19 ذو القعدة 1440 هـ   22 جولائی 2019 عيسوى 12:55 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اسلام میں سیاست |  ریاست اور اصطلاح کی پیچیدگی:
2019-02-21   47

ریاست اور اصطلاح کی پیچیدگی:

متمدن ریاست کا تصور ایک جدید تصور ہے یہ تصور مغربی ممالک میں سیکولرزم اور کلیسا کی شدید جنگ کے بعد سیکولرزم کی فتح کے نتیجے میں اور بھی پختہ ہوگیا جس کی وجہ سے ریاستی نظام کلیسا کی مداخلت اور تسلط سے آزاد ہو گیا اور کلیسا کا کردار صرف اپنے پیروکاروں کے لئے روحانی اور معنوی رہنمائی کرنے کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ اس سے پہلے مغربی ممالک میں ریاست مکمل طور پر کلیسا کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ متمدن ریاست کا تصور ایک ایسی جدید ریاست کی عکاسی کرنے لگا جو زندگی کے مختلف شعبوں میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں پر قادر تھی اور یوں ریاست کے ادارے نے مغرب میں بہت زیادہ ترقی کی چاہے وہ حکمرانی کا نظام ہو یا حکومتی ذمہ داریوں کا نظام ۔چونکہ ریاست کی اصطلاح بارہویں صدی عیسوی میں رائج ہوئی اور رفتہ رفتہ اس اصطلاح نے ترقی کرنا شروع کی۔ یہاں تک کہ یہ ایک مخصوص معنی سے عبارت ہو گئی۔ سیاسی جغرافیہ میں جدید حکومت تین عناصر سے مل کر تشکیل پاتی ہے عوام، زمین اور ریاست طاقت۔ اس کے باوجود کے متمدن ریاست کے تصور کا تاریخی پس منظر بسا اوقات بعض مسلمانوں کے لئے حساسیت کا باعث بنتا ہے کہ یہ جدید تصور ریاست تو مغربی ثقافت کی پیداوار ہے مگر یہ کہ یہ حساسیت یا تو ختم ہو جاتی ہے یا ضروری ہے کہ اس جدید تصور ریاست کو اس کی تاریخی پس منظر سے جدا کرکے ملاحظہ کیا جانا چاہیے۔ اس جدید تصور ریاست  نے بہت زیادہ ترقی کی اور اس نے اچھی ریاست کیلئے مثالی اقدار کو روشناس کروانا شروع کر دیا جیسے عدل کی قدر اور مساوات کی قدر اور آزادی کی قدر اور انسانی حقوق کے احترام کی قدر اور قانون کی بالا دستی کی قدر اور دیگر بہت ساری اقدار کہ جو مجموعی طور پر معاشرے کے لئے ایک اچھی ریاست کو تشکیل دیتی ہیں اور اسلام اس کی طرف دعوت بھی دیتا ہے اور اس کی تشویق بھی دلاتا ہے اور جب تک یہ نظام اسلام سے ٹکراتا نہیں اسلام اس سے منع بھی نہیں کرتا اور جب ہم مذہبی کتابوں کی عبارتوں میں غوروفکر کرتے ہیں تو ہمیں ان میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جو کسی خاص قسم کی ریاست کی تشکیل کی طرف دعوت دیتی ہو بلکہ ہمیں کئی ایسی مذہبی تعبیریں ملتی ہیں جو ایسی اقدار اور بنیادی اکایوں پر زور دیتی ہیں جن پر کسی بھی ریاست کا مشتمل ہونا ضروری ہوتا ہے باالفاظ دیگر اسلام سیاسی اقدار کو مطمع نظر قرار دیتا ہے نیز اسلام ریاست کی طرز حکمرانی کو زمانی و مکانی تبدیلیوں پر موقوف قرار دیتا ہے اور چونکہ کہ حکومت سیاسی معاشرے کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کا انتظام وانصرام سنبھالے اور عوام کے معاملات کو اچھے طریقے سے چلانے کے لئے اقدامات اٹھائے اور جہاں تک حکومت کی شکل و صورت اور طرز حکمرانی کا تعلق ہے تو اس کو عوام پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ وقتا فوقتا بدلنے والے عوامی مفاد کے تقاضوں کے مطابق حکومت کو جیسا چاہیں تشکیل دیں جب تک حکومت کا محور اسلام ہے متمدن حکومت جدید مملکت کے بارے میں نئی تعبیر کے طور پر اور نئی رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اس کی جدت شریعت اسلامی پرعملدرآمد گی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ نہیں رکھتی یا یوں کہا جائے کہ اسلامی ممالک میں طرز حکومت ایسا ہی ہونا چاہیے لہذا جدید مملکت کے نظام اور قوانین میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ متصادم ہو ۔اس لئے اسلام میں ملک کی ترقی اور گزشتہ قوموں کے تجربوں سے بہرہ مند ہونے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے یہ ایک ایسی انسانی پیشرفت کی مانند ہے جس سے فائدہ حاصل کرنا ہماری ترقی کے لئے لازم اور ضروری ہے گزشتہ کئی صدیوں سے اسلامی ممالک کسی خاص مذہب کے لئے یا کسی خاص فقہی مسلک یا کسی خاص مذہبی جماعت کے لئے حکومت بنانے کے لئے مشکل کا شکار رہے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال عباسی حکومت کے دور میں پیش آنے والے چند واقعات ہیں کہ جب خلق قرآن کی فتنہ نے سر اٹھایا یا جب مکتب معتزلہ یا مکتب اشاعر ہ وجود میں آئے اور انھوں نے باقی فقہی اور کلامی مکاتب فکر کی سرکوبی کی خاطر نفاذ شریعت کے نعرے کے بلبوتے پر ریاست قائم کی اور دراصل یہ عمل ایک خاص نقطہ نظر کی تشکیل یا کسی خاص مکتب فکر کے رونما ہونے تک محدود نہ رہا بلکہ عوامی آزادی کے دائرے کو تنگ کرنے کا سبب بنا اور یہ عمل علمی اور ثقافتی ایجادات کے میدان میں رکاوٹ بنا اور دوسروں کی رائے کی سرکوبی اور بے احترامی کا باعث بھی بنا اور یہ عمل اسلامی سیاسی طرز فکر کے سراسر خلاف ہے کہ جب ریاست اسلام کو محور قرار دیتی ہے اور تمام انسانوں کو برابری کی سطح پر اپنے افکار و نظریات ومذاہب اور مختلف مکاتب فکر پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی دیتی ہے اور اگر ایک دوسری جھت سے دیکھا جائے تو مذہبی ریاست کا تصور ایک اصطلاح کے طور پہ مذہبی تعبیروں میں وارد نہیں ہوا ہے۔ با این معنی کہ اسلام کی بنیادی سیاسی اقدار کسی خاص قسم کی خود مختار حکومت کی بنیاد نہیں ڈالتی ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ایک انتظامی ادارے کے طور پر حکومت اسلام کو مرکزی حیثیت دینے کی پابند ہو اور کسی بھی ایسی قانون گذاری کو قبول نہ کرے جو اسلام کے مسلمات کے خلاف ہو اور جہاں تک نئے قوانین سے استفادہ کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایک ناگزیر عمل ہے جیسے ٹریفک کے قوانین اور عدالتی قوانین اور ملازمت وغیرہ کے وہ دیگر قوانین کہ جن کے بارے میں کوئی واضح مذہبی ہدایات بیان نہیں ہوئی ہیں اس شرط کے ساتھ کہ ان میں کوئی خلاف شریعت چیز نہ پائی جاتی ہو۔مذہبی ریاست کا تصور دوچیزوں میں واضح اشتباہ کا نتیجہ ہے ایک، اسلامی ممالک میں اسلام کو ریاست کے لیے مرکزی حیثیت کا حاصل ہونا اور دوسرے ریاست کو چلانے کے جدید وسائل اور ذرائع کو استعمال کرنا۔ ریاست کا اسلام کو مرکزی حیثیت دینے کا پابند ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں ایک خاص قسم کی خود مختار حکومت کی بنیاد ڈالتا ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم اسلامی ریاست میں قانون گزاری شریعت اسلامیہ کے مطابق کریں یا یوں کہا جائے کہ اسلامی ریاست کی قانون گزاری میں کوئی چیز اسلام کے خلاف نہ ہو اور جہاں تک تعلق ہے اسلامی ریاست کے حکمران کا کہ اس کو عالم دین ہونا چاہیے یا عالم دنیا؟ تو یہ چیز عوام کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہے حکمران بنائے اس بنیاد پر کہ حکمران اور عوام کے درمیان تعلق لازمی طور پر دوطرفہ معاہدے کی صورت پر استوار ہونا چاہیے نہ کہ جبر و استبداد کی صورت میں لہذا ریاست عوام سے الگ کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ ریاست تو صرف روزمرہ کی زندگی کے معاملات میں عوام الناس کے سیاسی ،قانونی اور انتظامی چاہت اور ارادے کی عکاسی کرتی ہے اور جب ہم ریاست کے تاریخی ارتقاء کا مطالعہ، ایک تصور کے طور پر کرتے ہیں اور اس کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر ملاحظہ کرتے ہیں کہ جس کے لئے زمانہ قدیم سے لے کر عصر حاضر تک کی مختلف تعبیریں اور معانی موجود ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ریاست کےانتظام و انصرام کے مسائل اور طریقوں میں ایک حیرت انگیز ارتقاء موجود ہے گزشتہ ادوار میں ریاست انتہائی سادہ تھی اور اس کو بہت آسانی سے چلایا جاتا تھا مگر آج ریاست ایک بہت بڑا انتظامی ڈھانچہ بن چکی ہے اور اب اس کو بہت دقیق منظم اور قانونی اعتبار سے انتہائی شاندار انداز سے چلایا جاتا ہے کیونکہ اب ہم الیکٹرانک کے تصور کو رواج پاتا دیکھ رہے ہیں کہ جو ماضی قریب تک موجود نہ تھا اور وہ اسلام کہ جو پیشرفت ،ترقی اور اس سے مربوط وسائل و ذرائع کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ریاست کی ایسی ترقی اور جدت سے منع نہیں کرتا کہ جس میں عوامی بہبود کی خدمت اور اس کے مقام کی حفاظت موجود ہو اور ایک انسانی اور سیاسی معاشرے کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت کے طور پر ان کا باقی رہنا مقصود ہو۔ متمدن ریاست کا تصور جب وسائل و ذرائع اور انتظام میں مسلسل ترقی اور جدت سے عکاسی کرتا ہے تو یہ کوئی ایسا تصور نہیں ہے جو اسلام سے ٹکراتا ہوبلکہ اس کے برعکس اسلام تو اسی کی طرف دعوت دیتا ہے اور اسی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے لیکن یاد رہے کہ ہم یہاں پر اسلام کے ایسے مسلمات کی بات نہیں کر رہے جو تغیر پذیر نہیں ہیں بلکہ ہم یہاں پر اسلام کے تغیر پذیر پہلو کی بات کر رہے ہیں مثال کے طور بے ریاست کو چلانے اور اس کو ترقی یافتہ بنانے کیلئے جدید وسائل کا استعمال کرنا۔ موضوع بحث میں متمدن ریاست کی اصطلاح بطور اصطلاع اہم نہیں ہے بلکہ اہم چیز متمدن ریاست کا تصور اور اس کے بنیادی عناصر ہیں اور جب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ کوئی شخص متمدن ریاست کے تصور سے دین اور زندگی کی جدائی اور اسلام کی مشروط مرکزی حیثیت مراد لیتا ہے تو یہ حتمی طور پر ناقابل قبول حقیقت ہے لیکن اگر متمدن ریاست کے تصور سے مقصود ریاست کی اسی ترقی اور جدت ہو کہ جو مفاد عامہ کی حفاظت ،عوام الناس کے لیے آزادی کی فراہمی قانون کی بالا دستی ،تمام شہریوں کے لیے برابری کی سطح پر مواقع کی فراہمی اور شہریت کے تصور کی گہرائی پر مشتمل ہو تو یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا مہیا کرنا جدید ریاست کی ذمہ داری ہے اور ان تمام امور کی فراہمی کے بعد ہم جدید ریاست کو کوئی بھی ایسا نام دے سکتے ہیں جو عوام کو پسند ہو۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018