20 صفر 1441 هـ   20 اکتوبر 2019 عيسوى 4:56 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-09-30   41

انسانی حقوق ”الٰہی عطیہ یا بشر کی منت!“

مسلمانوں کا ایمان ہےکہ انسانی حقوق ایک وجودی مفہوم رکھتے ہیں۔ ان حقوق کا اصلی اور واحد مصدر و منبع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اوصیاء (صلوات اللہ علیھم اجمعین) کو ان حقوق سے آگاہ کیا کہ وہ انسانی معاشرے میں آ کر لوگوں کے درمیان ان حقوق پر عمل در آمد کریں تاکہ لوگ زندگی میں لالچ اور تکبر کے نشے میں مست ہو کر اپنے اصلی خلقت سے منحرف نہ ہو جائیں۔ اور ایک دوسرے سے اپنا رشتہ توڑ کر ایک دوسرے کے حقوق ہڑپ کر نہ جائیں۔ لہٰذا تمام آسمانی شریعتیں اسی بات کی تبلیغ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اس پوری کائنات کا خالق و  مالک ہے اور وہی نعمتوں کا عطا کرنے والا اور روکنے والا ہے۔ ان شریعتوں نے انسانوں پر دو قسم کے حقوق بیان کئے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق الناس۔

اللہ تعالیٰ انسانوں کا خالق و مالک و رازق ہونے کی حیثیت سے عبودیت اور اس کے سامنے تسلیم خم ہونے اور ہر عمل اسی کے لئےانجام دیا جانے کا حق رکھتا ہے۔ پس انسان صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، صرف اسی کے سامنے جھکے اور صرف اسی کی رضا کےلئے عمل کرے۔ دوسری طرف تمام ادیان سماوی انسانوں کے آپس میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا بیان بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان الٰہی ادیان کے بتائے ہوئے حقوق کے مقابلے میں انسانوں نے خود اپنی طرف سے جو انسانی حقوق وضع کئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے راستے  کے مقابلے میں انہوں نے انسانیت کے لئے جو راستے دکھائے ہیں۔ یہ حقوق او رانسانی راستے انسانیت کی فلاح اور ان کے مصالح کو حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ انسانی معاشرہ ”عدم مساوات“ کا شکار ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت ور کمزور کو کھا جاتا ہے۔ امیر غریبوں کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔

آج کی دنیا کے ثقافتی علمبردار، فلسفی اور روشن خیال لوگ جوانسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور حقوق کے نام سے بڑی بڑی کانفرنسس اور بڑے بڑے اعلانات کرتے ہیں، 1948ء میں ہونے والا ہیومن رائٹس کا اعلان وغیرہ جس کی مثالیں ہیں، ان کا یہ گمان ہے کہ یہی انسانی حقوق ہیں۔ ان میں کسی قسم کی کمی نہیں اور تاریخ انسانیت میں وہ ہی پہلے دانشور اور مفکرین ہیں جنہوں نے انسانیت کے لئے حقوق کا چارٹر پیش کیا۔ حالانکہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جن حقوق کی وہ آج بات کرتے ہیں ، الٰہی شریعتوں نے آج سے   ہزاروں سال پہلے بات کی ہے۔ بلکہ انسانیت کی خلقت کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعے انسانی حقوق پہنچایا تھا۔

آج کے انسانی حقوق پر بات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوقانسانی معاشرے کی ارتقاء کا نتیجہ ہے، وہ اس بات سے غافل ہیں کہ یہ حقوق انسانی معاشرے کی ارتقاء کے نتیجے میں وجود میں آنے والی کوئی حقیقت نہیں بلکہ معاشرتی ارتقاء سے پہلے ہی یہ تمام حقوق وجود رکھتے تھے۔ انسانیت کو یہ حقوق خالق کائنات نے عطا کیا ہے۔ یہ کسی معاشرے کے لوگوں کے مرہونِ منت نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا آغاز کرنے والا ہونے کی حیثیت سے مخلوقات کی خلقت سے پہلے  ہی اپنے علمِ مطلق سے ان حقوق کو وجود بخشا تھا۔ وہ انسان کی ماضی،   اس کا حال اور قیامت تک آنے والا اس کے مستقبل سے مربوط تمام حالات سے باخبر ہے لہٰذا ان تمام احوال کو پیش نظر رکھ کر انسانیت کے لئے یہ حقوق وضع فرمائے ہیں۔ وہ ذات چونکہ ارحم الراحمین ہے اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا اپنی قدرت کاملہ اور رحمتِ واسعہ سے انسانیت کی بھلائی کےلئے  یہ سب حقوق عطا فرمائے ہیں۔

بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان الٰہی حقوق میں کچھ پابندیاں بھی ہیں۔ یہ پابندیاں انسانی آزادی کو مقیّد کرتی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی طرف سے وضع کردہ انسانی حقوق میں کہیں حدود و قیود اور پابندیاں رکھی ہیں تو بھی انسانی مصلحت کے لئے ہیں۔ اس نے یہ پابندیاں انسان پر کسی قسم کا ظلم کرنےکے لئے یا ان پر اپنی حق اولویت دکھانے کے لئے نہیں رکھی۔ بلکہ جو امور خود انسانی مصلحتوں کی راہ میں رکاوٹ اور انسانی فلاح کے خلاف ہوں ان سے انسان کو منع کیا ہے۔ انسان کا یہ تصور کرنا بہت بڑی غلطی ہے کہ اس کی آزادی کے لئے اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی کو برابر قرار دے۔ اس کی آزادی کےلئے ہر چیز پر اسے اختیار دے۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ حقوق میں جو چیز ان حدود و قیود کی داعی بنتی ہے وہ خود انسانی معاشرے کے اجتماعی ضروریات ہیں۔ بلکہ انسانی معاشرے کی بنیاد ہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ فرد کو غیر مشروع کاموں سے منع کرے تاکہ معاشرے کا نظام قائم و دائم رہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و اوصیاء کے ذریعے انسانی حقوق کو صرف الٰہی چیزوں  میں منحصر کیا جومعاشرے میں قابل عمل ہیں اور ہر قسم کے خطرات سے انسان کو بچا سکتے ہیں۔ انبیاء کرام اور اوصیاء(علیہم السلام) کے ذریعے ان تمام حقوق کو معاشرے میں نافذ کرنے اور قابل عمل بنانےکےلئے ایک مضبوط پشت پناہی اور حمایت کی ضرورت تھی۔ خصوصاً یہ حقوق جو معاشرے کی اجتماعی اور اخلاقی اقدار کی بنیاد اور قوام ہیں، اور معاشرے میں انسان کی ایک باعزت زندگی کا دار و مدار اسی میں ہے، ان حقوق کو معاشرے میں نافذ اور واجب العمل قرار دینا کسی بڑی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا خدا وند متعال کی حمایت سے بڑھ کر کوئی ایسی مؤثر حمایت نہیں۔ لہٰذا انبیاء و اوصیاء نے اللہ تعالیٰ کی حمایت سے یہ حقوق نافذ کئے۔ اگر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں کئے گئے اعلان سے موازنہ کریں تو اسی عالمی اعلان میں انسانی حقوق  کے حوالے سے جو اہم باتیں ہیں وہ یہ کہ: ”ہر انسان آزاد پیدا ہوتا ہے۔ انسانی عزت اور حقوق کو لحاظ سے ہر انسان برابر ہے۔ ہر انسان کو قدرت کی طرف سے عقل اور شعور عطا کی گیا ہے۔لہٰذا ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ برادرانہ سلوک رکھنا چاہیئے۔“ جبکہ اسلام نے اس عالمی اعلان سے تیرہ سو سال پہلے ہی انسانی حقوق کے بارے میں تین اہم ترین باتیں کی ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلی جو اہم بات ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق (انسان) کے آپس میں کسی پر بھی کسی کی افضلیت قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح دوسرا سب سے اہم انسانی حق بیان کرتے ہوئے انسانوں کے آپس میں رشتے داری اور خاندانی تعارف کی ضرورت کو بھی ذکر کیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا: "یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ "(سورہ حجرات13) اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو

آخر میں تیسرا اہم انسانی حق، جو کہ خالصتاً ایک الٰہی عطیہ اور تحفہ ہے۔ فرمایا کسی بھی انسان کی قیمت اس کا رنگ، نسل یا کسی سے وابستگی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر اس کی قدر و قیمت ہوگی۔ چنانچہ ارشاد ہوا: " اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ " (حجرات/13) ، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، اللہ یقینا خوب جاننے والا، باخبر ہے۔

اگر اسلام میں انسانی حقوق کی قدر قیمت کے بارے  میں پوچھا جائے تو ہم کہیں گے کہ اس پر روشنی ڈالنے کےلئے عالمی سطح پر کانفرنسس کی ضرورت ہے۔کیونکہ آج کے اسلامی معاشروں میں مختلف قسم کے ثقافتی یلغاراور دیگر بحرانوں کی وجہ سے وہ تمام انسانی حقوق معاشرے   میں نظر نہیں آتے جو اسلام نے دیا ہے۔ اس کے علاوہ جن حقوق کی بات سب سے پہلے اسلام نے کی ہے اس حوالے سے اسلامی نظریے کو چرا کر بعض لوگوں نے اپنی طرف نسبت دی ہے۔اور اسے ایک جدید نظریے کے طور پر دنیاکے سامنے پیش کیا ہے۔ اگر چہ اس ”ریسائیکلینگ“ میں بھی  ضعف پایا جاتا ہے، تاہم اسے ایک نئے انداز میں اجتماعی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لئے ایک بہتر طریقے کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت دقیق مطالعہ رکھنے والے دانشمند محقق سے مخفی نہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018