21 ربيع الاول 1441 هـ   19 نومبر 2019 عيسوى 5:49 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | دین اسلام کیوں ؟ |  اسلامک آئیڈیالوجی
2019-02-20   271

اسلامک آئیڈیالوجی

 

دین پرآئیڈیالوجی کا عمومی اطلاق اور اسلام پرآئیڈیالوجی کا خصوصی اطلاق درحقیقت ایک توصیفی استعارہ ہے وگرنہ دین کا مفہوم اور اس کے معنیٰ آئیڈیالوجی سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اسلام کوآئیڈیالوجی سے تعبیر کرنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی اصولوں کی وضاحت کریں جو حقیقیت میں دین مقدس اسلام میں وجود رکھتے ہیں اور جن کے ذریعے انسانی رویوں کے صحیح یا غلط ہونے اور ان کے شریعت کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، اسلامک ا  ٓئیڈیالوجی میں اتنی وسعت موجود ہے کہ وہ موجودہ نطام اورزمان ومکان کے بدلنے کے ساتھ ساتھ وجود میں آنے والا ہر نظام کے ساتھ مطابقت پیدا کرسکے۔

اسلامک آئیڈیالوجی ایک جامع نظریہ کا نام ہے، کہ جس میں تمام مسلمات پر اعتقاد شامل ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی واجب الووجود ذات کو تسلیم کرنا کہ جو اس کائنات کو عدم سے وجود میں لائی، اسی طرح تمام گزشتہ انبیاء کرامؑ، ان پر نازل ہونے والی کتابوں اور ان کی شریعت پر ایمان لانا، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبوت اور خاتم الرسل ماننا، آپ کی شریعت کو  آخری شریعت اور قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ماننا اس طرح کہ جس میں باطل کا شائبہ تک موجود نہ ہو۔ اسی طرح یہ ایمان رکھنا کہ کائنات کو عدم سے وجود میں لانے والی ذات اللہ کی ہے، اور قیامت کے دن ہر انسان سے اس دنیا میں انجام پانے والے تمام اعمال کا حساب وکتاب ہوگا۔

اسلامک آئیڈیالوجی میں ان اعتقادات کے علاوہ بھی بہت سی اہم چیزیں شامل ہیں جیسے بندگی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے اس کے علاوہ کسی کی  بندگی جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو آزاد خلق کیا ہے اور یہ آزادی ربِ ذوالجلال کا عطیہ  ہے، اورنظریہ اسلام ہر اس سوچ کی نفی کرتا ہے کہ جس کی  وجہ سے اتحاد اسلامی کو نقصان پہنچتا ہے اور جس کی بنیاد رنگ، نسل، قومیت، جنس، یا زبان رکھی گئی ہو۔ نظریہ اسلام کی پہچان صرف ایک چیز ہے اور وہ تقوی الٰہی ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو ایک انسان کی دوسرے پر فضیلت کاسبب بنے۔

ان نطریات کے حصول کے لیے اسلام نے چند ایسے کلیے، اصول اور طریقہ کار وضع کیئے ہے جن کو اختیار کرتے ہوئے انسان ان نظریات کو حاصل کرسکتا ہے وہ  مندرجہ زیل ہیں:

اسلام کا معاشرتی نظام( Community system): یہ نظام معاشرتی استحکام اور سماجی یکجہتی کے لیے ایک متحرک ماحول فراہم کرتا ہے. اسلام کا نظریہ اقدار: یہ نظام انسانی خواہشات اور ذاتی ترجیحات کو کیسے روکنا ہے اور اپنی آرزوں، اور خواہشات پر دوسروں کو فوقیت اور ترجیح  کیسے دینی ہے یہ نظام  اس کا طریقہ  کارکووضع کرتا ہے۔

اسلام کا نظریہ حقوق:  یہ ایک ایسا نظام ہے کہ جس کے ذریعہ ایک ایسا ماحول اور معاشرہ وجود میں لایا جاتا ہے جو مفادات کے ٹکراو سے انسان کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور مفادات کے عدم تصادم کو یقینی بناتا ہے کہ جس  سے حرص اور لالچ کو روکا جاتا ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018