24 ذو الحجة 1440 هـ   26 اگست 2019 عيسوى 12:36 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-08-02   69

امریکی معاشرے میں مسلمانوں کا مستقبل ایک مطالعہ

مسلمان لاکھوں کی تعداد میں امریکہ میں موجود ہیں۔ امریکی مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں،نوجوان اسلام کو ایک عقلی اور فکری مذہب کے طور قبول کر رہے ہیں جس کی بتائی باتیں جدید سائنس سے ثابت ہو رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پورے یورپ میں اسلام پھیل رہا ہے۔ آج اسلام دنیا میں مسیحت کے بعد دوسرا بڑا مذہب بن گیا ہے۔اسلام اپنی فطرت میں ایسا ہے کہ اس میں پھیلاو ہے۔اسلام خودکشی سے روکتا ہے، اسی طرح دوسروں کو قتل کرنے سے بھی منع کرتا ہے اور کسی بے گناہ کو سزا دینا بھی درست نہیں سمجھتا۔اسلام تہذیب کے درمیان جنگ و جدال کی بجائے تہذیبوں کے درمیان مکالمہ کی بات کرتا ہے تاکہ انسان ہم آہنگی کے ساتھ مل جل کر رہیں ۔اسلام کسی بھی قسم کے نسلی تعصب کے شدید خلاف ہے۔انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں  مسلمان انسانیت اور رواداری کے لیے کام کر رہے ہیں ۔اسلام ایک ایسی دنیا کو خواہاں جس میں تہذیبوں کے درمیان جنگ کی بجائے انسانی تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس دنیا کو جنت نظیر بنانے کی کوشش کی جائے۔ایک امریکن انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق مسلمان جس رفتار سے بڑھ رہے ہیں ۲۰۴۰ء تک اسلام امریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن جائیں گے  اور امریکہ کا سب سے بڑا مذہب مسیحت ہے۔

امریکہ میں مسلم آبادی کے اضافے کی وجوہات

امریکہ میں آبادی کے سروے کے تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں قریب 60 لاکھ مسلمان آباد ہیں اور یہ تعداد 2040 تک یہ آبادی ۹۰ لاکھ سے بڑھ جائے گی۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی تین وجوہات ہیں:

1. امریکی مسلمانوں میں  شرح پیدائش بہت اچھی ہے۔

۲۔ایک اہم وجہ بڑی تعداد میں مسلمانوں کا امریکہ کو وطن کے طور پر اختیار کرنا بھی ہے ہر سال ایک بڑی تعداد میں لوگ ترک وطن کر کے امریکہ آتے ہیں۔

۳۔امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی ایک اہم وجہ وہاں کے لوگوں کو اسلام قبول کرنا ہے۔اسلام نسلی امتیاز کے خلاف ہے اس لیے اور دیگر کئی وجوہات کی بنیاد پر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔اگرچہ امریکہ میڈیا منفی کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام مخالف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔امریکہ میں نسل پرست نظریہ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہیں جن کےنظریات مسلمان مخالف ہیں اس کے باوجود  یہاں بسنے والوں مسلمان امریکی معاشرے اور تہذیب کا اپنی شناخت کے ساتھ حصہ بن رہے ہیں ۔آنے والی نسل کو اس نئے ماحول کے لیے تیار کر رہے ہیں۔امریکی معاشرہ  سیکولر معاشرہ ہے اسی لیے  مسلمان یہاں کی اس قدر کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے  مناسب فضا تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کی آمد

اسلام سولہویں صدی میں امریکہ میں آیا،مسلمان مغربی ساحلی علاقے کیلیفورنیا،ایریزونا اور نیو میکسیکو میں ہجرت کر کے آئے اور اسی ہجرت نے امریکہ میں اسلام کے دروازے کھولے۔ عمر بن سید ایک سینیگالی مسلمان تھے جب یورپ اور امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کو کام کرنے کے لیے لایا گیا یہ اس دور میں آئے ۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں کچھ اسلامی کتابوں کا انگلش میں ترجمہ آیا جس سے کچھ لوگوں کو اسلام کے بارے میں آگاہی ملی اور مسلمانوں نے قرآن سیکھنا شروع کیا۔امریکی سینٹ میں پہلے مسلمان رہنما سکندر رسل تھے۔مسلمانوں نے امریکی معاشرے میں اپنی شناخت بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ امریکی شہریت کے تحت حاصل تمام حقوق کو حاصل کر سکیں اور امریکہ کی  ترقی میں  اپنی قابلیت کے مطابق حصہ ڈال سکیں۔امریکی سینٹ کا ممبر بننا اس سمت پہلا قدم تھا۔

پہلی عالمی جنگ کے آغاز میں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ جانے والے مسلمان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا، اور انہوں نے اسلام اور اس کی انسانیت کے پیغام کی تبلیغ کے لئے متعدد مساجد اور اسلامی مراکز تعمیر کیے۔امریکہ جہاں کالے اور گورے کی گہری تقسیم ہے وہاں رنگ و نسل میں جائے بغیر مساوات کی بات کی۔بہت سے لوگ جب مسلمان ہوئے تو انہیں اسلام کی آفاقی تعلیمات سے آگاہی ہوئی۔اسی معاشرے کا تیزی سے حصہ بننے کے نتیجے میں مسلمان جدید نظاموں سے آگاہ ہوئے پہلے لیگ آگ نیشنز اور بعد میں اقوام متحدہ  کے نظم کو سمجھا۔

امریکہ میں مسلمانوں کی ڈیموگرافی۔

امریکہ میں مسلمانوں کی آبادی کو  مسلمان ممالک سے ہجرت کے اعتبار سے مندرجہ ذیل  حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۳۳فیصد ایشائی الاصل ہیں۔

۲۵فیصد عربی الاصل ہیں۔

۴۵فیصد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018