12 ربيع الثاني 1442 هـ   28 نومبر 2020 عيسوى 4:32 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2020-11-06   11

نبوت کے لوازمات

اللہ تعالی غنی اور کریم ہے جب وہ غنی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کو عطا کرے، دوسرے پر اپنا فضل کرے اور اپنے بندوں پر اس غنا کے ذریعے عطا کا دروازہ کھول دے۔اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو نہ ختم ہونے والی اور ہمیشہ باقی رہنے والی سعادت و کامیابی جو جنت کی شکل میں اس تک پہنچا دے۔اللہ تعالی صاحب حکمت ہے اس سے فقط حکمت سے بھرے افعال ہی صادر ہوتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو اس کے مکان پر رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ ان بندوں کے اعمال کی وجہ سے ان کو جنت یا جہنم میں اس مکان پر رکھے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے۔اس نے جنت یا جہنم کے حصول کے اختیار میں لوگوں کو شریک بنایا ہے۔اللہ تعالی نے لوگوں کو احکام اور زندگی گزارنے کے پر حکمت طریقے بتائے ہیں جو ان کے مطابق چلے گا ان کو وہی ملے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔جو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا اور اللہ نے جن امور سے روکا ہے ان سے رک جائے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو نہیں رکے گا اور احکام پر عمل نہیں کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔

اللہ تعالی کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان رابطے کے لیے ایک واسطہ قرار دیا ہے اور اس واسطہ کو نبوت کہا ہےاور اللہ نے انبیاء کو لوگوں کی طرف بھیجا ۔ان انبیاءؑ کے درمیان  بہت سے فرق ہیں کچھ پہلے آئے اور کچھ بعد میں آئے  انہوں نے اللہ تعالی کے احکام کو لوگوں تک پہچایا۔سب لوگوں کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ براہ راست احکام کو اس سے سیکھتے یہاں نبوت لوگوں اور اللہ کے درمیان واسطہ ہے۔ اللہ تعالی کے لیے از باب قاعدہ لطف ضروری ہے کہ لوگوں میں سے سب سے بہترین آدمی کو منتخب کرے جس میں اہلیت و طاقت ہو کہ وہ اس مسئولیت کا وزن اٹھا سکے۔اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ سورة الأنعام ـ 124).

اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔

اللہ کی تخلیق کا نظام ایسے ہے کہ مختلف زمانوں میں ایک کے بعد ایک نسل آتی ہے یہاں حکمت خدا کا تقاضا تھا کہ کہ زمین خدا کی حجت سے خالی نہ ہو۔بلکہ اللہ تعالی نے ان حجتِ خدا ہستیوں کو مخلوق سے پہلے بنایا۔ہماری یہاں پر حجت سے مراد نبی خدا حضرت آدم ؑ اور ہمارے سید و سردار حضرت محمدﷺ ہیں۔اس طرح انبیاء اور رسول بھیجے تا کہ اس کے بعد  لوگوں کے پاس اللہ کے مقابل کوئی دلیل نہ ہو۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ سورة فاطر ـ 24)

اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔

نبوت کا یہ بابرکت سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوتا ہے اور حضرت محمدﷺ پر اس کا اختتام ہوتا ہے اور اس کے بعد امامت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو انبیاءؑ کو بھیجنا اللہ تعالی کے عدل کے مقتضیات میں سے ہے پس نتیجہ کے طور پر یہ ضروری ہے کہ سلسلہ نبوت کی وجہ سے جو فائدہ ہوا ہے اس کا تحفظ کیا جائے۔

وہ جنہیں نبوت کے لیے چنا گیا ہے اس کی صفات میں یہ ہونا ضروری ہے کہ اللہ تعالی اس کے ہاتھ پر معجزہ کو ظاہر کرے وہ معجزہ ایسا ہو جو کسی اور کے لیے ممکن نہ ہو اور یہ عادت کے خلاف ہو یعنی ایسا ہوتا نہ ہو اور جو اس نبیؑ نے دعوی کیا ہو اس کے مطابق ہو اور یہ معجزہ اس نبی کی بھیجنے والے کی طرف سے ہونے کی تصدیق کرے۔

ضروری ہے کہ اللہ کا پیغام پہنچانے والا نبی پاک اور صحیح نسب سے ہو اور اس کی خلقت میں کوئی نقصل نہ ہو۔تخلیق اور اخلاق کی نجاستوں سے پاک ہو جو لوگوں کو اس سے دور کرتی ہوں۔اس طرح ہو کہ کوئی طعنہ زنی کرنے والا طعنہ زنی نہ کر سکے اور نہ ہی عیب نکالنے والا عیب جوئی کر سکے۔

نبی ؑ کو گفتگو اور عمل میں سچا ہونا چاہیے اس طرح کہ کوئی بھی اس پر جھوٹ ،غداری اور خیانت کی نسبت نہ دے سکے اور نہ ہی اس میں دنیا کی اور دنیا میں موجود چیزوں کا لالچ ہو۔

علم و معرفت کے اعتبار سے یہ ضروری ہے کہ نبیؑ اپنی عصر کے لوگوں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہو،بلکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ باتقوی اور زاہد ہونا چاہیے ۔اس کے ساتھ ساتھ جس کا حکم دے رہا ہے اس پر عمل کرنےو الا اور جس روک رہا ہے اس سے سب سے زیادہ بچنے والا بھی ہو۔نبی کو ظاہرو اخفا دونوں حالتوں میں تمام بری باتوں اور نقائص سے پاک ہونا چاہیے۔نبیؑ اپنے زمانے میں اس قدر معروف ہو جائے کہ لوگ کہیں ان جیسا اس زمانے میں کوئی اور نہیں ہے۔

اتمام حجت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نبی ؑ بعثت سے پہلے اور بعد میں تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک ہو اور تمام عمر چاہے وہ جتنی بھی لمبی کیوں نہ ہو پاک ہی رہے۔یہاں عصمت ہر طرح کے گناہ سے بچنا ہے چاہے وہ قصدا،سہوا یا نسیانا جس شکل میں مرضی ہو۔

نبی الہی طاقت اور اللہ کی توفیق سے ہمیشہ عقیدہ،علم،قول اور عمل میں درستگی کو اختیار کرتا ہے اور غلطی سے بچتا ہے کیونکہ اللہ تعالی نبیؑ پر خصوصی کرم فرماتا ہے اور اپنے لطف والہام سے اسے حق کا راستہ دکھاتا ہے تاکہ لوگوں کے پاس خبر لانے والے اور اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانے والے کی وجہ سے اللہ پر کوئی حجت نہ رہ جائے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018