24 جمادي الثاني 1441 هـ   19 فروری 2020 عيسوى 7:07 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | امامت |  امامت
2019-03-16   123

امامت

لغت میں امامت تقدم کو کہتے ہیں اسی طرح آگے والے کو امام کہا جاتا ہے یہ بنیادی طور پر قیادت کر رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالی حضرت ابراہیمؑ کے لیے ارشاد فرماتا ہے:

((قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا))(البقرة -124) اس نے کہا کہ ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنا رہے ہیں۔

ابتدائے اسلام سے لفظ امامت اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو لوگوں  کو نماز پڑھاتا ہے،نبی اکرمﷺ امام تھےان کے بعد  تمام ائمہ یکے بعد دیگرے اس عہدہ پر فائز ہوئے۔

  ہم  یہ جان چکے ہیں کہ اللہ  تعالی نے انبیاءؑ  کو لوگوں کے لیے کیوں مبعوث فرمایا؟ اور کس طرح انہوں نے لوگوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچایا جس میں ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی تھی۔نبی اکرمﷺ لوگوں  کی ہدایت و تذکیہ کرتے اور ان کوقرآن و حکمت کی تعلیم دیتے رہے۔اس لیے نبی اکرمﷺ کے بعد جو امام  ہوں گے وہ اسی طرح سے دین ناب کی  مختلف زمانوں اور مختلف جگہوں پر تبلیغ کریں گے اور اسی کار انبیاء کو انجام دیں گے اور نبی پر نازل ہوئے آسمانی احکام کو لوگوں تک پہنچائیں گے اور لوگ بھی ان کی طرف محتاج ہوتے ہیں۔نبیﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد امت بغیر سرپرست کے نہیں رہ سکتی کیونکہ خطرہ ہے کہ کہیں وہ کفر وجہل و ضلالت کی وادیوں میں گمراہ ہ نہ ہو جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ نبیؑ دنیا سے جانے سے پہلے ایسے شخص کو معین کر دیں جو لوگوں کی رہنمائی کرے اور امت کی حفاظت کرے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018