16 صفر 1443 هـ   23 ستمبر 2021 عيسوى 2:14 am کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2021-08-31   89

توحید: پیغامِ اول

انبیائے کرامؑ نے سب سے زیادہ خالق کائنات کی توحید کا درس دیا ہے اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

((وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ)) (النحل ـ36)

اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض کے ساتھ ضلالت پیوست ہو گئی، لہٰذا تم لوگ زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا تھا۔

یہ سب اس لیے ہے کہ توحید ہر فرد کے لیے اہم ترین چیز ہے اور اسی میں انسانیت کی بھلائی ہے ۔توحید کے ذریعے انسانیت آزاد ہوتی ہے ،اسی کے ذریعے ضلالت ،گمراہی اور انحراف سے بچتی ہے اور حق و حقیقت سے سرفراز ہوتی ہے۔جب اس کی اہمیت اتنی زیاد ہے تو اللہ تعالی نے ہی انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ قرار دیا ہے۔اس اہمیت کے پیش نظر اللہ کی توحید کو مختصرا بیان کرتے ہیں۔

یہ چیز غور و فکر کرنے والوں پر واضح ہے کہ اس کائنات کا نظم بہت ہی مربوط اور پرفیکٹ ہے۔یہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیسے ایٹم سے لے کر بڑے بڑے اجسام تک ایک منظم شکل میں ہے۔اس پورے نظام میں کوئی ٹکراو نہیں ہوتا اس سے پتہ چلتا ہے کہ چلانے والوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور لاکھوں ،کروڑں بلکہ اربوں اشیاء میں یہ نظم موجود ہے اور کام کر رہا ہے۔یہ نظام درست انداز میں کام کر رہا ہے آغاز کائنات سے منظم اور مربوط نظام کا ہونا یہ بتاتا ہے کہ یہ سب صرف اور صرف ایک قادر مطلق کے ارادے سے چل رہا ہے۔یہ سب ایک اللہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور اس میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ)) (الأنبياء ـ 22)

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا معبود ہوتے تو دونوں (کے نظام) درہم برہم ہو جاتے، پس پاک ہے اللہ، رب عرش ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں۔

دن و رات یا چاند و سورج کو ہی لیں تو اس نظم و ترتیب کو بڑے اچھے انداز میں واضح کرتے ہیں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:

((لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ)) (يس ـ40)

نہ سورج کے لیے سزاوار ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے سکتی ہے اور وہ سب ایک ایک مدار میں تیر رہے ہیں۔

پس اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سارا نظام ایک ایسے منتظم کے ہاتھ میں ہے جس کے نظم میں ذرا برابر جھول نہیں ہے،اس کی ترتیب میں کوئی فرق نہیں آتا اور جو وہ فیصلہ کر لیتا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں اور جو کچھ اس کائنات میں وقوع پذیر ہو رہا ہے انسان اسے نہیں سمجھ سکتا ،یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ان سب کے پیچھے کوئی بنانے والا بھی ہو)اللہ تعالی)۔ سب سے چھوٹی مخلوق یعنی ایٹم کو ہی لے لیں تو اس میں حرکیات کا ایک پورا نظام موجود ہے، پھر اس کو نظام فلکی پر قیاس کریں یہ سب اس کے بنانے والے کی عظمت کی گواہی دیں گے کہ اس کائنات کا خالق لامحدود طاقت کا مالک ہے اور اس کی طاقت کو کسی دائرے میں نہیں لایا جا سکتا۔بطور مثال ایسے ہی ہے کہ کسی کتاب میں آراء و مقالات کو کسی لکھنے والے کی طرف سے لکھا جائے۔جو ادبی اور فنی ذوق رکھتے ہیں وہ بتا دیتے ہیں کہ کتاب کسی ایک لکھاری کی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کتاب کے متن میں تضادات موجود ہوتے اس کا سیاق و سباق تضاد کا شکار ہو جاتا ۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

((إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ الله مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ))(البقرة ـ 164)

یقینا آسمانوں اور زمین کی خلقت میں، رات اور دن کے آنے جانے میں، ان کشتیوں میں جو انسانوں کے لیے مفید چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمانوں سے برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد (دوبارہ) زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانداروں کو پھیلایا، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

توحید کے مفاہیم کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:

توحید ذات: اس کا مطلبب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات کسی بھی طرح کے اجزاء سے مرکب نہیں ہے۔اللہ کی ذات اجزاء کی محتاج نہیں ہے۔اللہ کی ذات و صفات کے مثل کوئی نہیں ہے۔وہ و یکتا ہے،تنہا و بے نیاز ہے،وہ اپنی مخلوق سے بے نیاز ہے اور اس کے علاوہ ہر کوئی اس کا محتاج ہے۔

توحید صفات: اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی ذات عین صفات ہے اور اس کی صفات اس کی عین ذات ہیں۔اس کی ذات و صفات میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ذات و صفات میں تعدد پایا جاتا ہے اس طرح کہ اللہ کا وجود ایک ہے۔ اس کی صفات کے متعدد ہونے کی بات ہماری عقل کے کمزور ہونے کی دلیل ہے ،یہ ذہنی تعدد ہے جس کو ذہن سے لیا گیا ہے باہر واقع میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ جوموجود ہے وہ ان صفات والی ذات ہی ہے۔

عبادت میں توحید:  اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور عبادت کو صرف اور صرف اسی کے ساتھ خاص قرار دیا جائے۔ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے دین کو اسی کے لیے خالص قرار دیتے ہیں۔

افعال میں توحید:  یعنی اللہ تعالی اپنے افعال میں غیر سے بے نیاز ہے کائنات میں ہونے والا ہر عمل اس کا محتاج ہے ہر کسی کی طاقت و قوت  اللہ کی ہی ہے۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018