16 ربيع الثاني 1441 هـ   14 دسمبر 2019 عيسوى 3:46 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-04-14   213

مستحقین ذکاۃ اور ان کے شرائظ

زکوٰۃ کا مال آٹھ مصرف میں خرچ ہوسکتا ہے۔

1۔ فقیر۔ وہ (غریب محتاج)شخص جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے سال بھر کے اخراجات نہ ہوں فقیر ہے۔

۲۔ مَسکِین۔ وہ شخص جو فقیر سے زیادہ تنگدست ہو، مسکین ہے۔

۳۔ وہ شخص جو امام عصر علیہ السلام یا نائب امام کی جانب سے اس کام پر مامور ہو کہ زکوٰۃ جمع کرے، اس کی نگہداشت کرے، حساب کی جانچ پڑتال کرے اور جمع کیا ہوا مال امام علیہ السلام یا نائب امام یا فقراء (و مساکین) کو پہنچائے۔

۴۔ وہ کفار جنہیں زکوٰۃ دی جائے تو وہ دین اسلام کی جانب مائل ہوں یا جنگ میں یا جنگ کے علاوہ مسلمانوں کی مدد کریں۔ اسی طرح وہ مسلمان جن کا ایمان کمزور ہو لیکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بن جائے۔

۵۔ غلاموں کو خرید کر انہیں آزاد کرنا۔ جس کی تفصیل اس کے باب میں بیان ہوئی ہے۔

۶۔ وہ مقروض جو اپنا قرض ادا نہ کرسکتا ہو۔

۷۔ فِی سَبِیلِ اللہ یعنی وہ کام جن کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچتا ہو مثلاً پل، ہسپتال یا مسجد بنانا، یا ایسا مدرسہ تعمیر کرنا جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہو، شہر کی صفائی کرنا نیز سڑکوں کو پختہ بنانا اور اسی طرح کتابوں کی اشاعت پر خرچ کرنا۔

۸۔ اِبنُ السَّبِیل یعنی وہ مسافر جو سفر میں ناچار ہوگیا ہو۔

 

مُستحِقّینِ زکوٰۃ کی شرائط:

اسلام نے مستحقین ذکاہ کےلئے کچھ شرایط مختص کی ہے اگر ان میں درجہ زیل شرائط پائے جاے تو ان کو زکاہ دی جا سکتی ہے

1- ایماں: جس شخص کو اپنی زکوٰۃ دینا چاہتا ہو ضروری ہے کہ وہ مومن ہو، پس کافر مستحق ذکاۃ نہیں ہے۔
2- جو فقیر شخص مال زکوٰۃ گناہ کے کام پر خرچ کرتا ہو ضروری ہے کہ اسے زکوٰۃ نہ دے جائے، بلکہ احتیاط یہ ہے کہ وہ شخص جسے زکوٰۃ دینا گناہ کی طرف مائل کرنے کا سبب ہو اگرچہ وہ اسے گناہ کے کام میں خرچ نہ بھی کرے اس زکوٰۃ نہ دی جائے۔اسی طرح جو شخص شراب پیتا ہو یا نماز نہ پڑھتا ہو اور اسی طرح جو شخص کُھلّم کُھلاّ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہو تو احیتاط واجب یہ ہے کہ اسے زکوٰۃ نہ دی جائے۔

3- انسان ان لوگوں کے اخراجات جن کی کفالت اس پر واجب ہو۔ مثلاً اولاد کے اخراجات ۔ زکوٰۃ سے ادا نہیں کرسکتا ۔پس والدین کو دینا  یا والدین اپنی ذکاۃ بچون کو دینا صحیح نہیں ہے، اسی طرح دادا دادی اور یہ سلسلہ جتنا اپر چلاجاے، اسی طرح اولاد کے اولاد اور یہ سلسلہ جتنا نیچے چلےجاے، اسی  طرح عقد دائمی والی بیوی کو بھی ذکاۃ  نہیں دے سکتا۔ لیکن اگر یہ لوگ زکوٰۃ لینے پر مجبور ہو  مثلا مقروض ہو قرض آدا کرنے پر قادر نہ ہو، تو ان کو زکوٰۃ  دے سکتے ہیں۔

4- اگر زکات دینے والا غیر سید ہو تو زکات لینے والا سید (ہاشمی) نہ ہو ۔ اور ہاشمی سے مراد وہ لوگ ہیں  جن کی نسبت  پیغمبر اسلام کی جد امجد ہاشم کی طرف ہیں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018