25 ذو الحجة 1441 هـ   14 اگست 2020 عيسوى 1:46 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2020-01-19   1159

اسلام نظام تشریع (قانون سازی) میں عدالتی نظام

سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قضاوت اسلام کی نظر میں ایک واجب کفائی ہے اورعوامی نظام اسی پر متوقف ہے، حتی کہ برائیوں کی روک تھام بھی عدالتی نظام پر موقوف ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ جو شخص اس بھاری ذمہ داری کو اپنے سر پر لے، اس میں اس کی شرائط بھی موجود ہوں۔ ان شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ قاضی میں عدالت موجود ہو، البتہ یہاں عدالت سے مراد عدالتی فیصلے میں انصاف نہیں ہے بلکہ اس سے ہٹ کر شخصی عدالت اور قاضی کا مومن اور متقی ہونا ہے، جو اس چیز کا باعث بنتا ہے کہ اسلام طاغوت کے ہاں ثالث اور قاضی بننے کو حرام قرار دیتا ہے، کیونکہ اس عمل کی وجہ سے ایک ایسا معاشرتی فساد بپا ہو جاتا ہے جو اسلامی نظام کو  درہم برہم کر دیتا ہے۔ چونکہ عدلیہ، اس کا نظام اور طریق کار ایک مضبوط اسلامی جماعت اور اس کی ترقی یافتہ معاشرے کی اہم ترین اساس و بنیاد ہے، جسے اسلام نے اس جماعت پر اپنی سیاسی برتری اور حاکمیت کےساتھ ساتھ معاشرتی عدالت سے تعبیر کیا ہے، لہٰذا اسلام نے قضاوت اور  عدالتی نظام کو غیر معمولی اور بے حد اہمیت دی ہے اور اسے ایک ایسی چاردیواری میں رکھا ہے جہاں اس کے لیے عدالت و انصاف کے علاوہ کسی امر کی اجازت نہیں ہے، بالخصوص عدالت و انصاف ایسی دو الٰہی اور مرکزی صفات ہیں جن کے گرد سارے کا سارا اسلامی معاشرتی نظام گردش کرتا ہے۔ اس کا وجود و عدم انہی دو صفات پر منحصر ہے کیونکہ اسلام ان کے ذریعے لوگوں کے لیے بہت بڑے اور کثیر حقوق کا اثبات کرتا ہے، چاہے یہ حقوق قانونی چارہ جوئی کے مرحلے میں ہوں، چاہے اس سے پہلے اور چاہے اس کے بعد، جیسا کہ افراد کے لیے قانونی حمایت۔

ہم ایک منصفانہ اور عادلانہ فیصلے کے واجبات سے ابتداء کرتے ہیں: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى‏ أَهْلِها وَ إِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كانَ سَميعاً بَصيراً۔ (النساء: 58) [بے شک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو، اللہ تمہیں مناسب ترین نصیحت کرتا ہے، یقینا اللہ تو ہر بات کو خوب سنتا، دیکھتا ہے۔] يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ وَ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى‏ أَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى‏ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ بِما تَعْمَلُون۔ (المائدۃ: 8) [اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے، (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے اور اللہ سے ڈرو، بےشک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔]

جو شخص قضاوت کا فریضہ ادا کرتا ہے اسلام نے اس کے لیے کچھ شرائط و حدود رکھی ہیں، جو درج ذیل ہیں:

۱۔ تعلیمی و علمی قابلیت

اس کی بنیاد یہ ہے کہ قاضی مجتہد ہو یا کم از کم جو چیزیں اس کے سامنے عدالتی شواہد کی بنا پر پیش کی جاتی ہیں، ان  میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ بغیر اس کے کہ وہ اپنے محدود علم یا اپنی کسی فریب کار نفسانی خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر فیصلہ کرے، کیونکہ ان دونوں کے دباؤ میں آ کر کیا جانے والا فیصلہ حق کو ضائع کر دیتا ہے۔

یہاں استعدادِ کار اور قابلیت سے مراد یہ ہے کہ اسے قوانین، احکام اور دفعات کے  بارے میں سطحی کامیابی سے ہٹ کر اعلیٰ سطح کی دقیق اور پیشہ ورانہ وسیع اور جامع معلومات ہوں۔

۲۔ بلوغت اور منطقی ذہانت

یہ ایسی شرط ہے جس پر اسلام میں اجماع کیا گیا ہے کہ قاضی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بالغ ہو، عاقل ہو اور رشید ہو۔ کیونکہ جو بالغ نہیں ہو گا اس پر کوئی شرعی تکلیف واجب نہیں ہو گی اور نتیجتاً غیر عادلانہ فیصلوں کی ذمہ داری بھی اس پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ جہاں تک عاقل ہونے کی شرط ہے تو اس سے مقصود سمجھداری ہے نہ کہ وہ عقل جو جنون کے مقابلے میں ہوتی ہے کیونکہ مجنون شخص کو کسی بھی حالت میں قاضی نہیں بنایا جا سکتا۔ پس سمجھداری سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسا شخص ہو جو اپنی عقل کو، احکام کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے، ان کے درمیان تطابق اور توافق پیدا کرنے اور عدالتی نصوص کے مابین انصاف کی روح کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہو۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے بھی اس کی یہی صفت بیان کی ہے: ’’لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے تنگ نہ پڑ جاتا ہو، جھگڑنے والوں کے رویے سے غصے میں نہ آتا ہو، اپنے کسی غلط نقطہ نظر پر اَڑ نہ جاتا ہو، نہ ہی حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، پوری طرح چھان بین کیے بغیر سرسری طور پر کسی معاملے کو سمجھ لینے پر اکتفا نہ کرتا ہو، شک و شبہ کے موقع پر اپنے قدم روک لیتا ہو، حجت اور دلیل کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین کی آپسی بحث و تکرار سے اکتاہت کا شکار نہ ہوتا ہو اور معاملات کی تحقیق میں صبر و تحمل سے کام لیتا ہو۔‘‘

۳۔ عدالت

جو قاضی کی روح اور اس کا پہلا مقصد ہے۔ عدالت ایک ایسا نفسیاتی ملکہ ہے جو صاحب عدالت یعنی عادل شخص کو گناہانِ کبیرہ کے نزدیک جانے سے روکتا ہے اور اسے رذائل اور ان پر مصر رہنے سے منع کرتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ قول و فعل کے حوالے سے اپنے دینی اور دنیاوی معاملات میں ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے اور جو اپنی عدالت کو مسلم معاشرے کو کنٹرول کرنے کا میزان بناتا ہے: يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَينِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يكُنْ غَنِيا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا۔ (النساء:135) [اے ایمان والو! انصاف کے سچے داعی بن جاؤ اور اللہ کے لیے گواہ بنو اگرچہ تمہاری ذات یا تمہار ے والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اگر کوئی امیر یا فقیر ہے تو اللہ ان کا بہتر خیرخواہ ہے، لہٰذا تم خواہش نفس کی وجہ سے عدل نہ چھوڑو اور اگر تم نے کج بیانی سے کام لیا یا(گواہی دینے سے) پہلوتہی کی تو جان لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے یقینا خوب باخبر ہے۔]

۳۔ اخلاقی ضابطوں کی پابندی

قاضی پر واجب ہے کہ وہ اخلاقی ضابطوں  اور اقدار کی پابندی کرتا ہو اور یہی پابندی اس کے فیصلوں میں اساسی اہمیت کی حامل ہو۔ ان اقدار میں وسعت قلبی،  کشادگی، نفس پر قابو، حکمت وغیرہ جیسی اقدار و صفات شامل ہیں اور خصوصاً یہ کہ قاضی اپنے فیصلے کو شرعی اور عقلی میزان پر پرکھتے ہوئے غلطی سے محفوظ رہے،  ہوشیاری اور فیصلے میں جلدی نہ کرے، یعنی  کسی بھی معاملے میں احتیاط، فہم اور تامل کے تمام پہلوؤں کا خیال رکھنے سے پہلے کوئی بھی فیصلہ نہ کرے اور اپنے فیصلے میں بصیرت سے کام لے۔

یہ ساری صفات ان صفات کے علاوہ ہیں جن کا پہلے سے ہی اس میں موجود ہونا چاہیے، مثلاً: اس کا مسلمان ہونا، مرد ہونا، حلال زادہ ہونا اور آزاد ہونا۔

اسلام کسی بھی ایسے عامل اور سبب سے غافل نہیں رہا  جو قاضی کو عدل و انصاف پر قائم رکھے اور اسے ہر قسم کے دباؤ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تعصب سے روک کر رکھے۔ اسی وجہ سے اس نے قاضی کی اقتصادی حالت اور اس کے قضاوت کے عمل کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کی امیر المومنین علیہ السلام نے مصر میں  اپنے والی کو نصیحت کی تھی: ’’اپنے ہاں اسے (قاضی کو) ایسے مقام و مرتبےپر رکھو  کہ تمہارے درباری لوگ اسے کوئی ضرر پہنچانے کا سوچ بھی نہ سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازشوں سے محفوظ رہے۔ اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا۔  دل کھول کر اسے اتنا دینا کہ جو اس کے ہر عذر کا منہ بند کر دے اور اسے لوگوں کی کوئی احتیاج نہ رہے۔‘‘

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018