نبی اکرمﷺ کے حصہ کی وضاحت ہوتی ہے۔

ولذوی القربی سے سادات کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔فقہ میں تین حصوں کو مال امام سمجھا جاتا ہے۔

والیتامی سے نبی اکرمﷺ کی اولاد جو حضرت زہراءؑ سے ہے ان کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

والمساکین سے نبی اکرمﷺ کی اولاد جو حضرت زہراءؑ سے ہے ان کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

ابن السبیل سے نبی اکرمﷺ کی اولاد جو حضرت زہراءؑ سے ہے ان کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو مسافر ہوں۔

ان تینوں پر فقہ میں سہم سادات کا اطلاق ہوتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے اسلام میں خمس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے جمع کرنے والے معین فرمائے۔نبی اکرمﷺ نے حضرت علیؑ کو یمن کا خمس جمع کرنے کے لیے معین فرمایا۔یمن کے لوگوں نے بغیر کسی جنگ کے اسلام کو قبول فرمایا۔اسی طرح عمرو بن حزم کو عمان کے خمس کو جمع کرنے کا کہا اور اسی طرح محمیہ بن جزء کو بنی زبید کے خمس جمع کرنے پر متعین کیا۔نبی اکرمﷺ کی شہادت کے بعد سیاسی وجوہات کی بنیاد پر اس فریضہ سے دوری اختیار کی گئی۔خلفاء نے  اس خمس کے پیسے کو لشکروں کی آمادگی اور حملوں پر خرچ کیا اور اس عمل کو اسلامی فتوحات کا نام دیا۔یہ نص قرآنی کے مقابل اجتہاد تھا،نبی اکرمﷺ کے قول و فعل کے خلاف اجتہاد تھا۔دوسرے کی سیاست بھی اسی پر رہی ،تیسرے کے دور میں خمس اس کے  اردگرد کے لوگوں کو دیا جاتا رہا۔ائمہ اہلبیتؑ کی یہ کوشش رہی کہ خمس کو اس کی اصلی حالت میں برقرار رکھا جائے اور نبی اکرمﷺ کی سنت کے مطابق عمل کیا جائے جیسا قرآن و سنت میں حکم دیا گیا ہے۔کسی نے حضرت علیؑ سے پوچھا میرے پاس کچھ مال ہے مجھے معلوم نہیں یہ حلال ہے یا حرام ہے میں کیا کروں ؟ آپؑ نے جواب دیا اس مال سے خمس ادا کرو اس طرح اللہ خمس کے ذریعے تم سے راضی ہو جائے گا۔۔۔۔امام صادقؑ نے فرمایاجو کچھ کانوں،سمندروں،غنیمت،حلال و حرام مکس جب اس کے مالک کا بھی علم نہ ہو اور خزانے ان سب پر خمس ہے۔آپؑ کے بیٹے امام موسی کاظم ؑ کا فرمان ہے غنائم میں سے پانچ پر خمس ہے اور غواصی،خزانے اور معدنیات پر  خمس ہے۔

 

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018