15 جمادي الاول 1444 هـ   9 دسمبر 2022 عيسوى 12:07 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2022-11-17   58

عورت قرآن کریم کی روشنی میں (وجود اور مقام)

بعض لوگ عام زندگی میں عورت کے کردار کو بہت سطحی  نگاہ سے دیکھتے ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں عورت کی شراکت داری کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دیتے ۔  جبکہ یہی لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ عام زندگی اور معاشرے میں عورت بہت بڑی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ عورت جہاں ایک طرف اپنے حیاتیاتی (بائیولوجیکل) اور نفسیاتی( سائیکالوجیکل) روپ میں منفرد کردار کے ساتھ نظر آتی ہے  تو دوسری طرف یہ معاشرتی اور اجتماعی ذمہ داریوں میں مرد کے برابر بلکہ بعض اوقات مرد سے بھی زیادہ ایسا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتی ہے، جو مرد بھی نہیں کر سکتے۔

چونکہ عورت اپنی خلقت اور زندگی کے امور میں مرد کے برابر ہے تو لازمی طور پر شرعی تکالیف اور واجبات میں بھی مرد کے برابر ہے۔ کیونکہ یہی واجبات اور تکلیف شرعی وہ معیار ہیں جن کی بنیاد پر انسان اپنے رب کا قرب حاصل کرسکتا ہے اور جنت کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔ عورت کو یہ مقام قرآن کریم نے دیا ہے، جسے واضح طور پر قرآن کریم میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم نے سب سے پہلے عورت کی شخصیت کو مستقل اور کامل قرار دیتے ہوئے اسے ایک باوقار اور صاحب اختیار شخصیت قرار دیا ہے۔ پھر اسے اپنی زندگی کے معاملات کی مدیریت کرنے اور اپنے دینی امور کو منظم کرنے کی آزادی وغیرہ بھی دی ہے۔

الغرض ہمیں قرآن کریم میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی ہے جو عورت کو کسی طور پر بھی کسی سے کم تر شمار کرنے کا سبب بنے۔ یقینا اللہ تعالیٰ  عورت کو کسی طور پر کمتر دکھانے سے منزہ ہے۔ اسی طرح قرآن کریم نےاگرعورت کو مرد کے تابع قرار دیا ہے تو بھی اس کی قدر و قیمت میں کسی قسم کی کمی نہیں کی ہے۔ خاص کر دینی امور اور عبادات میں عورت کو قطعاً کسی سے کمتر قرار نہیں دیا ہے۔ اگر چہ بعض لوگوں کو ایسا گمان ہوا ہے کہ عورت ہمیشہ مرد کے زیر تسلط ہے۔ جبکہ یہ فقط ایک گمان سے زیادہ کچھ اور نہیں کہ جو کسی صورت حق سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس قوامیت کا مطلب کسی قسم کا زور، غلبہ اور زبردستی نہیں بلکہ خود عورت ہی کی مصلحت کی خاطر مرد پر واجب کیا گیا ایک حق ہے جس کا مرد کو پابند بنایا گیا ہے۔

اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے کہ عورت کی اپنی  ایک الگ اور مستقل شخصیت ہے، خاص کر ایمان اور عقیدے کے حوالے سے عورت کو کسی کے بھی زیرتسلط قرار نہیں دیا گیا بلکہ اللہ تعالی  یہ قبول ہی نہیں کرتا کہ عورت اس معاملے میں اپنی عقل کے علاوہ کسی اور کی بھی تابع ہو۔ خاص کرا مور عقیدہ ، دین،  طہارت اور عبادات میں یہ کسی کی بھی تابع نہیں  ہے۔ اس کی ایک بہترین مثال جو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے وہ حضرت آسیہ علیہا السلام بنت مزاحم کی ہے جو فرعون کی بیوی تھیں،  فرمایا:

((وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ))(سورة التحريم ـ 66)

اور اللہ نے مومنین کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کی ہےکہ جب  اس نے دعا کی: اے میرے رب! جنت میں میرے لیے اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کی حرکت سے بچا اور مجھے ظالموں سے نجات عطا فرما۔

جس طرح حضرت آسیہ علیہا السلام باوجود اس کے کہ فرعون کی زوجیت میں تھیں تاہم اس کی تمام تر سرکشی اور قساوت قلبی کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہیں۔ خاص کر جب فرعون کو علم ہوا کہ حضرت آسیہ علیہا السلام  بھی حضرت موسی علیہ السلام کے دین پر ایمان لے آئی ہیں  تو اس کی قساوت قلبی میں مزید اضافہ ہوا اور اس سے سختی سے حضرت آسیہ علیہا السلام کو دین موسی کی پیروی سے منع کیا لیکن حضرت آسیہ علیہا السلام صاف انکار کرتے ہوئے  نہ فقط حق اور حقیقت کا پرچار کرنے میں مصروف رہیں بلکہ آپ  ہمیشہ اللہ تعالی کے دین سے مربوط رہیں اور فرعون کی جعلی خدائی اور دیگر واہیات کی کھل کر مخالفت کی۔

  آخر میں معاملہ آپ علیہا السلام کو قتل کیے جانے تک جا پہنچا تو آپ نے بخوشی  اللہ تعالی کی راہ میں شہادت کو قبول کرنا پسند کیا۔  لہذا تاابد عورتوں کے لیے ایک مثال بن گئیں اور عالمین کی خواتین  کے چار سرداروں میں سے ایک قرار پائیں۔ کیونکہ انہوں نے فرعون کے تمام تر غرور اور تکبر کو خاک میں ملاتے ہوئے اس کا ناجائز حکم ماننے سے انکار کیا جس کا اندازہ اس کی بات سے ہوتا ہے جسے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نقل فرمایا ہے:

((وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِۦ قَالَ يَٰقَوْمِ أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ ٱلْأَنْهَٰرُ تَجْرِى مِن تَحْتِىٓ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ))(سورة الزخرف ـ 51)

اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا: اے میری قوم! کیا مصر کی سلطنت میرے لیے نہیں ہے، اور یہ نہریں جو میرے (محلات کے) نیچے بہ رہی ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟

لیکن حضرت آسیہ علیہا السلام نے فرعون کی ساری نخوت اور متکبرانہ سلطنت کو مسترد کیا اور اس کی سلطنت میں حاصل تمام مراعات اور دنیاوی فوائد کو ٹھکرایا جسے اللہ تعالی نے قرآن کریم کا حصہ بناتے ہوئے  کچھ یوں نقل فرمایا :

((وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ٱبْنِ لِى عِندَكَ بَيْتًا فِى ٱلْجَنَّةِ وَنَجِّنِى مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ))(سورة التحريم ـ 11)،

اور اللہ نے مومنین کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال پیش کی ہے، اس نے دعا کی: اے میرے رب! جنت میں میرے لیے اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کی حرکت سے بچا اور مجھے ظالموں سے نجات عطا فرما۔

لہٰذا قرآن کریم نے باطل سے انکار اور ہر قسم کے ظلم و بربریت کو مسترد کرنے کی وجہ سے حضرت آسیہ علیہا السلام کی عظمت کا اعلان فرمایا۔اسی لئے حضرت آسیہ علیہا السلام کے لئے جہاں اللہ تعالی کے ہاں بڑا بلند مقام حاصل ہے ، وہاں ان کا کردار ایک قرآنی مثال بھی قرار پایا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کا کردار عورت کے استقلال کے لیے ایک دلیل بن گیا ۔ خاص کر اگر عورت کسی ایسے مرد کی زوجیت میں ہے کہ اگر وہ مرد اللہ تعالی کی رضایت کے خلاف عورت پر کسی قسم کی زبردستی کرنا چاہے تو عورت پورے استقلال کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے۔ یہ معاملہ صرف حضرت آسیہ علیہا السلام تک محدود نہیں بلکہ اور بھی قرآنی شواہد موجود ہیں جو عورت کے استقلال پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے حضرت مریم علیہا السلام کی مثال ہے کہ جب معاشرہ کسی بھی بات پر عورت کے عذر کو قبول نہیں کرتا تھا تب حضرت مریم علیہا السلام پوری قوت کے ساتھ اپنی پاکیزگی کا اعلان فرماتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پس یہاں بھی عورت کا کردار مثالی ہے۔واضح رہے کہ قرآن کریم  ان مثالوں کو اس لئے بیان کرتا ہے تاکہ ہر معاشرے میں عورت کو اس کے دین کے خلاف اٹھنے والے معاشرتی نفوذ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملے اور عورت اپنے رب کے اوامر و نواہی پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کر سکے۔

حضرت مریم علیہا السلام بخوبی جانتی تھیں کہ ان کی قوم جو انبیاء اور مصلحین کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی ، بھلااسے حضرت مریم جیسی ایک خاتون کو قتل  کرنا کوئی مشکل کام تھا۔ مگر پھر بھی آپ علیہا السلام پوری قوت کے ساتھ کھڑی رہیں۔

حضرت مریم علیہا السلام کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ جس پر آپ  علیہا السلام کو کمال بہادری سے استقامت دکھانا پڑا وہ آپ کی پاکدامنی پر لگنے والا داغ تھا۔ جب سارا معاشرہ آپ کی پاکدامنی پر شک کر رہا تھا  اور آپ کی کسی بات پر یقین ہی نہیں کر رہا تھا، بلکہ آپ کی جانب سے دی جانے والی صفائی پر شدید رد عمل دکھا رہا تھا اور فحش نسبتیں دے کر آپ کی ہتک حرمت کر رہا تھا۔ ایسے میں آپ کو اپنے حق اور اپنی پاکدامنی کے لئے استقامت کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا جسے قرآن کریم نے کچھ  یوں بیان فرمایا:

((وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ))(سورة التحريم ـ 12)

اور مریم بنت عمران کو بھی (اللہ مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی روح میں سے پھونک دیا اور اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔

اسی بنا پر حضرت مریم علیہ سلام اللہ تعالی کی پسندیدہ خاتون قرار پائیں چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:

((يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ))(سورة آل عمران ـ 43).

اور (وہ وقت یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا: اے مریم!بیشک اللہ نے تمہیں برگزیدہ کیا ہے اور تمہیں پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں دنیا کی تمام عورتوں پر برگزیدہ کیا ہے۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔

چونکہ قرآن کریم عورت کے بارے میں عدل اور حق پر مبنی نگاہ رکھتا ہے اس لئے ہم قرآن کریم میں  متعدد مقامات پر دیکھ سکتے ہیں کہ عورت کے استقلال کی بات کی گئی ہے۔ بلکہ بعض مقامات پر تو قرآن کریم عورت کی حکمت اور دانش مندی کا اقرار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ چنانچہ حضرت بلقیس بنت شرحبیل کی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی دانشمندی کی ایک مثال نقل کرتا ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی جانب سے خط موصول ہونے کے بعد ایمان قبول کرنے یا جنگ کے لیے آمادہ ہونے کی بات سامنے آگئی تو ملکہ سبا کی حیثیت سے انہوں نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے جنگ کی بابت مشورہ لیا ۔

)قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ))(سورة النمل ـ 32(

ملکہ نے کہا: اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو، میں تمہاری غیر موجودگی میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کیا کرتی۔کیونکہ حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ ان پُرعزم اور ہمت و حوصلے والے مشیروں سے رائے لی جائے۔  جب انہوں نے اپنی قوت اور طاقت کے بل بوتے پر جنگ کرنے کا مشورہ دیا:

((...... نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ ..... ))(سورة النمل ـ 33)

 ہم طاقتور اور شدید جنگجو ہیں ۔

تب حضرت بلقیس ایک خاتون ہونے کی وجہ سے ان کی رائے سے مرعوب ہوکر قانع  نہ ہوئیں،  بلکہ اپنی  حکمت اور دور اندیشی کی بنا پر جنگ کرنے سے انکار کیا اور کہا:  اگر بادشاہ کسی شہر میں داخل ہو جائیں تو لازماً اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔  قرآن کریم نے بھی حضرت بلقیس کی اسی دوراندیشی کو اپنے دامن میں جگہ دیا۔  چنانچہ فرمایا:

 ((إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا))(سورة النمل ـ 34)، 

 ملکہ نے کہا: بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کرتے ہیں .

جنگ کی رائے کو ٹھکرانے کے بعد حضرت بلقیس نے بڑی ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں جاننے کی کوشش کی کہ سلیمان علیہ السلام  واقعاً اللہ کے نبی ہیں (جیسا کہ کہا گیا ہے)  یا فقط ایک بادشاہ ہیں۔  چنانچہ اس بات کو جاننے کے لیے انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف کچھ تحائف بھیجے۔

((وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ))(سورة النمل ـ 35)،

 اور میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیج دیتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ ایلچی کیا (جواب) لے کر واپس آتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے اس خط کا جواب آیا :

((فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ (36) ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ ))(سورة النمل ـ 36 ـ 37)،

پس جب وہ سلیمان کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا: کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے جب کہ تمہیں اپنے ہدیے پر بڑا ناز ہے۔ (اے ایلچی) تو انہیں کی طرف واپس پلٹ جا، ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر ضرور آئیں گے جن کا وہ مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور ہم انہیں وہاں سے ذلت کے ساتھ ضرور نکال دیں گے اور وہ خوار بھی ہوں گے۔

 جب یہ جواب موصول ہوا تو حضرت بلقیس علیہا السلام کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام  نہ فقط ایک طاقتور بادشاہ ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نبی بھی ہیں اور ان کے پاس رسالت کا مقام بھی ہے۔  اس کے برعکس اس کی قوم کے پاس نبی اللہ سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے۔  چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے تسلیم ہوئیں اور ایمان قبول کیااور اس کے  ساتھ ہی نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنی سابقہ زندگی میں ایمان سے دور رہ کر  اپنے نفس پر ظلم کرنے کا اقرار بھی کیا۔

((.....إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ))(سورة النمل ـ 44)

ملکہ نے کہا: پروردگارا! میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان ؑ کے ساتھ رب العالمین اللہ پر ایمان لاتی ہوں۔

پس اسی لامتناہی حکمت و دانشمندی اور اخلاقی جرات و شجاعت کی بناء پر حضرت بلقیس علیہا السلام کو دنیا کی باقی خواتین کے لئے قابل تقلید اور نمونہ عمل قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس غیر معمولی ذہانت و ہوشیاری اور حکمت و دانشمندی کو قرآن کریم نے واضح لفظوں میں سراہا ہے اور انہیں قابل احترام اور قابل تقلید شخصیت قرار دیا ہے۔

پس ان قرآنی شواہد اور قصوں کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت ہر قسم کی طغیانی اور تجاوز گری  سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے اورکفر کے مقابلے میں پوری قوت سے کھڑی ہوسکتی ہے، اگرچہ کفر اپنے پورے عروج پر ہی کیوں نہ ہو ۔ جیسا کہ حضرت آسیہ علیہا السلام کے کردار سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں قرآن کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشرتی دباؤ جس قدر زیادہ اور جتنا بھی شدید ہو، ایک عورت نا فقط اس سے مقابلہ کر سکتی ہے۔ بلکہ حق کو ثابت کرنے کے لئے عورت پوری طرح ثابت قدم رہ کر معاشرے کو فتح کر سکتی ہے۔ اسی  طرح حضرت بلقیس علیہا السلام کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت اور دانش مندی رکھنے والی ایک عورت بڑے بڑے عزم و حوصلہ اور طاقت رکھنے والوں کی بھی ملکہ بننے کی اہلیت رکھتی ہے اور بڑے عقلمند مشیروں کی رائے سے زیادہ عورت کی رائے درست ثابت ہو سکتی ہے۔

بس انہی بنیادوں پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ  صنف نسواں کو تاریخ میں اپنا ممتاز کردار ادا کرنے کے حوالے سے کوئی ممانعت نہیں اور عورت اگرپورے عزم و استقلال کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہے تو اسے زور زبردستی کے ساتھ کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔قرآن کریم نے عورت کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے اور بھی قصے بیان کیے ہیں جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت نا فقط انسانیت اور تکلیف شرعی کے لحاظ سے مرد کے برابر ہے بلکہ عورت  اپنی صفات کی وجہ سے اللہ تعالی کی برگزیدہ شخصیت بھی بن سکتی ہے۔

ان قرآنی شواہد کے علاوہ ہمارے پاس بہت سے دیگر تاریخی قرائن اور شواہد بھی موجود  ہیں کہ عموم انسانی اور اسلامی تاریخ ایسی عظیم خواتین کے ذکر سے بھری ہوئی ہے،  جنہوں نے ثابت کیا ہے کہ عورت بھی تاریخ میں نہایت شاندار اور مثالی کردار ادا کرسکتی ہے ۔  پس یہ خواتین نہ صرف عورتوں کے لیے مثال بن سکتی ہیں بلکہ بعض خواتین تو مردوں کے لیے بھی نمونہ عمل اور مثال بھی بن جاتی ہیں اور  ایسی مثالوں میں سب سے اہم ترین مثال جناب سیدہ طاہرہ حوراء انسیہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ذات والاصفات ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018