21 ربيع الاول 1441 هـ   19 نومبر 2019 عيسوى 5:48 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-04-07   574

حضرت ابوزر غفاری ؓ ( ابوذر سے زیادہ سچا نہ آسمان نے کسی پر سایہ کیا اور نہ ہی زمین نے کسی کو اپنے اوپر اٹھایا )

جناب ابوزر غفاری ؓحضرت امیر المومنینؑ کی امامت کے چار اراکین میں سے ایک تھے، آپؓ ان ابتدائی مسلمانوں میں ایک تھے جورسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دست وبازو بنے، اور آپ نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے لیے امام علیؑ کی امامت کو ضروری گردانتے تھے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدآپ  پہلے فرد تھے کہ جنہوں نے علی کی ولایت کو قبول کیا۔آپؓ بہادر اور غیرت مند تھے، اپنے زمانے کے طاغوت اور ظالموں کے سامنے حق کے اظہار سے نہیں گھبراتے تھے،  آپؓ نے بغیر خوف وخطرے کے  قوم کے سربراہوں کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کیا، اور عمر بھر چشمہ علم ِنبوت سے اپنے آپ کو سیراب  کرتے رہے،  اور پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   نے آپؓ کو اتنا سچا  پایا کہ  ان کی شان میں   فرمایا: آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا او نہ زمین نے کسی کو اٹھایا کہ جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو وہ تنہا زندگی کریگا اور تنہا مرے گا ،تنہا اٹھے گا اور تنہا جنت میں داخل ہوگا۔

آپؓ کی صداقت کی  واضح ترین مثال یہ ہے کہ جب لوگوں نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین برحق اور امام اول علی ابن ابی طالب ؑ کے مقابل میں اوروں کی بیعت کا مطالبہ کیا تو آپؓ نے تمام تر مشکلات اور سختیوں کو برداشت کیا لیکن علی علیہ السلام کے علاوہ کسی کی بیعت نہیں کی۔ اسی سچائی اور حق  شرعی کا ساتھ دینے کی وجہ سے ِ وقت  کے خلفاء اور حکمرانوں نے آپؓ سے عداوت کی انتہاء کردی،  خصوصا خلیفہ سوم  کے دور میں بہت زیادہ سختیاکی گئیں، یہاں تک کہ آپؓ کو جلاوطن کیا گیا اور عالم مسافرت میں ربذہ کے مقام پر آپؓ رحلت کرگئے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018