15 محرم 1441 هـ   15 ستمبر 2019 عيسوى 9:22 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-04-18   116

فلسفہ نبوت پر ایک بحث

عقلاء عالَم، دین کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کائنات اور اس میں موجود تمام اشیاء کے نظم و ضبط کے لئے کسی دین کا ہونا ضروری ہے۔ ایک فرد کی انفرادی زندگی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی کے لئے بھی ضروری ہےکہ کوئی دین یا کوئی نظام ہو۔اسی طرح فرد اور معاشرے کا اپنے رب اور اس وسیع کائنات کے ساتھ رابطہ  بھی ایک نظام چاہتا ہے، جسے ہم دین کہہ سکتے ہیں۔ دین ایک اختیاری نظام ہے جس میں کوئی جبر و اکراہ نہیں ہے۔البتہ یہاں اکراہ سے مراد منطقی اور حکمت کی اصطلاحی اکراہ نہیں ہے، کیونکہ دین ایک عقلائی اختیار ہے جو ایک ارادے سے تاسیس پاتا ہے اور ایک خاص نظم کے ذریعےمختلف مصالح کو آپس میں ٹکرانے نہیں دیتا۔ دوسری جانب دین ایک راستہ ہے جو انسان کو عظیم اقدار تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

دین جو بھی ہو، در حقیقت مخلوق اور خالق کے درمیان ایک تعلق کا نام ہے۔یہ ایک ایسا تعلق ہے جو براہ راست نہیں ہوسکتا۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ رب اپنے بندوں سے روزانہ کی بنیاد پر آکر مل لے یا ان سے بات کرے یا کسی اور طریقے سے براہ راست بندے سے رابطہ رکھے۔ لہٰذا رب اور بندے کے درمیان ایک رابطہ کار یا وسیلہ ہونا چاہیے جو اللہ کی باتیں بندوں تک پہنچائے اور اللہ کے سامنے بندوں کی سفارش کرے اور ان کے گزارشات پہنچا دے۔اور وہ واسطہ بھی ایسی شکل میں ہو کہ انسان مطمئن ہوجائے اور ہر طرح کے شکوک وشبھات دور ہوجائیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ رابطہ کار انسان ہی کی شکل میں ہو، اسی جیسا ہو تاکہ اسے روزمرہ کی زندگی میں دیکھ بھی سکے اور اس کے عمل پر متاثر ہوکر خود بھی اسی کی طرح عمل کر سکیں۔ اگر انسان کی شکل میں نہ ہو بلکہ کسی اور شکل میں ہو۔ مثلاًایک فرشتے کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میں ہو تو اللہ اور بندے کے درمیان یہ تواصل اور تعلق مشکل ہوجائے گا۔ بلکہ ہوسکتا ہے اس طرح کا وسیلہ انسان کواللہ سے نزدیک کرنے سے زیادہ دور کرے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا:  "وَقَالُوا مَالِ هَٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا"(الفرقان: 7) " اور وہ کہتے ہیں: یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ اس پر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوتا؟ تاکہ اس کے ساتھ تنبیہ کر دیا کرے"۔

دین پر شک کرنے والوں نے اس وقت بھی شکوک و شبہات پھیلائے جبکہ یہ وسیلہ(نبیؐ)  ان کے اپنے جیسا تھا، انہی کی طرح زندگی کرتا تھا۔ اگر انسان کی شکل میں نہ ہوتا، بلکہ فرشتے کی شکل میں یا کسی اور شکل میں  ہوتا تو یہ لوگ اس سے زیادہ دین پر شک کرتے۔ جیسا کہ قرآن ارشاد فرماتا ہے: "أَوْ يلقى إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا۔ انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا"(الفرقان:8-9)" یا اس کے لیے کوئی خزانہ نازل کر دیا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھا لیا کرتا اور ظالم لوگ (اہل ایمان سے) کہتے ہیں: تم تو ایک سحرزدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔ دیکھیے! یہ لوگ آپ کے بارے میں کیسی باتیں بنا رہے ہیں، پس یہ ایسے گمراہ ہو گئے ہیں کہ ان کے لیے راہ پانا ممکن نہیں ہے"۔

پس ان آیات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی پیغام کے حامل اس وسیلے کو بشری شکل میں ہی ہونا ایک منطقی بات ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس الٰہی پیغام رسان کی ضرورت اور اسے نبوت کا عنوان دینا کیوں ضروری ہے؟

نبوت اور تعلیمات الٰہی کو بندوں تک پہنچانے کا یہ سلسلہ اپنی جگہے پر ایک ضرورت ہے ۔ ہمارا دین بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس آسمانی پیغام کے حامل (نبی) کو دین کے احکام اور عقائد کو لوگوں تک پہنچانے اور انہیں عملی طور پر دین کا راستہ دکھانے اور ان کی طرز زندگی بہتر بنانے کے لئے کافی وقت مل جانا چاہیے۔تاکہ دنیا میں کوئی بھی گمراہی میں نہ رہے اور اللہ کی بارگاہ میں عذر خواہی نہ کر سکے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: " رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا"  (النساء :165)۔ " (یہ سب) بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے تاکہ ان رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے کسی حجت کی گنجائش نہ رہے اور اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے"۔

خدا وند متعال جو کہ بندوں پر بے پناہ رحمت کرنے والا اور بڑا حکمت والا ہے، وہ کبھی کسی انسان کو بے راہ روی کے عالم میں نہیں چھوڑتا جو دین کی کلیات تو دور، جزئیات کو بھی براہ راست نہیں سمجھ سکتا، بلکہ مختلف زمانوں میں اپنی طرف سے انبیاء و اولیاء کو تسلسل سے بھیج کر ان کی ہدایت اور تربیت کا بندوبست کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نبوت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف ایک قسم کی سفارت کاری کہہ سکتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے سفیر بن کر تشریف لاتے ہیں اور لوگوں کو دین کی باتیں وضاحت کے ساتھ سمجھاتے ہیں۔ ان کی باتیں لوگوں پر حجت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے نبیوں پر جتنی بھی ذمہ داریاں ڈالی ہیں ان تمام ذمہ داریوں میں لوگوں کو ان کے عقائد اور شریعت سمجھانے سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں دی۔اس کے بعد ان کی زندگی کے امور کی تنظیم اور حق و باطل، حلال و حرام اور ہدایت و گمراہی میں تمیز دینا انبیاء کی ذمہ داری قرار دیا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا"۔(احزاب: 45 ـ48)۔ " اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور تنبیہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، اور اس (اللہ) کے اذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر۔ اور مومنین کو یہ بشارت دیجئے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہو گا۔ اور آپ کافروں اور منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں اور ان کی اذیت رسانی پر توجہ نہ دیا کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور ضمانت کے لیے اللہ کافی ہے"۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود نبوت کومقصد نہیں بنایا بلکہ اسے ایک وسیلہ بنایا تاکہ بندوں کی ہدایت ہو سکے۔

نبوت کی اسی اہمیت کے پیش نظر کہ یہ ایک آسمانی تبلیغ کا ذریعہ ہے ، نبوت اپنی تمام شرائط کے ساتھ ایک ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے تاکہ اس کے نتیجے میں انسان آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ عمل کرے۔ نبوت کی اہم شرائط میں سے ایک عصمت ہے۔ ایک نبی کو اپنے ہر قول و فعل میں معصوم ہونا چاہیے ۔ کیونکہ نبی کا قول فعل حق کی دلیل ہوتی ہے لہٰذا حق کی دلیل بھی حق، سچائی اور امانت داری پر مبنی ہونی چاہیے۔اسی طرح عدالت بھی نبوت کی ایک اہم شرط ہے۔ عدالت یعنی نبی کو اپنی خواہشات اور نفسانی میلان اور رغبتوں  پر کنٹرول ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہو تو لوگوں کی نظر میں ایسا نبی مشکوک ہوگا اور اس کے ہر عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔بلکہ ممکن ہے جان بوجھ کر اس کے ہر قول و فعل کی مخالفت کریں۔ کیونکہ جب نبی اپنے نفسانی خواہشات کے مطابق عمل کرے تو معاشرے میں کچھ لوگ خود کو اس نبی سے بھی افضل سمجھنے لگیں گےاور  ایسے نبی کی اطاعت واجب نہیں سمجھیں گے۔یہی سے ہر شخص کو اپنا شخصی اجتہاد کرنے کا راستہ ملتا ہے اور معاشرے کے دوسرے افراد پر اپنی خواہش کے مطابق چیزوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نبی معصوم بھی ہو اور اپنے نفس پر کنٹرول بھی رکھتا ہو تاکہ معاشرے کے کسی فرد کو نبی کے قول و فعل پر شک کی گنجائش نہ ہو اور اپنی مرضی کا دین  اور اپنا اجتہاد دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش بھی نہ کر سکے۔

دوسری طرف یہ نبوت فقط ایک اخلاقی مقام و منصب ہی نہیں کہ جس تک کوئی نبی اپنے نفس سے جہاد کر کے یا تہذیب نفس کے نتیجے میں پہنچتا ہو۔ اگر چہ یہ دونوں باتیں نبوت کے لئے لازمی ہیں لیکن یہی سب کچھ نہیں، بلکہ باقی تمام لوگوں سے کسی نبی کا اللہ کی طرف سے چننا اور انتخاب کرنا اس نبی کی شخصیت  کی بناء پر ہے جو معاشرے کی اجتماعی حالت میں تبدیلی لانے کی صلاحیت، عزم اور حوصلہ رکھتی ہے۔کیونکہ اجتماعی زندگی میں خلل اور خرابی  کو سدھارنے کی خاطر ہی دین کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی دین کو پہنچانے کے لیے نبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاءؑ کا ایک ہی ہدف تھا کہ ہر دور  میں موجود معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ لہٰذا نبوت اور دین ہی معاشرے کو برائیوں سے نجات دلانے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے انبیاء ؑ کو ممتاز کر کے منتخب کرتاہے ، تاکہ جو لوگ اس منصب کے اہل نہیں وہ اس کی لالچ نہ کر سکیں۔ مثلاً ہر نبی کچھ خصوصیات کا حامل ہوتا  ہے ، بعض لوگ اپنے اندر بھی ایسی خصوصیات پیدا کر کےممکن ہے نبوت ملنے کے امیدوار بن جائیں۔ مثلاً اگر سارے انبیاء معاشی لحاظ سے بہترین حالت میں ہوتے تو معاشرے کے امیر طبقے میں سے کسی کے بھی دل میں یہ طمع آ سکتی ہے اور اپنے لئے بھی نبوت کا عنوان ملنے کا امیدوار بن سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو ایک جیسی حالت میں نہیں رکھا۔ کسی کو معاشی طور پر امیر اور کسی کو فقر میں رکھا اور انبیاءؑ کا انتخاب خود ہی فرماتا رہا تاکہ کسی نا اہل کے دل میں اس الٰہی منصب کی طمع و لالچ ہی پیدا نہ ہوسکے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:" وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ"(انعام :124) "اور جب کوئی آیت ان کے پاس آتی ہے تو کہتے ہیں: ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمیں بھی وہ چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے، اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے، جن لوگوں نے جرم کا ارتکاب کیا انہیں ان کی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں عنقریب ذلت اور شدید عذاب کا سامنا کرنا ہو گا"۔

ہرنبی کا اخلاق اور اس کی تربیت بھی نبوت کی ضروری شرائط میں سےہیں۔ہر نبی کے لئے لازم ہے کہ اس کا اخلاق بہترین ہو اور ہر طرح کی غلاظتوں سے پاک ہو۔ کیونکہ معاشرے کی اجتماعی تربیت اور ان کے دلوں کو پاک کرنا اور ان کی تزکیہ نفس جیسی ذمہ داریاں نبی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے خود نبی کی ذات کو ان صفات میں کامل نمونہ ہونا چاہیے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے نبی کی صفت کے طور پر بھی بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:" لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ" (آل عمران ـ 164) " ایمان والوں پر اللہ نے بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے"۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018