21 ربيع الاول 1441 هـ   19 نومبر 2019 عيسوى 6:05 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | توحید |  توحید کے مراتب اور اقسام
2019-02-21   138

توحید کے مراتب اور اقسام

اللہ تعالی کی وحدانیت کا اعتقاد توحید کہلاتا ہے (وحدانیت کا اعتقاد)یعنی اسکی مقدس ذات اور وہ صفات جو عین ذات ہیں کے مابین ترکیب کی نفی اور اس کی تخلیق اور تدبیر میں شرک کی نفی اور اس کے لئے باپ اور اولاد کی نفی کا اعتقاد  (گویا تین چیزوں کا اعتقاد توحید کہلاتا ہے ذات و صفت کے درمیان ترکیب کی نفی، تدبیر و تخلیق میں شرک کی نفی، باپ و اولاد ہونے کی نفی )جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ (1) کہہ دو وہ اللہ ایک ہے۔اَللَّـهُ الصَّمَدُ (2)اللہ بے نیاز ہے۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ (3)

نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔  وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ (4)اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے (سورۃ الاخلاص )۔ نیز ایک اور مقام پر فرمایا : اَللَّـهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَۚ   اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ( البقرہ 255)

توحید  کی چند اقسام ہیں :

1:۔ ذات میں توحید : یعنی ایسا واحد جس کی نہ شبیہ ہے نہ مثال  اور ایسا احد جس کی ذات عقلی تقسیم کو قبول نہیں کرتی اور نہ ہی تقسیم وہمی کو قبول کرتی ہے (یعنی جس کی ذات وہم و عقل میں قابل تقسیم نہیں ہے )اور اس کی یکتائی میں وحدانیت عددی نہیں ہے  کہ وہ بلا عدد کے واحد ہے (گویا خدا کی ذات کی وحدانیت سے مراد واحد حقیقی ہے  نہ کہ عددی) جیسا کہ ارشاد پروردگار ہوا  لَّقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ اِلٰـهٍ اِلَّآ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۚ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَـهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (المائدہ -73)

بے شک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے ایک ہے، اور (حالانکہ) سوائے ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں، اور اگر وہ اس بات سے باز نہ آئیں گے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو دردناک عذاب پہنچے گا۔

اور نہ ہی اس کی وحدانیت نوعی ہے کہ کہا جاسکے کہ وہ  فلاں نوع کے افراد سے ہے  جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ زید انسانی نوع کا فرد ہے ۔

2:۔ صفات میں توحید : یہاں پر صفات سے مراد اسکی صفات ذات ہے نہ کہ صفات فعل کیونکہ صفات ذات اسکی عین ذات ہیں جیسے حیاۃ ، علم اور قدرت ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ ذات و صفات کا متعدد ہونا اسکی ترکیب اور تجزیہ کو مستلزم ہے اور ترکیب کا لازمہ مرکب کا اپنے اجزاء کی طرف احتیاج ہے (کہ وہ مرکب اپنے وجود میں ان اجزاء کا محتاج ہے )۔ اسی طرح ذات سے صفات کا زائد ہونا لازم آتا ہے  اور یہ صفات کا ذات سے زائد ہونا موجب بنتا ہے کہ ذات ان صفاتِ کمال سے فاقد ہے اور محتاج ہے کہ کوئی اسے وہ صفات عطا کرئے  اور اس قسم کی احتیاج اس کی ذات کے  غنی ہونے سے  متناقض ہے ۔

3:۔ الوہیت میں توحید: وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۖ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِيْـمُ (البقرۃ -163)

اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

4:۔ ربوبیت میں توحید: قُلْ اَغَيْـرَ اللّـٰهِ اَبْغِىْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍ ۚ(الانعام - 164)

کہہ دو کہ کیا اب میں اللہ کے سوا اور کوئی رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے،

5:۔ خالقیت میں توحید: اَللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَىْءٍ ۖ وَّهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ وَّكِيْلٌ (الزمر-62)

اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

6:۔ عبادت میں توحید: اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتحۃ - 4)

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۚ وَاللّـٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ (المائدۃ -76)

کہہ دو کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے نقصان اور نفع کی مالک نہیں، اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا۔

7:۔امروحکم میں توحید: اَلَا لَـهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْن  (الاعراف - 54)

اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا، اللہ بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔

8:۔خوف و خشیت میں توحید: فَلَا تَخَافُوْهُـمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (آل عمران- 175)

سو یہ شیطان ہے کہ اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، پس تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو۔

 

9:۔ سلطنت میں توحید: وَقُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَـدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ وَلِـىٌّ مِّنَ الـذُّلِّ ۖ وَكَبِّـرْهُ تَكْبِيْـرًا (الاسراء -111)

اور کہہ دو سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا سلطنت میں شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے، اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔

10:۔ نفع ونقصان میں توحید: قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ شَيْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرًا (الفتح-11)  کہہ دو وہ کون ہے جو اللہ کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہوگا اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے، بلکہ اللہ تمہارے سب اعمال پر خبردار ہے۔

11:۔رازقیت میں توحید: قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ قُلِ اللّـٰهُ ۖ وَاِنَّـآ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (سبا-24)

کہہ دو تمہیں آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے، کہو اللہ، اور بے شک ہم یا تم ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں۔

12:۔ توکل میں توحید: اَللَّـهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (التغابن -13)

اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ ہی پر ایمانداروں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

13:۔ عمل میں توحید: وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٝ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰى، اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى(الیل -19،20)

14:۔ توجہ میں توحید: اِنِّـىْ وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّـذِىْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا ۖ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْن (الانعام- 79)

سب سے یکسو ہو کر میں نے اپنے منہ کو اسی کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں۔

علی امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے فرزندکوفرمایا : "جان لو اے میرے بیٹے اگر تیرے رب کا کوئی شریک ہوتا تو تم تک اس کے رسول آتے اور تم اس کی مملکت اور سلطنت کے آثار کا مشاہدہ کرتے اور تم اس کے افعا ل اور صفات کی معرفت رکھتے"

ابوحمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ امام محمد باقر علیہ اسلام نے فرمایا:" کوئی شی  بھی اللہ کی وحدانیت کی گواہی کہ لا الہ الا اللہ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں )سے عظیم نہیں ہے کیونکہ اسکی ذات کے  معادل کوئی شی نہیں اور نہ کوئی اس کے معاملہ میں شریک ہے"

رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے فرمایا:اللہ توحید کی جزاءسوائے  جنت کے نہیں  دے گا  اور اللہ نے فرمایا ہے اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد-28)

وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں۔

نتیجہ : سابقہ تمام  صورتوں میں اللہ کی توحید کا اعتقاد مقصود ہے اور اس کی یکتائی کی دلیل وہ سب آیات و احادیث ہیں جو پہلے ذکر ہوئیں ۔لہذا ضروری ہے کہ مومن کے راستہ اس کے تصرفات اور اعمال کے  مطابق ہوں۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018