19 محرم 1441 هـ   18 ستمبر 2019 عيسوى 2:51 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | حضرت محمد(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نبوت سے پہلے |  دور جاہلیت کی جنگیں اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار
2019-02-21   141

دور جاہلیت کی جنگیں اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث برسالت ہونے کے بعد اپنے بارے میں فرماتے تھے کہ میں نے کوئی ایسا کام  انجام نہیں دیا جسے زمانہ جاہلیت میں اہل جاہلیت  انجام دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری جوانی کے ایام میں کوئی ایسا فعل یا عمل انجام نہیں دیا، جسے عام طور پر جوان اپنی جوانی کے دوران بجالاتے ہیں، آپ اپنی ابتدائی زندگی سے ہی صداقت، امانت اور عفت  کے لحاظ سے معروف تھے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے ماحول میں پروش پائی کہ جس میں عرب  آپس کی جنگ وجدال میں مصروف تھے، اور یہاں تک کہ شھر الحرام کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے۔ انہیں جنگوں میں سے ایک جنگ وہ تھی جو 15عام الفیل میں قریش اوربنی قیس کے درمیان میں ہوئی۔ یہ جنگ ان دنوں میں ہوئی جن میں لڑنا منع تھا، اس لیے اسے حرب فجار کہتے ہیں۔

یہ چار جنگیں تھیں کہ جن میں محارم کو بھی حلال قرار دیا گیا۔ ابو الفرج اصفہانی جو ایک مشہور ومعروف مورخ اور نسب شناس ہے اس کے مطابق ان کی تفصیلا ت کچھ اس طرح ہیں:

دور جاہلیت کے چار بڑے تنازعات

فجار اول:

یہ  تنازعہ قبیلہ بنی کنانہ اور ہوازن کے درمیان ہوا اور اس کی وجہ کچھ یوں بیان ہوئی ہے کہ عکاظ کے میلہ میں بدر بن معشر کا ایک خاص اجتماع ہوتا تھا، جہاں وہ اپنی بلند وبالا شخصیت اور مرتبے کا اعلان کرتا، اور فخر وغرور کا اظہار کرتا تھا۔ ایک روز یوں ہوا کہ وہ پیر پھیلا کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا  کہ میں عرب کا سب سے زیادہ معزز فرد ہوں۔ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ باعزت اور بلند مرتبے کا مالک ہے وہ اس پیر پر تلوار مار دے۔ ایک  شخص اٹھا اور اور اس نے تلوار چلادی جس سے اس کا پیر زخمی  ہوگیا۔ اس طرح دونوں قبیلوں میں جنگ شروع ہوئی۔ جنگ کے شعلے بھڑکنے والے ہی تھے کہ دونوں قبائل کے کچھ لوگوں نے اس کو حل کرنے کی کوشش کی اور وہ جنگ عارضی طور پر ٹل گئی۔ چونکہ یہ جنگ رجب کے مہینہ میں ہوئی تھی اور عرب کے لوگ ذوالقعدہ،ذوالحجہ، محرم اور رجب  کے مہینوں کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان مہینوں میں لڑائی کرنے کو گناہ جانتے تھے۔ عام طور پر ان مہینوں میں لوگ تلواروں کو نیام میں رکھ دیتے۔اور نیزوں کی برچھیاں اتار لیتے تھے لہذا اس جنگ کو گناہ سے تعبیر کیا گیا۔

فجار دوم:

یہ تنازعہ بھی بنی قریش اور ہوازن کے درمیان ہوا، اس کی وجہ یہ تھی کہ بنی عامر کی ایک عورت بازار عکاظ میں بیٹھی ہوئی تھی، کہ قریش کے ایک نوجوان نے اس خاتوں سے دست درازی کرنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے یہ جنگ چھڑ گئی، تھوڑا سے خون خرابہ بھی ہوا، لیکن قریش کی جانب سے حرب بن امیہ بن عبد شمس نے  خون کی دیت ادا کرنے کا وعدہ کیا اور دونوں قبائل کے درمیاں صلح کرائی اس طرح یہ جنگ بھی ختم ہوئی۔

فجار سوم:

یہ تنازعہ  بھی قبیلہ بنی  کنانہ اور ہوازن کے درمیان ہوا، اس کی وجہ یہ تھی  کہ بنوہوازن کے ایک شخص نے بنوکنانہ کے ایک شخص کو قرض دیا تھا، پھروہ غربت اور افلاس کی وجہ سے وہ ادا نہیں کرسکا اور اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے لگا، جب وہ بازار عکاظ پہنچا  تو بنی ہوازن میں سے ایک  شخص کھڑا ہوا  اور بنی کنانہ کو طعنہ دینا شروع کیا ، جس کا یہ شخص برداشت نہ  کرسکا، اور اٹھا اور تلوار سے بنی ھوازن کے اس شخص کو قتل کردیا، اس کے نتیجہ میں جنگ شروع ہوئی، اور بالاخر بنی کنانہ نے دیت ادا کردی اور جنگ ختم ہوگئی۔

فجار چہارم

یہ جنگ قریش و کنانہ کے تمام قبائل اور ہوازن و قیس کے تمام قبائل کے درمیان لڑی گئی، اس جنگ کی وجہ یہ تھی، کہ نعمان بن منذر (ملک حیرہ ) اپنا تجارتی قافلے جس میں اونٹوں پر کپڑے اور خوش بو کا سامان ہوتا تھا وہ اسے بازار عکاظ بھیجتا تھا، تاکہ یہ چیزیں یہاں فروخت ہوں، قافلے کو وہ کسی عرب سردار کی ذمہ داری پر بھیجتا تھا، تاکہ اس کی حفاظت ہوسکے۔ ایک مرتبہ اس مقصد سے قافلہ بھیجنے کی تیاری کی تو اس کے پاس عرب کے کچھ افراد موجود تھے۔ ان میں بنوکنانہ کا براص اور ہوازان کا عروۃ الرحال بھی شامل تھا۔ براص نے کہا میں بنو کنانہ کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ وہ اس سے تعرض نہیں کریں گے۔ نعمان نے کہا میں ایسا شخص چاہتا ہوں کہ جو پورے اہل نجد وتہامہ کی طرف سے پناہ دے سکے۔ اس پر عروۃ الرحال نے کہا کہ میں ذمہ داری لے سکے۔ براص نے کہا کہ کیا تم کنانہ کے مقابلہ می بھی ضمانت دو گے؟ عروہ نے کہا ہاں۔ فقط کنانہ ہی  کیا میں اہل شیخ وقیصوم کے مقابلہ میں بھی پناہ دے سکتا ہوں۔ اس بات پر تکرار اور تو تو میں میں ہونے لگی۔ اور آخر میں عروہ کو قتل کردیا گیا، یوں دونوں قبائل کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور یہ جنگ چھے روز تک جاری رہی۔ یہ واقعہ رجب کے مہینہ میں پیش آیا۔ بعض مورخین کے مطابق اس وقت حضور اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم  کی عمر مبارک سترہ اور بیس سال کے درمیان تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم  نے اپنے چچاوں کے ہمراہ اس جنگ میں شرکت کی۔بعض مورخین کے مطابق اس تنازعہ کا سبب ماہ رجب میں وجود میں آیا تھا،  اور خود جنگ اس  مہینہ میں نہیں ہوئی تھی۔

آپ کی شرکت ثابت  نہیں ہے:

اگرچہ بہت ساری روایات اور تاریخی مصادر  دلالت کرتے ہیں  کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جد امجد حضرت عبد المطلب کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوئے  تھے، لیکن بہت ساری اور روایات بھی موجود ہیں جو کہتی ہیں کہ قریش کے قبائل میں سے بنی ہاشم ایک ایسا قبیلہ تھا کہ جو کسی ایسی  جنگ کا حصہ نہ بنا  جس میں  کسی مظلوم پر ظلم وستم ہو  ا ہو اور کسی کی عزت اور ناموس کو پامال کیا گیاہو۔ 

روایت کی گئی ہے کہ جب جناب ابو طالبؑ کو  کسی نے  فجار کی جنگوں میں سے کسی جنگ میں شرکت  کی دعوت دی جو رجب کے مہینہ میں لڑی جارہی تھی  تو آپ نے جواب دیا یہ سراسر ظلم وزیادتی ہے، اور شہر الحرام کی عظمت وحرمت کے خلاف ہے  لہذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں یا میرا  قبیلہ اور خاندان کا کوئی فرد اس میں شریک ہوجائے ۔ تو حرب بن امیہ اور عبداللہ بن جدعان تیمی نے کہا:  ہم آئندہ کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے  جس میں بنی ہاشم شریک نہ ہو۔ اور انہوں نے بنی ہاشم کے سردار زبیر بن عبد المطب کو نکال دیا۔ اور انہوں نے ابو طالب سے کہا: اے مطعم طیر اور حاجیوں کے سقاء کے فرزند! ہم سے جدا نہ ہوں، کیونکہ آپ کی شرکت اور تعاون ہمارے لیے فتح وکامرانی کا سبب ہے۔ تو ابوطالب نے جواب دیا: تم لوگ ظلم وستم، بہتان، الزام تراشی اور قطع تعلق کرنے سے اجتناب کرو تب  میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا اور کبھی بھی تم سے جدا نہیں ہوں گا۔ پس ان تاریخی شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرکت ان جنگوں میں ثابت نہیں ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018