6 صفر 1442 هـ   24 ستمبر 2020 عيسوى 12:06 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2020-08-05   35

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے پروردگار کی طرف بازگشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعلیٰ علیین میں

حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا شجرہ نسب ابو الانبیاء،  اور خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ سے جاملتا ہے۔ آپ کا اسم مبارک محمّد بن عبد الله بن عبد المطّلب، بن هاشم، بن عبد مناف، بن قصيّ، بن كلّاًب، بن مُرّة... بن عدنان... ابن النبيّ إسماعيل عليه السلام ابن النبيّ إبراهيم عليه السلام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مادر گرامی حضرت آمنہ بنت وہب بن عبد مناف الزہری تھا۔

آپ کی کنیت ابو القاسم، اور ابو ابراہیم  تھی  جبکہ آپ کا لقب مصطفیٰ ہے ، قرآن کریم میں آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مختلف اسماء مبارکہ مذکور ہیں:  جیسے خاتم النبیین، امّی، مزمّل، مدّثر،   نذیر، مبین، کریم، نور، نعمہ، رحمہ، عبد، رؤوف،  رحیم، شاہد، مبشّر،  اور داعی ۔

آپ کی ولادت  ۱۷ ربیع الاول، بمطابق  عام ا لفیل،  ۵۷۱  میلادی  کو مکہ مکرمہ میں ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ولادت کے سال عام الفیل   سے بھی مشہور ہے کیونکہ  اس سال  حبشہ کا ظالم بادشاہ  ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ پر   حمل آور ہوا  تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی نبوت کا عرصہ ۲۳  سالوں پر محیط ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ۲۸ صفر المصفر  ۱۱ ہجری کو شہید ہوگئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی عمر مبارک تقریبا ۶۳ سال تھی اور ا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مدینہ منورہ میں اپنے    گھر میں ہی  مدفون ہیں، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا گھر مسجد بن گیا جو آج مسجد نبی   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے مشہور ہے۔

امام علیؑ نے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو غسل، کفن، اور دفن کیا اور آپؑ نے ہی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپؑ نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو دفنانے کے بعد قبر مطہر پر کھڑے ہوکر فرمایا: إِنَّ الصَّبْرَ لَجَمِيلٌ إِلاَّ عَنْكَ، وَإِنَّ الْجَزَعَ لَقَبِيحٌ إِلاَّ عَلَيْكَ، وَإِنَّ الْمُصَابَ بِكَ لَجَلِيلٌ، وَإِنَّهُ قَبْلَكَ وَبَعْدَكَ لَجَلَلٌ ، سوائ آپ کی جدائی اور مصیبت کے ہر مصیبت پر صبر کرنا اچھا ہے، ،سوائ  آپ کے کسی اور پرجزع و فزع کرنا قبیح ہے، آپ کی مصبت بہت بڑی ہے۔ اور غسل و کفن دیتے وقت آپؑ فرماتے جارہے تھے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان،آپ کے مرنے سے تو وہ سلسلہ منقطع ہوگیا جو کسی کے مرنے سے نہیں ہوا اور وہ ہے آسمانی خبروں اور وحی کا سلسلہ۔

اگر آپ نے مجھے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی اور جزع فزع سے منع نہ کیا ہوتا میں اس قدر گریہ کرتا کہ میرے آنسو خشک ہوجاتے اور یہ درد رنج و حزن میرے لئے ہمیشہ تازہ اور دائمی رہتا ، لیکن افسوس ہے کہ موت کو لوٹایا نہیں جاسکتا ۔میرے ماں باپ آپ پر قربان  آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہمیں یاد کیجئے گا اور ہمیں مت بھولئے گا۔

جبکہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے فراق  میں سیدہ کونین فاطمہ زہرا سلام علیھا ان اشعار کو پڑھتے ہوئے  گریہ وزاری   کررہی تھیں:

قُلْ لِلْمَغَیَّبِ تَحْتَ اَطْبَاقِ الثَّریَ

اِنْ کُنْتَ تَسْمَعَ صَرْخَتِی وَ نِدَائِیا

کہدیجیے:  اس ہستی سے جو  طبقات زمین کے نیچے پنہان ہیں

آیا وہ میری گریہ وزاری اور آہ وفغان کی  صدائیں سنتی ہیں

فَلَأَجْعَلَنَّ الْحُزْنَ بَعْدَکَ مُونِسی

وَ لَأَ جْعَلَنَّ الدَّمْعَ فِیکَ وَ شَاحِیَا؛

تیری جدائی کے بعد میں غم واندوہ اور پریشانی کو اپنا غمگسار بناوں گی

اور اس غم میں جاری ہونے والے آنسؤوں کو اپنا اسلحہ بناوں گی ۔

ماذا عَلی مَنْ شَمَّ تُرْبَةَ احْمَدٍ

انْ لا یشُمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیاً

اگر کسی نے نبی اکرم محمد مصطفیٰ   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تربت کی خوشبو سونگھی ہو،

بھلا کیسے اسے زندگی میں کوئی اور خوشبو سونگھنا اچھا لگے گی

صُبَّتْ عَلَی مَصائِب لَوْ انَّها

صُبَّتْ عَلی الایامِ صِدْنَ لَیالیاً

آپ کے جانے کے بعد مجھ پر اتنی مصیبتیں پڑیں

کہ اگر روشن دِنوں پر پڑتیں تو وہ تاریک راتوں میں تبدیل ہو جاتے

نَفْسی عَلی زَفَراتِها مَحْبُوسَةٌ

یا لَیتَها خَرَجَتْ مَعَ الزَّفَراتِ

تیری جدائی کے غم واندوہ نے میرے سینے کو جکڑلیا ہے

اے کاش ! ان مصیبتوں اور غم واندوہ کے ساتھ میری جان چلی جاتی

لا خَیرَ بَعْدَک فی الْحَیاةِ وَانَّما

ابْکی مَخافَةَ انْ تَطُولَ حَیاتی

تیری جدائی کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی اور لطف باقی نہیں رہا،

آپ کے بعد میں اپنی زندگی کا طویل ہونے کے خوف کی وجہ سے گریہ کرتی ہوں

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018