23 ربيع الاول 1441 هـ   21 نومبر 2019 عيسوى 6:53 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

2019-02-25   84

فتح ِعظیم

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ کی طرف ہجرت اور مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت کے قائم ہونے کے بعد دین حق کا پیغام ارد گرد کے تمام ملکوں میں پہنچنا شروع ہوا۔ اورمسلمانوں میں یہ استطاعت بھی آگئی کہ وہ مختلف ممالک کے بادشاہوں کو خطوط  لکھنےکا سلسلہ جاری کر سکیں۔ معتبر تاریخی ذرائع بتاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کے بادشاہ قیصر، ایران کے بادشاہ  کسریٰ، مصر کے بادشاہ مقوقس شاہ، حبشہ کے بادشاہ نجاشی، دمشق کے بادشاہ حارث غسانی، صنعاء کے بادشاہ، مملکت عمان  کے بادشاہ، بحرین کے بادشاہ اور ان کے علاوہ بہت ساروں کے لیے خطوط لکھے۔ ان ممالک کے بادشاہوں میں سے بیشر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط کا مثبت جواب دیا اور اس کے نتیجہ میں آپ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم  کے بہت سے مضبوط اتحادی وجود میں آئے۔  لیکن ان تمام کے باوجود  قبیلہ قریش کے سردار ابوسفیان نے اپنی  مخالفت نہیں چھوڑی، اور وہ اسلام کے سخت  ترین دشمنوں میں سے  تھا، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیف  قبائل میں سے ایک قبیلہ پر ظلم کرنا شروع کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجبور ہوکر قریش سے مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کا ایک لشکر تیار کیا، جس کی وجہ سے قریش خوفزدہ ہوگئے، اور جنگی تباہیوں سے بچنے کے لیے ابوسفیان کو اپنا نمائندہ بناکر بھیجا تاکہ معاملہ کو بروقت حل کیا جاسکے، لیکن وہ ناکام ہوکر واپس پلٹا، اور جنگ کے خطرات سر پر منڈلاتے رہے۔ پھر دوسری مرتبہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا  جناب عباس بن مطلب جو کہ دل سے مسلمان تھے لیکن مصلحتا اسے ظاہر نہ کرتے تھے۔ انہوں نے کفار قریش کی طرف سے واپس آکر کہا،جیسا کہ روایت میں آیا ہے، یہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وہ چیز لیکر آئے ہیں جو آج تک کوئی لیکر نہیں آیا۔ تو ابوسفیان جناب عباس بن عبدالمطلب سے کہنے لگا: آپ بتائیں ہم کیا کریں؟

عباس بن عبد الطلب کہنے لگے: کہ اگر تم لوگوں کو  محمد ابن عبداللہ سے امان چاہئے، تب یہ ابوسفیان سے اس وقت تک نہیں ہوسکے گا جب تک یہ عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ دوبارہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ جائے، اور ان سے امان طلب نہ کرے۔ پھر ابوسفیان، عباس بن عبدالمطلب کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، اور امان طلب کرنے لگا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا کہ " اشهد لا إله إلا الله و اشهد ان محمداً رسول الله" پڑھو گے تو امان ملے گا۔ ابوسفیان نے  کلمہ "اشهد لا إله إلا الله و اشهد أن محمداً رسول الله" کا اقرار کیا اور ایمان لایا۔ اس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اہل مکہ کو امان دی، جو دعوت اسلامی کے ابتدائی ایام میں اسلام کے سخت مخالف تھے اور ہر قسم کے وحشی حربے استعمال کرتے تھے تاکہ اسلام ترقی نہ کرسکے۔ پس اعلان مکہ میں واضح طورپربیان کیا گیا کہ جوشخص ابوسفیان کی پناہ میں آجائے گا یا اس کے گھر میں داخل ہوگا وہ بھی محفوظ ہوگا اورجو شخص اپنے گھر میں رہے گا یا مسجد میں داخل ہوگا اس کو بھی امان حاصل ہوگی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہوکر یہ کلمات دہرارہے تھے: لا اِلـهَ إلاَّ اللهُ لا اِلـهَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَهُ  وَحْدَهُ وَحْدَهُ وَحْدَهُ، اَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَاَعَزَّ جُنْدَهُ وَهَزَمَ الأحْزابَ وَحْدَهُ، فَلَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيي وَيُميتُ وَيُميتُ وَيُحْيي وَهُوَ حَيٌّ لا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْء قَدير۔

اسی دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ سے  مخاطب ہوکر پوچھا: اے قریشیو! تمہاری رائے کیا ہے کہ میں کس طرح کا برتاؤ تمہارے ساتھ روا رکھوں گا؟ انھوں نے عرض کیا:

خيرا، أخ كريم، وإبن أخ كريم؛ ہم آپ سے خیر اور نیکی کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ آپ ہمارے صاحب جود و کرم بھائی ہیں اور ہمارے کریم بھائی کے فرزند ہیں۔ چنانچہ آپ(ص) نے فرمایا: میں آج وہی کہوں گا جو میرے بھائی یوسف نے  کہا تھا: قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ(یوسف:۹۲)۔

 یوسف نے کہا: آج تم پر کوئی عتاب نہیں ہو گا، اللہ تمہیں معاف کر دے گا اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ پھر کہا: إذهبوا فأنتم الطلقاء۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحاب نے بتوں کو توڑنا شروع کردیا، اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کی تلاوت کررہے تھے: وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا (الاسراء:۸۱)۔

اور کہدیجئے: حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل کو تو یقینا مٹنا ہی تھا۔

فتح

فتح

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018