21 ربيع الاول 1441 هـ   19 نومبر 2019 عيسوى 6:52 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-05-01   568

مسجد کوفہ

مسجد کوفہ مسجد الحرام، مسجد النبی، اور مسجد الاقصی کے بعد عالم اسلام کے چوتھی اہم مسجد ہے ۔اس مسجد کی عطمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کی بنیاد حضرت آدم (ع) نے رکھی اور اس کو وسیع قطعۂ زمین پر تعمیر کیا اور حضرت نوح (ع) نے طوفان کے بعد اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔

ابتداء اسلام میں حضرت سلمان فارسی رضوان الله تعالى عليه کی تجویز پر اس مسجد کی تعمیر کا دوبارہ اہتمام کیاگیا۔

حضرت علی (ع) نے بارہا اس مسجد میں نماز کے لئے قیام فرمایا،  اس کے منبر پر خطبے دیئے، بعض امور میں فیصلے کئے اور نظام حکومت کا انتظام و اہتمام کیا۔

جغرافیائی طور پر  مسجد کوفہ،نجف الاشرف کے صوبے میں واقع ہے، کوفہ مخصوصا اپنی  معتدل آب و ہوا، اچھی اور زرخیز زمین کی وجہ سے زیادہ ممتاز ہے۔ دریائے فرات اس کے قریب سے گزرتے ہیں۔

مسجد کوفہ میں صحابیحضرت میثم تماررضوان الله تعالى عليه، مسلم بن عقیل عليه السلام، ہانی بن عروہ رضوان الله تعالى عليه، اور مختار ثقفی رضوان الله تعالى عليه،  کے مراقد واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس مسجدمین بہت سارے انبیاء اوصیاء کرام علیھم السلام کے آرام گاہ بھی ہیں ۔

مسجد کی عمارت:

مسجد کوفہ کی لمبائی 110 میٹر اور چوڑائی 101 میٹر جبکہ اس کا رقبہ 11110 میٹر (اور بقولے 11162 میٹر) مربع ہے اور اس کو 10 میٹر اونچی دیواروں سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی کھلی فضا کا رقبہ 5642 میٹر مربع اور اس کے شبستانوں کا رقبہ 5520 میٹر مربع ہے۔ اس مسجد کے ستونوں کی تعداد 187 اور میناروں کی تعداد 4 ہے جن کی اونچائی 30 میٹر ہے۔مسجد کوفہ کے دروازے 5 ہیں؛ جو "باب الحجہ (باب الرئیسی)، باب الثعبان، باب الرحمہ، باب مسلم ابن عقیل اور باب ہانی بن عروہ" ہے۔

مسجد کوفہ کے مقامات:

مسجد کوفہ میں بعض مقامات معلوم اور مشہور ہیں جو حسب ذیل ہیں

مقام رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، مقام ابراہیم علیہ السلام، مقام آدم علیہ السلام، مقام خضر علیہ السلام ، مقام امام سجاد علیہ السلام، مقام امام صادق علیہ السلام، اور مقام امام مھدی عج اللہ فرجہ بھی ہیں۔

اسی طرح اس مسجد کے اگلے حصے میں ایک مقام ہے جہاں حضرت امام علی (ع) بیٹھ کر فیصلے سناتے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر مقامات مین، مقام جبرئل علیہ السلام، اور دکۃ المعراج،جہاں شب معراج جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مسجد حرام سے مسجد اقصی کی طرف جارہے تھے، تو رسول اللہ (ص) نے خداوند متعال کی اجازت سے وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018