23 ربيع الاول 1441 هـ   21 نومبر 2019 عيسوى 8:53 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | امامت |  نبی اکرمﷺ کے جانشین
2019-03-13   95

نبی اکرمﷺ کے جانشین

خلافت اسلامیہ وہ نظام حکومت ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رائنج ہوتا ہے اور اس میں  شریعت اسلامیہ  کی روشنی میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔اسے خلافت اس لیے کہا جاتا ہے کہ خلیفہ نبی ﷺ کی جگہ پر اسلامی حکومت کی قیادت اور اسے چلانے کے لیے آتا ہے۔

اسلام میں خلافت کا عہدہ ایک اہم اور حساس ذمہ داری ہے کیونکہ یہ نبی اکرمﷺ کے فریضے قیادت امت کو انجام دینا اور امت کے امور کو چلانا ہے اور یہ آسان کام نہیں ہے۔نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی حق تمام لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی اور سب پر مقدم ہے۔جو بھی اس مقام پر بیٹھے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس منصب کے لائق ہو اور دوسروں کی نسبت اس کا زیادہ حقدار ہو۔خلیفہ کی تعیین کا مسئلہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ کون نبی اکرمﷺ کے بعد امت کی رہنمائی کرے گا ۔جب اللہ تعالی یہ فیصلہ کر دے کہ خلیفہ فلاں شخص ہو گا تو ا ب کسی بھی انسان کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے ہر کسی کو اللہ تعالی کے بنائے خلیفہ کو ماننا پڑے گا۔

اللہ تعالی  نے تمام انبیاءؑ کی تعیین خود کی ہے اور  نبوت کے معاملے کو لوگوں کے مشورے اور کسی دیگر امر پر نہیں چھوڑا۔اسی طرح اللہ تعالی نے انبیاءؑ  کے اوصیا اور خلفا کا تعین بھی خود فرمایا ہے تاکہ دین کی حفاظت ہو سکے۔اللہ تعالی نے نبی اکرمﷺ  کے بارہ خلفا کا تعین فرمایا ہے جو ایک کے بعد ایک خلیفہ ہوں گے ۔غدیر کے دن ان میں سے پہلے امیر المومنین ؑ حضرت علیؑ کی خلافت پر نص فرمائی کہ وہ آپﷺ کے بعد خلیفہ ہوں گے۔اس طرح عہدہ خلافت ایک امام سے دوسرے امام کو منتقل ہوتا رہا  ۔بارہ ائمہ یہ ہیں :

1. علي بن ابي طالب عليه السلام

2. الحسن بن علي المجتبى عليه السلام

3. الحسين بن علي الشهيد عليه السلام

4. علي بن الحسين السجاد عليه السلام

5. محمد بن علي الباقر عليه السلام

6. جعفر بن محمد الصادق عليه السلام

7. موسى بن جعفر الكاظم عليه السلام

8. علي بن موسى الرضا عليه السلام

9. محمد بن علي الجواد عليه السلام

10. علي بن محمد الهادي عليه السلام

11. الحسن بن علي العسكري عليه السلام

12. محمد بن الحسن المهدي عليه السلام.

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018