15 جمادي الثاني 1443 هـ   19 جنوری 2022 عيسوى 10:12 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2022-01-11   24

طاغوت کا قرآنی مفہوم

ہر تحریک کی بنیاد کچھ فکری نظریات پر ہوتی ہے ہر انسانی تہذیب میں چلنے والے تحریکوں میں ایسا ہی رہا ہے ہم جس مرضی تہذیبی تحریک کو دیکھ لیں اس میں ہمیں کچھ نظریات ملیں گے جو اس تحریک کی بنیاد ہوں گے جس پر یہ تحریک اپنا سفر طے کرے گی۔اس بنیاد پر اسلام بھی ایک تحریک تھا اس نے بھی اپنے شعائر اور اپنے نظریات و شناخت کی بنیادیں تاسیس کیں۔اس پر سب سے بڑا گواہ قرآن ہے،جو بھی قرآن مجید کی آیات پر غور و فکر کرتا ہے وہ ان تمام چیزوں کو دریافت کر لیتا ہے جو انسان یا معاشرے کی کسی بھی تحریک کی بییاد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ دونوں آگے بڑھتے ہیں۔

وہ مفاہیم جن کو قرآن نے بیان کیا ہے ان میں سے ایک طاغوت کا مفہوم بھی ہے۔ ہم اسے قرآن مجید میں آٹھ سے زیادہ مقامات پر مذکور پاتے ہیں اور اس کے مشتقات کو کئی اور مقامات پر بھی دیکھ سکتے ہیں جیسے قرآن مجید میں لفظ طغی کی تعبیر آئی ہے اسی طرح لیطغی اور اس طرح کے دیگر الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو طاغوت سے ماخوذ ہیں۔

ہم سب سے پہلے لغت عرب میں دیکھتے ہیں کہ علمائے لغت نے لفظ طاغوت کے کیا معانی بیان کیے ہیں اور پھر ہم اس کا مقایسہ قرآن میں مذکور معانی کے ساتھ کریں گے تاکہ ہمیں قرآن کریم اور لغت میں اس کے استعمال کے معنی میں مناسبت کا پتہ چل سکے۔ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا تو پھر ہم لفظ طاغوت سے متعلقہ دیگر ابحاث کو پیش کریں گے۔ لفظ طاغوت کی عربی میں اصل کچھ یوں ہے: طَغَيَ وطَغَوَ؛ يَطغَى؛ طُغيانا یعنی کسی چیز یا مقدار کا حد سے بڑھ جانا اور اس کی صفت طاغیہ، طاغ اور ظاغوت آتی ہے۔ طاغوت فعلوت کے وزن پر ہے جیسے جبروت ،ملکوت اور برہوت آتا ہے اس کی تاء اس اصلی نہیں ہے بلکہ یہ تاء زائدہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ طاغوت در اصل طغی سے صفت مبالغہ ہے اسی سے لفظ طاغوت کا معنی سامنے آتا ہے کہ وہ جو مناسب مقدار سے بڑھ جائے یا متعین حد سے تجاوز کر جائے۔

اگر ہم لفظ طاغوت کے معنی اور اس کے قرآنی استعمال کی تطبیقات کو دیکھیں گے تو ہم لفظ طاغوت کے لغوی معنی اور قرآن میں اس کے استعمال کے درمیان مناسبت کو دیکھیں گے۔ وہ معنی جو قرآن مجید میں قصہ حضرت نوح ؑ میں وارد ہوا وہ کچھ یوں ہے:

((إِنَّا لَمَّا طَغَا الماء حملناكم في الْجَارِيَةِ))(سورة الحاقة:۱۱)

جب پانی میں طغیانی آئی تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کیا۔

وہ یہ ہے کہ جب پانی نے زمین میں اپنی طبعی حد کو پار کیا تو وہ طوفان بن گیا۔ پھر اللہ نے حضرت نوحؑ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی پر سوار کرایا تاکہ وہ طوفان سے ہلاک نہ ہو جائیں۔جہاں تک قرآن مجید کی دوسری آیت کا تعلق ہے وہ حضرت موسی ؑ اور حضرت ہارونؑ سے متعلق ہے جب یہ مصر میں فرعون کو اللہ کا پیغام دینے گئے تھے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى))(سورة طه ـ 43)

دونوں فرعون کے پاس جائیں کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔

یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ حد سے بڑھ جانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے مگر یہ حد سے بڑھنا وہ جن کا تعلق عقیدہ کے مسائل سے ہے۔ فرعون نے اس حد سے تجاوز کیا ہے جس سے عام انسان تجاوز نہیں کرتا بطور حاکم اور بطور بادشاہ بھی اس سے آگے نہیں بڑھتا ۔وہ اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ اپنی عبادت کرانے لگا جو کہ اللہ جل شانہ کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ ساری تفصیل اس قصے میں بیان کر دی گئی ہے۔

مندرجہ بالا سے طغیان کا لغت اور قرآن کریم میں معنی واضح ہو جاتا ہے۔اب یہ ممکن ہے کہ ہم لفظ طاغوت کو اللہ کی کتاب میں دیکھیں۔ جس معنی کا پتہ چلا اس سے اسی طرح اس کا بھی پتہ چلا کہ یہ حد سے بڑھ جانا کو شامل ہے اور کسی بھی دائرے کو پار کرجانے کو کہتے ہیں جو زمین پر جابر اور متکبر ہے اور ایسی بات کا مدعی ہے جس کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔

ساری بحث کی بنیاد پر قرآن میں لفظ طاغوت یہ معنی دیتا ہے کہ انسان کا اس حد کو پار کر جانا جس کا تقاضا انسان کی طبیعت بطور انسان ،بطور حاکم اور بطور بادشاہ کرتی ہے۔وہ شخص اس درجے پر پہنچ جاتا ہے جس کا اسے حق نہیں ہوتا جیسے کہ اپنی عبادت کرانا کیونکہ یہ وہ حق ہے جو اللہ کا ہی ہے اس کے علاوہ کسی کا نہیں ہو سکتا۔اس لیے قرآن نے ان تمام متشدد خیالات اور احکام کہ جن افراد میں یہ پائے جاتے ہیں صفت طغیان کو استعمال کیا ہے اور ایسے لوگ طغیان کا واضح مصداق ہیں۔ جو کسی شدت سے انکار اور منع کرتے ہیں وہ طاغوت کے اثر میں ہیں وہ اسی کی رضا کے لیے فیصلے کرتے ہیں اور اسی کے راستے میں لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں اور اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ ضروری تھا کہ طاغوت کا انکار کیا جاتا ہے اور اس کے راستہ پر نہ چلا جاتا۔

جب آپ سورہ بقرہ اور سورہ نحل کی ان آیات کو دیکھیں گے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ طاغوت کا انکار کرنا اور اس کی دعوت سے بیزاری اختیار کرنا ضروری ہے۔ اس تنبیہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی فرد انفرادی طور پر طاغوت کے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالی اس سے بہت ناراض ہوتا ہے۔ یہ معاملہ سورہ بقرہ میں آئی آیت کی روشنی میں مزید واضح ہو جاتا ہے جس میں اللہ نے مومن کے لیے اپنی ولایت اور غیر مومن کے لیے طاغوت کی ولایت کا فرمایا ہے اور طاغوت کی عبادت کو ترک کرنے کو ایمان کا مقدمہ قرار دیا ہے۔

جہاں تک سورہ نساء کی تین آیات ہیں ان میں جو نہی کی جا رہی ہے اس کا موجب وہ جو طاغوت پر ایمان لایا اور وہ اہل کتاب میں سے ہے وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ ہدایت پر ہے اور وہ ان میں سے ہے جو ایمان لائے۔ ہم یہ بات جان چکے ہیں کہ انسان کو کسی بھی صورت میں طاغوت کے انکار کو ترک نہیں کرنا چاہیے اور طاغوت پر ایمان لانا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ کیونکہ دوسری آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاغوت کی حکومت کو اللہ نے پسند نہیں فرمایا بلکہ ان کی مذمت کی ہے جو طاغوت کی طرف دعوت دیتے ہیں ان کے اس عمل کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کسی بھی صورت میں مومن کے کافر کے ساتھ تعامل کو جائز قرار نہیں دیتا۔ مومن اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں اور غیر مومن طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں طاغوت کے لیے لڑنے والے شیطان کے دوست ہیں اور شیطان اللہ کی زمین پر اللہ سے دشمنی کرتا ہے۔

اسی پیرائے میں اللہ تعالی نے سورہ مائدہ میں طاغوت کے بندے بن جانے والوں کی مذمت کی ہے اور ایسے لوگوں کو سب سے ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور انہیں اہل جہنم میں سے قرار دیا ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو اپنے رحمت سے خارج قرار دیا ہے اور یہ لوگ غضب خدا کے سزاوار ہیں اور یہ وہی ہیں جنہیں اللہ نے خنزیر اور بندر قرار دیا۔

سورہ نحل ۳۶ اور سورہ زمر ۱۷ کی آیتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ طاغوت کی عبادت سے پرہیز کرنا ضروری ہے ان میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے رسول بھیجے ہیں کہ وہ لوگوں کو یہ پیغام دے دیں کہ صرف اور صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا جائے۔اس تبلیغ کے بعد کچھ لوگوں نے اطاعت اور فرمانبردار کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کی عبادت کی اور کچھ لوگ نافرمان ہو گئے اور ضلالت و گمراہی کا راستہ اختیار کیا کیونکہ اللہ تعالی نے جھٹلانے والوں کی جو عاقبت قرار دی ہے وہ قابل تعریف نہیں ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی ہے جنہوں نے طاغوت سے اجتناب کیا، اس کی عبادت سے رکے ان کے لیے عاقبت حسنہ ہے۔

ہم نے قرآن مجید کی آٹھ آیات کی روشنی میں طاغوت کے مفہوم کو واضح کیا اب دو اہم امور کی طرف توجہ کرتے ہیں:

پہلا:فرد اور طاغوت کے درمیان تعلق کی نوعیت یا تو یہ ہے کہ انسان سے اسے مکمل طور پر ترک کر دیا ہے یا انسان طاغوت کے انکار کے واجب ہونے اور اس سے اجتناب کے ضروری ہونے کے حکم کو نہیں جانتا اس نہ جاننے کی وجہ سے وہ طاغوت کے ساتھ ہو جاتا ہے اس کی حکومت میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ طاغوت کی راہ میں لڑنے والا بن جاتا ہے وہ ایسا نہ جاننے کی وجہ سے بنا تو وہ محذور ہے۔

دوسرا:وہ تمام مسائل جو آیات میں گزر چکے ہیں ان کا اللہ پر ایمان اور معبودیت خدا سے براہ راست تعلق ہے۔ جب یہ واضح ہو گیا تو اس پر تامل سے اور یہ اہم بات بھی واضح ہو گئی کہ ہم کس کی پیروی کریں ،کس سے محبت کریں اور کس سے بیزاری کا اظہار کریں تاکہ ہم ایمان کے معاملے میں کسی محذور میں نہ رہیں اور کسی ایسی چیز پر ایمان نہ لائیں اور نہ ہی اتباع کریں جس پر ایمان اور جس کی اتباع سے اللہ راضی نہ ہو۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018