6 صفر 1442 هـ   24 ستمبر 2020 عيسوى 12:25 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2020-08-18   29

شہرِ کوفہ

کوفہ ایک قدیم اسلامی شہر ہے ، یہ طول تاریخ میں عراقی شہروں میں سے ایک اہم شہر رہا ہے۔ کیوں کہ اس شہر نے عرب خطے کو متاثر کرنے والے بہت سے بحرانوں کا سامنا کیا ہے، چاہے وہ قدیم تاریخ میں ہوں یا عصری تایخ میں، اور یہی اس شہر کی شہرت اور مرتبہ کی وجہ بنی۔

محل وقوع کے اعتبار سے کوفہ دریائے فرات کے مغربی جانب نجف شہر کے ساتھ واقع ہے ، شمال کی طرف صوبہ بابیل کا ضلع کیفل ، مغرب میں کیری سعد ، اور مشرق میں دیوانیہ گورنری کے سنیہ اور صلاحیہ کے ذیلی اضلاع، اور جنوب میں  ابی صغیر ضلع اور الحیرہ ضلع واقع ہے۔

کوفہ، دارلحکومت بغداد (جوکہ کوفہ کے جنوب کی جانب واقع ہے)سے یہ 156 کلومیٹر دورجبکہ شہرِنجف الاشرف سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے شہر نجف جہان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شرعی جانشین امام علی علیہ السلام کا روضہ ہے۔ جس کی  آبادی تقریبا 231 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور عراقی انتظامی تقسیم کے مطابق یہ ایک مستقل ضلع ہے

کوفہ ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے یہی وجہ ہے کہ یہ شہر مختلف تہذیبی اثاثوں کا مالک  ہے۔اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ دوسرے اقوام کے تہذیب و ثقافت کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ کیونکہ اس کی تاریخ قدیم زمانے سے ملتا ہے ،، شہر کے جگہ جگہ مندروں ، خانقاہوں ، گرجا گھروں ، قلعوں اور محلات کے کھنڈرات ماضی داستان سناتے نظر آتے ہیں جن میں نوعمان ابن المندیر کا سفید محل وغیرہ قابل ذکر ہے۔

مورخین کے مطابق  بابل کے بادشاہ بخت نسر نے 626 ق کو اس علاقے پر قبضہ کرلیا  اور اپنے حکومت میں شامل کرلیا تھا ، بھر بعد میں ماندھیرا اور ہیرا کے بادشاہوں نے اس شہر پرقبضہ کرکے اپنی سلطنت کا  دارالحکومت بنایا۔

بصرہ کے بعد کوفہ دوسرا اہم  اسلامی شہر سمجھا جاتا ہے، جو 17 ہجری میں مسلمانوں کے ذریعہ تعمیر کیا گیا ، اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے اسے اپنی خلافت کا دارالحکومت بنایا تھا۔

شہرِکوفہ شیعانِ علی علیہ السلام کے لئے ایک  مرکزی حیثیت  رکھتا تھا ، خاص طور پر امام صادق علیہ السلام پورے دو سال اس شہر میں مقیم رہے ، اور اس شہر کو سائنسی ، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر آباد کیا۔

اس شہر کا  رسم الخطہ خط کوفی"  کے نام سے معروف  ہے آج تک ستعمال کیا جارہا ہے۔   مائیکرو سافٹ آفس سمیت دیگر  سافٹ ویئر سسٹم تیار کرنے والی کمپنیاں  بھی  اس رسم الخط کو اپنے سافٹ ویئز میں استعمال کرتی ہیں ۔

کوفہ کا کوفانی کہاجاتا تھا اس کا مطلب ہے ریت سے بنے دائرہ نما مقام ۔ بلاذری کہتے ہیں کہ لفظ کوفہ لفظ تَکَوُّف سے مشتق ہے جس کے معنی جمع ہونے کے ہیں کہ جہاں لوگ شہر کے تعمیر میں ملتے تھے، اور  جب کہ اس کے برعکس لوگ بیانانوں اور صحراوں میں  بکھر ئے ہوے ہوتے تھے۔

اس شہر کی سب سے اہم خصوصیت اس کی مسجد ہے ، جسے مسجدِکوفہ کہا جاتا ہے، جہاں امام علی علیہ السلام خطبہ دیتے تھے اور مسجد کے  پڑوس میں دار الامارہ بھی ہے  جہاں سے امام  علی علیہ السلام اپنی ریاست کا انتظام چلاتے تھے ، اس کے علاوہ  مسجد کوفہ میں مقامِ شھادت بھی ہے کہ جہاں پر عبد الرحمٰن بن ملجم خارجی نے  امام علی علیہ السلام پر حملہ کیا تھا جس سے زخموں کی تاپ نہ لاتے ہوئے امام علی علیہ السلام شہید ہوگئے۔

کوفہ میں مسجد سہلہ بھی ہے جس میں مقام حضرت ابراہیم علیہ السلام ، مقام حضرت خضر  علیہ السلام ، مقام  حضرت صالح علیہ السلام  ، مقام ادریس  علیہ السلام ، مقام امام سجاد علیہ السلام، مقام امام صادق علیہ السلام، مقام امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہیں۔ اس کے علاوہ  دیگر مساجد میں مسجد صعصعة بن صوحان العبدي ومسجد زيد بن صوحان العبدي ومسجد الحمراء ومسجد النبيّ يونس بن متي عليه السلام ومسجد جعفر ومسجد غني ومسجد جذيمة ومسجد بني عتر ہیں۔

اس کے علاوہ کوفہ میں دارالامارہ اور حضرت مسلم بن عقیل (سفیر امام حسین علیہ السلام) کا روضہ  بھی ہے کہ جن کو جنگ طف سے پہلے امویوں نے شہید کردیا تھا۔ ، اور ساتھ ہی  جلیل القدر صحابی خبات بن الارث رضوان اللہ تعالی علیہ کا روضہ، ھانی بن عروۃ رضوان اللہ تعالی علیہ روضہ، میثم تمار رضوان اللہ علیہ کا روضہ اور سید ابراہیم (عرف ابراہیم الغمر) بن الحسن مثنی بن الحسن السبط بن امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کا مقبرہ بھی موجود ہے۔

تاریخی روایات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جب  قائم آل محمد امام المھدی عجل اللہ فرجھہ الشریف ظہور فرمایئں گے تو کوفہ شہر حکومت امام مھدی کا دارلخلافہ ہوگا اور عالمی سفارتی شہر ہوگا۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018