23 ربيع الاول 1441 هـ   21 نومبر 2019 عيسوى 7:09 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | محمديون کی قیادت (ائمہ طاہرین اور کچھ اصحاب) |  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جانشین برحق علی علیہ السلام کے مابین لازوال اور بے مثال روحانی تعلق کی کیفیت، حضرت علی علیہ السلام کی زبانی:
2019-03-10   226

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جانشین برحق علی علیہ السلام کے مابین لازوال اور بے مثال روحانی تعلق کی کیفیت، حضرت علی علیہ السلام کی زبانی:

پیغمبر کے وہ اصحاب جو (احکام شریعت ) کے امین ٹھہرائے گئے تھے اس بات سے اچھی طرح آگا ہ ہیں کہ میں نے کبھی ایک آن کے ليے اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے سرتابی نہیں کی اور میں نے اس جوانمردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر کی دل و جان سے ان موقعوں پر مدد کی جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوئے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔جب رسول نے رحلت فرمائی تو ان کا سر (اقدس )میرے سینے پرتھا اور جب میرے ہاتھوں میں ان کی روح طیب نے مفارقت کی تو میں نے (تبرکاً) اپنے ہاتھ منہ پر پھیر ليے۔میں نے آپ کے غسل کا فریضہ انجام دیا۔اس عالم میں کہ ملائکہ میرا ہاتھ بٹا رہے تھے۔(آپ کی رحلت سے) گھر اور اس کے اطراف و جوانب نالہ و فریاد سے گونج رہے تھے اور ایک گروہ نازل ہو رہا تھا اور ایک واپس جارہا تھاوہ حضرت پر نماز پڑھتے تھے اور ان کی دھیمی آوازیں برابر میرے کانوں میں آرہی تھیں۔ یہاں تک کہ میں نے ہی آپ(ص) کو قبر میں اتارا ، تو اب ان کی زندگی میں اور موت کے بعد مجھ سے زائد کون ان کا حق دار ہو سکتا ہے ؟ (جب میرا حق تمہیں معلوم ہوچکا )تو تم بصیرت کے جلو میں دشمن سے جہاد کرنے کے ليےصدق نیت سے بڑھو۔اس ذات کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں،بلاشبہ میں جادہ حق پر ہوں اوروہ (اہل شام) باطل کی ایسی گھاٹی پر ہیں کہ جہاں سے پھسلے کہ پھسلے۔ میں جو کہہ رہا ہو ں وہ تم سن رہے ہو میں اپنے اور تمہارے ليےاللہ سے آمرزش کا طلب گار ہوں۔(نہج البلاغہ: خطبہ ۱۹۵)

محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   اور علی مرتضیٰ علیہ السلام کے درمیان عظیم تعلق اور رشتہ  کا سبب صرف   نبوت اور امامت کا سرچشمہ ایک ہونا نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ  آپ دونوں کے درمیان ایک عظیم روحانی تعلق اور رشتہ  بھی موجود تھا  جو آپ دونوں کے  یک جان دوقالب ہونے کا واضح ترین سبب تھا ، قرآن کریم اس عظیم روحانی اشتراک اور تعلق کو کچھ اس طرح سے بیان کرتا ہے:

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (الِ عمران:۶۱)

 آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی بیٹیوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنی بیٹیوں کو بلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018