28 صفر 1444 هـ   25 ستمبر 2022 عيسوى 7:47 pm کربلا
موجودہ پروگرام
آج کے دن (28 صفر) سنہ 11 ہجری کو محمد بن عبد اللہ، خاتم النبیین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 63 سال کی عمر میں شہید ہوگئے ۔
مین مینو

2022-08-31   39

نبی اکرمﷺ کے آباء و اجداد

خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کی شخصیت جو اسلام جیسے دین کو لے کر آئے جو دنیا کے ادیان و مذاہب میں اہم مقام رکھتا ہے۔یہ بات اس کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم نبی اکرمﷺ کے آباءو اجداد کے بارے میں غور و فکر کریں۔ یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ اسلام اور دیگر آسمانی مذاہب میں بہت زیادہ تعلق موجود ہے اگرچہ بنیادی اختلافات بھی ہیں مگر کافی تعلیمات ملتی جلتی ہیں۔ہم مختصر انداز میں نبی اکرمﷺ کے ان آباء و اجداد کے بارے میں تھوڑا جانیں گے جو انبیاءع تھے ۔آپﷺ کا نسب سب سے پہلے جس نبی ﷺ سے ملتا ہے وہ حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیھما السلام ہیں۔

۱۔جیسا کہ پہلے بتایا کہ حضرت اسماعیل وہ پہلے نبی ؑ ہیں جن سے نبی اکرمﷺ کا نسب ملتا ہے اور یہ حضرت ابراہیم ع کے فرزند ہیں اور حضرت اسماعیلؑ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت سارہ ع ہے جو بہت بزرگ اور ضعیف خاتون تھیں۔ایک بزرگ اور ضعیفہ خاتون سے پرودگار نے حضرت ابراہیمؑ پر اپنا لطف کرم کرتے ہوئے انہیں اولاد عطا کی۔

جب حضرت اسماعیلؑ تیرہ برس کے ہوئے تو آپ کے والد حضرت ابراہیمؑ نے خواب دیکھا کہ میں اسماعیل ؑ کو ذبح کر رہا ہوں۔یہ حضرت ابراہیمؑ کے لیے بڑا سخت امتحان تھا اور خود حضرت اسماعیلؑ کے لیے بھی بڑا امتحان تھا۔دونوں نے اسے اللہ کا حکم سمجھا  قرآن نے حضرت اسماعیلؑ کے اس ایمان افروز جواب کو نقل کیا جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو پورا خواب بتایا تو بیٹا نے جواب دیا:

((قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ)) ﴿الصافات -١٠٢﴾

س نے کہا: اے ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام دیں، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

اس جذبہ کو دیکھتے ہوئے اللہ کی آواز آئی:

((وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ)) ﴿الصافات ـ 104ـ105)

۱۰۴۔ تو ہم نے ندا دی: اے ابراہیم! ۱۰۵۔ تو نے خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔

آپ اس امتحان میں کامیاب ہوئے  انسان تو انسان فرشتے بھی آپ کی حکم خدا کی اطاعت پر محو حیرت تھے۔

۲۔نبی اکرمﷺ کے سلسلہ آباء میں دوسرے نبی حضرت ابراہیمؑ ہیں۔ آپ  توحید کے لیے پوری قوم کے مقابل آ گئے اور پوری قوم کے مقابل عقیدہ توحید کا دفاع کیا۔ آپ نے اپنی قدرت و طاقت کے مطابق توحید کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور بت پرستی کا قلع قمع کیا۔آپ نے دعوت  توحید میں اتنی جدو جہد کی کہ آپ کو اکیلے ایک امت کہا گیا یعنی اللہ کے پوری امت ایک شخص ہیں اور وہ حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔

حضرت ابراہیمؑ بابل میں پیدا ہوئے جو عراق کا شہر تھا۔اس کے بادشاہ کا نام آندک نمرود بن کنعان بیان کیا جاتا ہے مسیحیوں کی مقدس کتاب انجیل میں اسے ایک ایسے بادشاہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو رب کا نافرمان اور اس کے سامنے اکڑنے والا تھا اور زمین پر ایک جابر حکمران تھا۔آنذاک نمرود نے لوگوں کی بڑی تعداد کو حق کے راستہ سے گمراہ کر کے اپنی اور بتوں کی پرستش پر لگا دیا۔نمرود کو بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا تخت اسی کی سرزمین پر پیدا ہونے والے شخص کے ہاتھوں گرے گا، اس لیے اس نے مردوں کو عورتوں سے الگ کرنے کا حکم دیا تاکہ اس سے حضرت ابراہیم ؑ کو پیدا نہ ہونے دے اور آنے والی مشکل سے بچا یاجا سکے، لیکن خدا کی مرضی تھی کہ اس کا خاتمہ ہو جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی رات ماں کے پیٹ میں آئے جب  اس نے پابندی لگائی تھی۔

نمرود اپنے ریاست کے خاتمے کی پیشگوئی سے اتنا خوفزدہ تھا کہ اس نے فقط مردوں عورتوں کو الگ نہیں کیا بلکہ اس نے ان بچوں کو بھی قتل کرایا جو ان ایام کے مطابق پیدا ہوئے تھے۔آپ کی والدہ آپ کی ولادت کے وقت آپ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شہر کے مضافات میں چلی گئی۔وہاں آپ کی ولادت ہوئی اور آپ تیرہ سال کی عمر تک وہیں رہے۔ جب آپ واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں اور ان کا عقیدہ فاسد ہے۔آپ نے تبلیغ دین کے سلسلے کا آغاز کیا  اور سب سے پہلے اپنے قبیلے سے کام شروع کیا اور اپنے چچا آزر کو تو حید کی دعوت دی جو بتوں کی پرستش کر رہا تھا۔اس کے بعد آپ نے ان گروہوں کی رہنمائی شروع کی جو ستارہ پرستی  اور دیگر مظاہر کو پوج رہے تھے۔آپ نے ان تمام گروہوں کو مضبوط  دلائل کے ساتھ  قائل کرنے کی کوشش کی اور مسلسل انہیں اللہ کی راہ کی طرف بلاتے رہے۔

۳۔نبی خدا حضرت نوح ؑ آپ صبر اور اللہ کے راستے میں مسلسل جدو جہد کی علامت ہیں۔آپ نے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ہر طرح سے قوم کو اسلام کی دعوت دی۔حضرت نوح ؑ اللہ کے وہ پہلے نبی ﷺ ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے کشتی ایجاد کی۔بعض روایات میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے پچیس سو سال کی عمر پائی۔

۴۔حضرت ادریس ؑ آپ کو تورات میں اخنوخ کہا گیا ہے اور عربی میں ادریس ؑ کہا جاتا ہے۔ آپ اللہ کے وہ نبی ہیں جو علم نجوم،ھیئت اور علم حساب جانتے تھے اسی طرح آپ اللہ کے پہلے نبی ہیں جنہوں نے امت کو لباس سینا سکھایا۔

۵۔حضرت آدمؑ اللہ کے سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ کے زمین پر پہلے خلیفہ ہیں۔اللہ نے انسانوں کو آپ اور آپ کی زوجہ  سے آگے بڑھایا۔جب اللہ نے آپ کو پیدا فرمایا تو فرشتوں اور جنوں سے کہا کہ تم سب سجدہ کرو،سب نے سجدہ کیا ایک ابلیس نے سجدہ نہیں کیا۔اس پورے قصہ کو آسمانی کتب میں بیان کیا گیا ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018