14 جمادي الثاني 1442 هـ   28 جنوری 2021 عيسوى 3:00 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2020-08-18   103

اسلام میں بیوی کا حق

شادی جیسے ایک شرعی رشتے میں جنس کے اعتبار سے ادبی، اجتماعی، شرعی اور قانونی ضمانت بیوی کا حق ہے۔

دین مقدس اسلام کے علاوہ دیگر قدیم ادیان حتی  ٰ کہ جدید (انسانی حقوق کے) قوانین سے بھی زیادہ دین مقدس اسلام نے عورت کو بحیثیت بیوی کے بے شمار حقوق عطا کئے ہیں۔ یہ حقوق عورت کی روح، اس کا بدن، اس کی بیماری اور تندرستی بلکہ اس کی زندگی کے تمام حصوں اور اطوار کے پیش نظر اسلام نے اسے دیئے ہیں۔ پس انہی حقوق میں سے ایک حق عورت کا بیوی ہونے کی حیثیت سے بھی ہے۔ کیونکہ اسلام کی نظر میں بیوی ہونا ایک حق ہے جس کی وجہ سے عورت کو زندگی میں ایک اہم مقام ملتا ہے۔ اور کسی کی زوجیت میں ہونا اسے زندگی میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یعنی یہ رشتہ عورت کو مقید نہیں کرتا جیسا کہ ان ممالک کے لوگوں کا خیال ہے۔ جہاں مرد اور عورت بغیر کسی عقد زوجیت کے باہم زندگی بسر کرتے ہیں۔

زوجیت بالکل ایک فطری میل جول ہے یہ فقط انسانی زندگی میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ کائنات کے دوسرے عناصر میں بھی پایا جاتا ہے۔ حتی کہ کائنات کے انتظام و انصرام میں بھی ایک اجتماعی حالت پائی جاتی ہے جسے شارع مقدسِ اسلام نے ہر چیز کے اندر زوجیت کی شکل میں رکھا ہے۔ اس لئے اسلام کی نظر میں شادی کرنے میں انسان کے جسمانی اور روحانی تحفظ کے علاوہ انسانی اقدار کا تحفظ اور اجتماعی زندگی کا تحفظ کی ضمانت پائی جاتی ہے۔ جبکہ بعض لوگ اسے عورت کےلئے قید اور اس کی خلقت کی آزادی سے محروم کرنا قرار دیتے ہیں۔

پس اس بناء پر جب تک زوجیت کا رشتہ قائم نہ ہو تب تک اسلام مرد اور عورت کے درمیان ہر قسم کی جنسی لذتوں کی تعلق سے منع کرتا ہے۔ بلکہ اس قسم کی ناجائز لذتوں کو انسان ہونے کی حیثیت سے عورت کے وجود کے ساتھ زیادتی سمجھتا ہے۔ مگر یہ کہ اسے کسی طرح تسخیر کیا جائے۔ جیسے متعہ موقتہ۔ پس اس بناء پر اسلام نے عورت کو اپنے شوہر سے جنسی تعلق قائم کرنے کا حق دیا اور اسے کسی شرعی عذر کے علاوہ کسی صورت میں بھی قطع کرنے سے منع کیا ہے۔ یوں اسلام نے عورت کو جنسی لذت حاصل کرنے کے اس فطری حق کو صرف اپنے شوہر سے پورا کرنے کا حق دیا اور اپنے شوہر سے دور رہنے سے منع کیا۔ اسلام نے اسی رشتہ ازدواج کے مطابق شوہر پر بیوی کے حقوق میں سے ایک حق یہ رکھاہے کہ شوہر اسے سکون اور انسیت دے۔ یہ حق اسلام کی طرف سے عورت کی عزت و تکریم کے حوالے سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ جس طرح وہ خود بھی اس میں مودت اور رحمت کا مشاہدہ کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: (وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ) (الروم ـــ 21)

ترجمہ: اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کی، غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقینا ان میں نشانیاں ہیں۔

اسی لئے جسمانی سکون کو روحانی اور نفسی روابط کے ساتھ ہی رکھاہے۔ تاکہ یہ رواابط اور رشتے عورت کےلئے اجتماعی اور قانونی ضمانت کے ساتھ ساتھ اس کے جسمانی اور روحانی سکون کا بھی ضامن بنیں۔

بیوی کے اصل حق میں سے کچھ ذیلی اور اتباعی حقوق بھی نکلتے ہیں جن میں بیوی کی زندگی کے حقوق شامل ہیں۔ جیسے بیوی کا نان و نفقہ، کیونکہ اسلام نے مرد پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ بیوی کو اپنی استطاعت  کے مطابق نفقہ دے۔ اسی طرح اس کی شان کے مطابق رہائش فراہم کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ عز و جل فرماتا ہے:  (أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ)  (الطلاق ـــ 6

ترجمہ: ان عورتوں کو (زمانہ عدت میں) بقدر امکان وہاں سکونت دو جہاں تم رہتے ۔

اس لئے بیوی کا نان و نفقہ اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے اگر چہ بیوی خود معاشی حوالے سے بہتر ہی کیوں نہ ہو۔

اس کے مقابلے میں مرد اور عورت کے درمیان کسی ازدواجی رشتے کے بغیر آسانی سے رسائی حاصل کرنے کےلئے لوگوں کی طرف سے کچھ خود ساختہ قوانین بنائے گئے ہیں۔ جن کا دعویٰ ہے کہ معاشرے کی ترقی انہی کے بنائے ہوئے قوانین سے ممکن ہے جبکہ اسلام ان قوانین کو شرعی ازدواج کے طور پر قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ ازدواج شرعی مرد و زن کی روحانی مسرت اور دیگر تمام امور کی ضمانت دیتا ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کےبنائے گئے یہ قوانین انسان کو اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018