23 ربيع الاول 1441 هـ   21 نومبر 2019 عيسوى 7:59 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | امامت |  عالمی نجات دہندہ کا انتظار
2019-03-16   98

عالمی نجات دہندہ کا انتظار

زمانہ قدیم سے مہذب معاشرے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں جیسے عراق کی تہذیب،فراعین کی تہذیبیں، زرتش تہذیب اور دیگر کئی تہذیبیں اس بات کی قائل رہیں کہ انسانیت کی نجات کے لیے ایک مدد گار آئے گا جو انسانیت کو  نجات دے گا، آسمانی ادیان میں تو یہ عقیدہ زیادہ واضح طور پر بیان ہوا ہے۔ان کے زمانے میں حق غلبہ پائے گا،نور سے ظلمت چھٹ جائے گی،وہ انسانوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کریں گے۔

آج کل کا انسانی نظام اس بات پراتفاق رکھتا ہے کہ یہ شخصیت  درجہ کمال پر فائز ہو گا اور  اللہ کی قوت اسے حاصل ہو گی۔آپ کی شخصیت پر انسانی میراث میں اتفاق پایا جاتا ہے ۔آپ کی قیادت میں ظلم  کی بنیاد پر قائم نظام کا خاتمہ ہو گا۔آپ کے آنے سے حق و باطل،خیر و شر اور نور ظلمت میں فرق واضح ہو جائے گا۔

ایک ایسا انسان جو عدل و انصاف سے زمین کو پر کر دے اور اس کے نتیجے میں ظلم و بربریت کا خاتمہ ہو انسان کی ایسے رہنما اور  منجی کی طرف  نیاز مندی فطری بات ہے۔زمانوں اور  علاقوں کے اختلاف کے باوجود انسانی ضمیر ابتدا سے آج تک ان کا محتاج رہا ہے ۔

کچھ لوگ اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتے ہیں کہ آخری زمانے میں اس طرح کا کوئی مصلح نہیں آنا یہ بس  ایک وہم ہے جس کو مختلف اقوام نے اپنا لیا ہے۔اس نظریہ کو برے حالات میں مبتلا قوموں نے ایک امید کے طور پر اختیار کیا ہے اور یہ عام سی بات ہے۔ہر ایک  نے اپنے حالات کے مطابق  اس کی امید لگا لی۔ایسی بات نہیں اس پر عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں۔اس پر بہت سی دینی نصوص بھی ہیں یہودی،مسیحی اور مسلمان تینوں ایک  لڑی  کے مذاہب ہیں۔یہ سب اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں یہ مصلح  اللہ کی تائید سے آئے گاتاکہ طاغوت صفت شریر لوگوں کو کے درمیان عدل  قائم کرے،مساوات کو نافذ کرے۔ جب اس مصلح کی  حکومت آئے گی زمین خیر سے پر ہو جائے گی اور اپنے خزانوں کو اگل دے گی  جس  کا ان متقین لوگوں کو وارث بنایا  گیا ہے۔

ادیان آسمانی میں  نجات دہندہ:

مشرقی تہذیبوں کو  محبت اور ان کی غیبی امور میں دل چسپی کی وجہ سے جانا جاتا ہے کہ وہ ان میں کوشش میں لگی رہتی ہیں تاکہ اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔نجات دہندہ کے حوالے سے بہت افسانے اور قصے  بنائے گئے  کہ جس کے ذریعے  ظلم سے نجات  ملے گی ۔جس  زرتشت مذہب میں نے سب سے پہلے  نجات دہندہ کا تصور دیا وہ زرتشت تھا،فراعنہ آمون کو نجات دہندہ سمجھتے تھے،یہودی یہ سمجھتے ہیں  کہ یہ نجات دہندہ  بنی اسرائیل کو نجات دے گا ،مسیحی سمجھتے ہیں کہ وہ نجات دہند حضرت مسیحؑ تھے  جنہوں نے انسانوں کے گناہوں کے لیے خود کو فدیہ کر دیا۔

فکر اسلامی میں نجات دہندہ کا وجود:

اسلامی فکر میں نجات دہندہ کا تصور کوئی خیالی تصور نہیں ہے کہ اس کا عقائد سے کوئی تعلق نہ ہو  اور  یہ صرف ایک خیال ہو جس کا اصل وجود نہ ہو۔اسلام میں نجات دہندہ  کا تصور اور عقیدہ  پوری آب و تاب سے موجود ہے اور اس  میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔قرآن مجید اس کی تائید کرتا ہے۔

((هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ)) (الصف-9)

وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔

اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا اور یہی دین حق ہے ۔یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ کوئی ایسا اسلامی رہنما موجود ہو جس کے ہاتھوں اسلام کو تمام ادیان پر کامیابی ملے اور امام مہدیؑ وہ عظیم نجات دہندے ،قائد،امام،خلیفہ اور وہ شخصیت ہیں جنہوں اللہ کی عدل  والی حکومت قائم کرنی ہے۔اللہ نے آپ کے ظہور کو  کمزورں کے لیے ایک عطیہ  قرار دیا ہے  کیونکہ آپ کے ظہور کے ذریعے یہ کمزور لوگ زمین کے وارث بن جائیں گے ۔اس پر نص قرآن دلالت کرتی ہے:

  ((وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ)) (القصص-5)

اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں۔

سنت نبویﷺ میں بھی اس   بڑے  اور عقیدہ  کی تفصیل موجود ہے جو نجادت دہندہ اور مصلح کے باری میں بتاتی ہیں۔ یہ حدیث  درجہ تواتر تک پہنچی ہوئی ہے آپﷺ فرماتے ہیں:

نواں:میں اہلبیتؑ میں سے قائم آئے گا جو میری امت کا مہدی ہے ،لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے گفتگو اور عمل میں مشابہت رکھے گا،وہ طویل غیبت اور گمراہی میں مبتلا کر دینے والی حیرت  کے بعد ظہور کرے گا،اللہ کے حکم سے اعلان کرے گا،اللہ کے دین کو  ظاہر کر دے گا،اسے اللہ کی مدد حاصل ہو گی،اللہ کے ملائکہ کی اسے مدد حاصل ہو گی، وہ زمین کو عدل و انصاف کو ایسے ہی بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو  گی۔

 

 

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018