6 صفر 1442 هـ   24 ستمبر 2020 عيسوى 11:14 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | قرآنی معجزات |  أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا(سورۃ النساء:۸۲) قرآن کریم ابدی معجزہ :
2020-05-26   105

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا(سورۃ النساء:۸۲) قرآن کریم ابدی معجزہ :

فَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا(سورۃ النساء:۸۲)

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اور اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بڑا اختلاف پاتے۔

معجزہ کیا ہے؟

معجزہ ان فطری اور طبعی قوانین کے ٹوٹنے کا نام ہے جو کہ انسان کے نزدیک تبدیل نہیں ہو سکتے اور اس کو معجزہ بھی اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ عام حالات میں یہ قوانین کبھی بھی نہیں ٹوٹتے بالفرض اگر کبھی ٹوٹتے رہتے ہوں تو پھر یہ کام معجزہ نہ ہو گا۔مثلا آگ ہر اس چیز کو جلا دے گی جو جلنے کے قابل ہےبشرطیکہ اگر اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اسی طرح کوئی بھی شخص مرنے کے بعد اس دنیا میں زندہ نہیں ہوتا، لاٹھی کبھی سانپ نہیں بن سکتی،انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پرندوں کی زبان سمجھ سکے اور اس طرح کی دیگر کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔معجزہ کی یہ بھی تعریف کی جاتی ہے کہ یہ زندگی کے طبعی قانون کو توڑنے اور کسی عام طور پر ناممکن سمجھے جانے والے کام کے ہو جانے کا نام ہے۔

معجزہ وہ سچی دلیل ہے جسے نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا شک کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی اپنے انبیاءؑ کے ہاتھوں اسے جاری کرتا ہے تاکہ لوگ انہیں جھٹلا نہ سکیں اور ان کی آسمانی رسالت کی تصدیق کریں کہ وہ رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں وہی رب جو قانون کو بنانے پر قدرت رکھتا ہے اس کو توڑنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔

انبیاءؑ کے معجزات مختلف کیوں ہیں؟

انبیاءؑ کے معجزات ایک دوسرے سے مختلف ہیں انبیاءؑ کے معجزات میں کوئی مشابہت نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نبیؑ الگ معاشرے میں زندگی بسر کرتا تھا، جہاں اسے مبعوث کیا جاتا ہے جو اس زمانے اور معاشرے کے لوگ تھے معجزہ ان پربرتری کے لیے ہوتا تھا کیونکہ ہر نبی کے حالات اور لوگ مختلف ہوتے ہیں اس لیے معجزات بھی مختلف ہوتے ہیں۔جیسے حضرت مسیحؑ کے زمانے میں طب نے بہت زیادہ ترقی کر لی تھی اور طب یونانی کا سرخیل جالینوس تھا ایسے میں حضرت مسیحؑ کا معجزہ اس صورتحال کے مطابق بہت ہی واضح تھا کہ آپ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتے تھے چنانچہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ تُبۡرِیٴُ الۡاَکۡمَہَ وَ الۡاَبۡرَصَ بِاِذۡنِیۡۚ وَ اِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی بِاِذۡنِیۡ ۚ (سورۃ المائد:۱۱۰)

اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھے اور تم میرے حکم سے مردوں کو (زندہ کر کے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اس کے ذریعے حضرت مسیحؑ کو جالینوس اور اس کی طب پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ فرعون کے زمانے میں جادو کا دور دورہ ہو گیا تھا حضرت موسیؑ کوجو معجزہ دیا گیا وہ ان سب سے بڑا تھا۔

دیگر انبیاءؑ کے معجزات

حضرت ابراہیمؑ جنہیں اس وقت کے طاغوت نمرود اور اس کی بڑی آگ کا سامنا تھا جو خاص قسم کی لکڑی سے جلائی گئی تھی اور آپ کو منجنیق کے ذریعے اس میں پھینک دیا گیا تو وہ آگ آپؑ پر سرد اور سلامتی والی ہو گئی قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ(سورۃ الانبیاء:۶۹)

ہم نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا۔

حضرت موسیؑ کے لیے اللہ تعالی نے دریا میں راستے بنا دیے تاکہ وہ اس کے ذریعے فرعون کے مظالم سے بچ سکیں قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ (الشعراء:۶۳)

پھر ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی اپنا عصا سمندر پر ماریں چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر حصہ عظیم پہاڑ کی طرح ہو گیا۔

اسی طرح اللہ نے حضرت موسیؑ کوعصا کا معجزہ بھی دیا جس کے ذریعے حضرت موسیؑ فرعون وہامان کے سامنے ان کے بڑے جادوگروں پر غالب آئے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(فألقى موسى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ) (الشعراء -45 ـ 46)

پھر موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو اس نے دفعتاً ان کے سارے خود ساختہ دھندے کو نگل لیا۔اس پر تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے۔

حضرت سلیمانؑ کا معجزہ یہ تھا کہ آپؑ پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ کلام کرتے تھے ارشاد باری تعالی ہے:

(وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ إِنَّ هذا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ) (النمل -16)

اور سلیمان داؤد کے وارث بنے اور بولے: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی کی تعلیم دی گئی ہے اور ہمیں سب طرح کی چیزیں عنایت ہوئی ہیں، بے شک یہ تو ایک نمایاں فضل ہے۔

قرآن کریم خاتم الانبیاءؑ کا معجزہ:

قرآن کریم نبی اکرم حضرت محمدﷺ کا معجزہ ہے جو آپﷺ پر عربی زبان میں نازل ہوا۔اس وقت جاہلی ادب کا دور دورہ تھا شعر اپنے عروج پر تھا کعبہ کے اپر سات قصیدے لٹکا دیے گئے تھے جنہیں سبعہ معلقہ کہا جاتا تھا جنہیں سب سے بہترین کلام مانا جاتا تھا۔ایسے میں اللہ نے قرآن مجید کو نازل فرمایا جس کی زبان و بلاغت عربوں کی زبان و بلاغت سے بہت بلند تھی۔قرآن نے ان کو چیلنج دیا کہ قرآن جیسا کلام لے کر آئیں کوئی بھی انسان قرآن سا کلام نہ لا سکا اور وہ سب عاجز آ گئے یہاں تک کہ قرآن کی ایک سورہ جیسی کوئی سورہ بھی نہ لا سکے اسی لیے قرٓن مجید میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

(أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِين)﴿يونس - 38)

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو (محمد نے) از خود بنایا ہے؟ کہدیجئے: اگر تم (اپنے الزام میں) سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جسے تم بلا سکتے ہو بلا لاؤ۔

یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا جسے بہت سے لوگوں نے سنا اور کوئی بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکا ایک بدو ایک جگہ سے گذرا جہاں کوئی شخص قرآن مجید کی ایک آیت کی تلاوت کر رہا تھا: (وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ) (هود -44)

اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان! تھم جا اور پانی خشک کر دیا گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی (کوہ) جودی پر ٹھہر گئی۔

اس اعرابی بدونے قرآن کے یہ الفاظ سننے کے بعد کہا کہ خدا کی قسم یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے۔ اس اعرابی کو معنی کی گہرائی،عربی کے اچھے اظہار،بیان کے حسن اور پیش کرنے کے سلیقے نے متاثر کیا کیونکہ یہ لوگ ادب جاہلی کے اسلوب کلام کو سمجھتے تھے جب اس سے بالکل جدا اور منفرد چیز دیکھی جو ان کی فہم سے زیادہ خوبصورت اور حسین تھی تو کہہ اٹھے کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے بلکہ خدا کا کلام ہے۔

اس سے ذہن میں یہ خیال ہرگز پیدا نہ ہو کہ قرآن صرف اور صرف اپنی بلاغت اور ادب میں ہی معجزہ ہے بلکہ قرآن مجید اپنی سائنسی معلومات اور تاریخی واقعات (جو اس وقت واقع نہیں ہوئے تھے بعد میں واقع ہوئے )کے بارے میں پہلے سے بتا دینے کے لیے معجزہ ہے۔قرآن نے یہ سب کچھ ٹیکنالوجی سے پہلے بیان کر دیا تھا اور اس کا بتانا جدید آلات کے آنے سے پہلے کا ہے۔

قرآن نے چودہ سو سال پہلے وہ معلومات دقیق انداز میں فراہم کر دی تھیں جنہیں آج کھویا گیا۔بہت سی معلومات قرآن میں اشارتا بیان ہوئی تھیں جو تحقیق کی بنیاد ٹھہریں ۔ وہ رموز جو قرآن میں پنہاں تھے انہیں جدید سائنس سے ملنے والی معلومات درست ثابت کر رہی ہیں۔بطور مثال جین کیسے نشو نما پاتا ہے؟ اس کے تمام مراحل،بحر مردار زمین کا سب گہراعلاقہ ہے،اسی طرح فرعون کے حضرت موسی ؑ کے واقعہ میں غرق ہونے کا بتاتا ہے،خنزیر کا گوشت کھانے میں بہت زیادہ ضرر ہے اور اسی طرح کی اور بہت سی اطلاعات ہیں۔بہت سے لوگ ایسے واقعات پڑھنے کے بعد اسلام لے آتے ہیں کیونکہ ان کے لیے حق واضح ہو جاتا ہے۔اس سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ قرآن مجید میں کو ئی مشکل اور سمجھ میں نہ آنے والی بات نہیں یہ سارا مسئلہ جدید دنیا کا اس کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنے کا ہے اس کو سمجھنے اور اس کی معرفت کی کوشش اس طرح نہیں کی جاتی۔

قرآن کی سبقت علمی:

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: (لكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ) (الانعام-67)

اور ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

سورہ انعام کی آیت مجیدہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرآن مجید میں بہت سی سائنسی معلومات موجود ہیں۔ان معلومات کو انسان زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دریافت کرے گا اب ہم اس آیت مجید کے الفاظ کے معانی پر تھوڑی روشنی ڈالتے ہیں۔

(لكل نبأٍ) اس سے مراد ہر وہ خبر ہے جس کی طرف قرآن مجید میں اشارہ کیاگیا ہے۔

(مستَقرٌّ) اس کی خبریں جو قرآن مجید کے صفحات میں بیان کر دی گئی ہیں وہ موجود رہیں گی۔

(وسوف تعلمون) یعنی تم لوگ ان حقائق کو زمانہ گزرنے کے ساتھ ہی جان سکو گے۔

موجودہ زمانے میں سائنسی ڈسکوریز ہو رہی ہیں یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید نے اسے بہت پہلے بتا دیا تھا اور اسے بتائے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اورمعلومات طویل زمانے سے قرآن مجید کے صفحات میں موجود تھیں یہاں تک کہ موجودہ دور آیا اور علمی و تحقیقی طور پر ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی اور اس میں ان معلومات کو ڈسکور کیا گیا ۔سائیسدانوں نے بڑی محنت کی اور بہت سی مشینوں کو ایجاد کیا بڑی گہری علمی ابحاث کے بعد ان باتوں کو ڈسکور کیا گیا۔

قرآن مجید سے چند مثالوں کو پیش کر دینا مناسب ہے جن سے حقائق کے متلاشی لوگوں کی رہنمائی ہو گی کہ قرآن نبی اکرمﷺ کی لکھی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ آسمانی کتاب ہے۔

تخلیق جنین کے مراحل:

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(مَا لَکُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰہِ وَقَارًا(13) وَ قَدۡ خَلَقَکُمۡ اَطۡوَارًا) (نوح ـ 14)

۱۳۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتے؟ ۱۴۔ حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے خلق کیا۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا :

(وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ ﴿١٢﴾ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿١٣﴾ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ﴿١٤﴾) (المؤمنون ـ12ـ14)

۱۲۔ اور بتحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے بنایا۔ ۱۳۔ پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بنا دیا۔ ۱۴۔ پھر ہم نے نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو بوٹی کی شکل دی پھر بوٹی سے ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنا دیا، پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین خالق ہے۔

بہت سے محققین اور ماہرین اس طرف متوجہ ہوئے ہیں کہ قرآن مجید میں نے سب سے پہلے تخلیق کے ان علمی مراحل کو بیان کیا اور یہ ایک لمبی مدت پہلے تھا۔موجودہ دور میں ہونے والی علمی ترقی نے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھایا ہے یہ وہی حقائق ہیں جو قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیے تھے اس زمانہ سے کافی عرصہ پہلے یہ بتا دیا تھا۔کینڈا کے معروف سائینسدان کیٹی مور جو ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبہ انا ٹومی اور امبریولوجی کے سربراہ ہیں انہوں نے اپنی کتاب (The developing Human) میں ان حقائق کو بیان کیا ہے جو ماں کے پیٹ میں تخلیق جنین کے بارے میں ہیں یہ حقائق من عن وہی ہیں جو قرآن مجید میں بیان ہو چکے ہیں۔یہ سب وہی مراحل ہیں جو نطفہ کے ٹھہرنے سے شروع ہوتے ہیں اور انسان کی مکمل تخلیق تک جاتے ہیں۔اس سائنسدان نے تصدیق کی کہ قرآن نے سچ کہا ہے اور اس کی معلومات ایسی ہیں جو زمانہ جاہلیت میں کسی انسان کے پاس نہیں ہو سکتیں ۔

ارسطو ایک عظیم یونانی مفکر ہے یہ پہلا فرد ہے جس نے علم ابدان پر تحقیق کی ہے اس نے اپنے زمانے کے لوگوں کی اس حوالے سے آراء کو دو  نظریات میں خلاصہ کیا :

پہلی رائے:جنین مرد کی منی میں تیار ہوتا ہے اور اگر وہ رحم مادر میں پہنچ جائے تو اسی میں نشو نما پاتا ہے۔

دوسری رائے:جنین اصل میں حیض ہی میں ہوتا ہے منی کا کردار فقط خوراک کا ہوتا ہے اور جنین کی تخلیق میں منی کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ایک طویل زمانے تک جنین پر ہونے والی ساری کی سار ی تحقیق اسی کے اردگرد گھومتی تھی یہاں تک کہ 1677ء میں خورد بین  ایجاد ہوئی تو ارسطو کے زمانے سے جاری اس بحث کا خاتمہ ہوا  اور حقیقت آشکار ہو گئی کہ جو کچھ قرآن نے کہا ہے وہ درست ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِير) (الإنسان - 2)

۲۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا کہ اسے آزمائیں، پس ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنایا۔

مفسرین کہتے ہیں امشاج وہ مادہ ہے جو عورت اور مرد کی منی کے ملنے سے بنتا ہے یعنی امشاج دو جنسوں کا مجموعہ ہے۔۱۶۷۷ء میں  خوردین کی ایجاد سے پہلے کوئی بھی مغربی سائنسدان  یہ نہیں جانتا تھا۔اب وہ اس حقیقت تک پہنچ گئے کہ جنین مرد کی منی کے عورت کی بیضہ دانی میں ملنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے قرآن نے یہ بات چودہ سو سال پہلے بتا دی تھی۔

روم کا فارس پر غلبہ:

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے:

(الم ﴿١﴾ غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿٢﴾ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿٣﴾ فِي بِضْعِ سِنِينَ)(الروم ـ 1ـ3)

۱۔ الف ، لام ، میم۔ ۲۔ رومی مغلوب ہو گئے۔ ۳۔ قریبی ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے۔

یہ آیات سورہ روم کی ہیں جو بہت ہی واضح انداز میں بغیر کسی ابہام کے  خبر دے رہیں جو سچی قرآنی خبر ہے جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔یہ آیات فارس اور روم کے درمیان ہوئے معرکے کی طرف اشارہ کر رہی ہیں جس میں فارس کو فتح حاصل ہوئی تھی پھر قرآن نے خبر دی  کہ دس سال سے بھی کم مدت میں روم فتح پائے گا ۔یہ ایسی خبر ہے جب قرآن نے اسے بیان کیا تو  کافروں  نے اس میں شک کیا۔قرآن مجید نے تین ایسی چیزیں بتائیں ہیں جنہوں لوگ نہیں جانتے جب تک قرآن نے ان کو ذکر نہیں کر دیا:

آنے والی جنگ میں رومی  فارس پر فتح پائیں گے اور یہ ایسے ہی ہوا۔

قرآن نے زمانہ بھی بتایا ہے جو  بضع سنین ہے  اور بضع عربی میں دس سے کم کو کہتے ہیں رومیوں کو فارس پر یہ غلبہ اسی مدت میں حاصل ہو گیا جو قرآن نے بیان کی تھی۔

آیت میں فی ادنی الارض کہا ہے یعنی زمین کے سب سے  نچلے حصے میں اور وہ  بحرمردار کا علاقہ ہے  جو جغرافیائی طور پر معروف نہ تھا  اور اسے اس طرح نہیں جانا جاتا تھا  اور لوگوں کو اس کی یہ حالت جدید زمانے میں ہی پتہ چل سکی جسے قرآن نے بہت پہلے بتا دیا تھا۔

ابو لہب:

قرآ ن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴿١﴾ مَا أغنى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ﴿٢﴾ سيصلى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ﴿٣﴾ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ﴿٤﴾ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ﴿٥﴾)( سورة المسد ـ 1ـ5)

۱۔ ہلاکت میں جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو جائے۔ ۲۔ نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ ۳۔ وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں جھلسے گا۔ ۴۔ اور اس کی بیوی بھی، ایندھن اٹھائے پھرنے والی۔ ۵۔ اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی ہے۔

قرآن مجید نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ  ابو لہب اور اس  کی بیوی ام جمیل بنت حرب دونوں جہنمی ہیں۔یہ خبر بالکل سچی تھی جو پوری ہوئی  ۔اللہ کے امور میں تعجب نہیں۔یہ دونوں اللہ کے نبی ﷺ کے دشمنوں میں سے تھے جب آپﷺ نے اسلام  کی دعوت دی تو ان دونوں نے آپ کو آذیتیں دیں اور آپ  سے  جنگ کی۔لڑنے والے اور مخالفت کرنے والے بہت زیادہ تھے  ابولہب اور اس کی بیوی ان میں سے  تھے باقی اسلام لے آئے مگر ان کو دولت اسلام نصیب نہ ہوئی۔ وہ کفر کی زندگی جئے اور کفر پر ہی مرے۔ابولہب غزوہ بدر کے سات دن بعد مرا  اس نے اسلام قبول کرنے کا سوچا بھی نہیں  جب لوگوں نے منافقت میں اسلام قبول کر لیا تھا اس نے اس وقت منافقت میں بھی اسلام قبول نہیں کیا اور ان منافقین کے بارے میں ہی سورہ منافقین نازل ہوئی۔قرآن مجید نے اس کی پہلے سے  ہی خبر دے دی تھی کہ یہ کبھی بھی اسلام قبول نہیں کریں گے۔

مکڑی:

قرآن مجید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

(مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ)(العنكبوت -41)

جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنایا ہے ان کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اور گھروں میں سب سے کمزور یقینا مکڑی کا گھر ہے اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

مکڑی ایک حیوان ہے اور اس میں باقی حیوانات کی طرح مذکر و مونث ہوتے ہیں۔یہ مذکر و مونث ملکر  گھر بناتے ہیں مگر  اللہ نے جو بات کی وہ مونث مکڑی کی بات کی اور مونث کی ضمیر استعمال کی۔

یہاں حیوانات کے جدید ماہرین آتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ گھر مونث مکڑی ہی بناتی ہے مذکر گھر نہیں بناتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مادہ  کے پیٹ  ساتھ خاص مادہ لگا ہوتا ہے جس سے یہ گھر بنتے ہیں  مگر نر مکڑی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ گھر نہیں بنا سکتا۔اسی لیے گھر کی مالکن  مادہ  مکڑی ہوتی ہے یہ جنسی عمل کے بعد  مذکر کو مار دیتی ہے اسی لیے مذکر جیسے ہی یہ عمل مکمل کرتا ہے فورا  بھاگ جاتا ہے اور گھر میں رہنے کا سوچتا بھی نہیں ہے۔اسی حقیقت کا اظہار آیت مجیدہ میں آیا ہے کہ گھر مادہ کا ہوتا ہے اور وہی اسے بناتی ہے اس میں مذکر کا کردار نہیں ہوتا۔

قرآن مجید میں ایسے بہت سے علمی دعوی موجود ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے اور سائنس تمام تر ترقی کے باوجود ابھی وہاں تک نہیں پہنچی ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ قرآن نے بہت سی علمی باتیں پہلے بتائیں ہیں اور سائنس نے انہیں بہت بعد میں دریافت کیا ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018