19 ذو القعدة 1440 هـ   22 جولائی 2019 عيسوى 12:51 pm کربلا
موجودہ پروگرام
مین مینو

 | اسلام میں سیاست |  گزشتہ ادوار کی جمہوریت,بیعت ہے
2019-02-21   70

گزشتہ ادوار کی جمہوریت,بیعت ہے

عظمت الہی کبھی بھی خدا کی اپنی مخلوق کے ساتھ گفتگو کی راہ میں حائل نہیں ہوتی اگرچہ یہ گفتگو انسان سے کم تر مخلوق یعنی فرشتوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو خداوندے کریم زمین میں اپنا خلیفہ بنانے کے حوالے سے فرشتوں سے مخاطب ہو کر کچھ یوں ارشاد فرماتا ہے: "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟ جب کہ ہم تیری ثناء کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا: (اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"۔ (البقرہ آیت 30) اور اسی طرح خداوند متعال نے شیطان کے ساتھ گفتگو فرمائی کہ جس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے بارے میں حکم خدا کی نافرمانی کی تھی جبکہ شیطان جانتا تھا کہ خداوند کریم نے حضرت آدم کو خلیفہ معین کیا ہے اور ان کو عظمت و شرافت عطا فرمائی  ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : "فرمایا: تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے باز رکھا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا؟ بولا: میں اس سے بہتر ہوں، مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے"(سورہ اعراف آیت 12)

خداوند متعال اپنے اشرف المخلوقات انسان سے کیسے گفتگو فرماتا  ہے اور اس کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے "بتحقیق ہم نے انسان کو بہترین اعتدال میں پیدا کیا " (سورۃ التین آیت 4) یقینا یہ گفتگو اور رویہ اعلی درجے کا جمہوری رویہ ہے کہ جس میں انسان کی عزت اور اس کے عالی مقام کو ملحوظ رکھا گیا ہے ہم اس رویے کا  مشاہدہ قرآن مجید کی تمام آیات میں کرتے ہیں

اور اس شاندار جمہوری رویے کا ایک نمونہ رسول خدا اور بارہ اماموں کے لئے عوام الناس سے اختیاری طور پر بیعت طلب کرنا بھی ہے۔یہ جمہوری رویہ، جمہوری طریقہ کار کے رائج مفہوم کے عین مطابق ہے اس لئے کہ اس رویے سے الہی جمہوریت رونما ہوتی ہے لیکن یہاں جمہوریت کا استعمال ہرگز حقیقی نہیں بلکہ مجازی ہے اور یہ آیت کریمہ خدا کے اپنی مخلوق خدا کے ساتھ اختیار اور پسند کے رویے کا مظہر ہے ارشاد ربانی ہے: اور کہدیجئے: حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، ہم نے ظالموں کے لیے یقینا ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیرے میں لے رہی ہوں گی اور اگر وہ فریاد کریں تو ایسے پانی سے ان کی دادرسی ہو گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو گا ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا بدترین مشروب اور بدترین ٹھکانا ہے (سورۃ الکہف آیت  29)
اس لئے کہ خداوندکریم نے لوگوں پر دین کو جبرا مسلط نہیں کیا ہے در حالانکہ وہ تو اپنے امر پر قادر اور غالب ہے اور وہ صاحب الامر کو قرار دینے والا ہے اور ان کی اطاعت کا حکم دینے والا ہے اورچونکہ خداوندے کریم خود کامل ہے اس لیے وہ اپنے پیغام کو پہنچانے کے لئے بھی صرف کامل رہبر مبلغ اور مبشر کو ہی اختیار کرتا ہے ۔ لہذا بیعت قبول اور تاکید کا نام ہے کہ جس کو خداوند متعال نے اختیاری قرار دیا ہے نہ کہ جبری تاکہ یہ بیعت ایک معاشرتی معاہدے اور سرپرست اور رعیت کے درمیان ایک معاہدے کی شکل اختیار کر جائے دراصل ایک دوسری جھت سے یہ بیعت اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان نبی اور ائمہ کے ذریعے سے قرار پانے والی بیعت ہے:" بتحقیق جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ کی بیعت کر رہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے" (سورۃ الفتح آیت 10)۔

اور بیعت کو بیعت اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ فعل (باع)سے ماخوذ ہے یعنی بیعت کسی بھی اس عقد یا معاہدے کی مانند ہوتی ہے کہ جو فروخت کنندہ اور خریدار کے درمیان کسی ایسے موضوع پر قرار پاتا ہے کہ جس پر فروخت کنندہ اور خریدار دونوں متفق ہوتے ہیں اور یوں کسی بھی چیز کی فروخت کا معاملہ طے پاجاتا ہے لیکن اس معاملہ کی چند شرائط ہوتی ہیں جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ یہ معاہدہ جبری طور پر طے نہ پایا ہو کیونکہ دونوں طرفوں کے قبول و رضا مندی سے طے پایا ہونا ضروری ہے اور یہ چیز بھی معاہدے کی ایک شرط ہوتی ہے کہ طرفین میں سے ہر ایک اس معاملے کی اہلیت رکھتے ہوں اور جو شخص بیعت کے معاہدے پر راضی نہ ہو اس پر ذمہ داریاں بھی عائد نہیں ہوتی ہیں اور یہ چیز اختیار کے الہی طریقہ کار کے عین مطابق ہے اور بیعت کسی بھی طریقے سے انجام پا سکتی ہے جیسے بیعت کرنے والے اور جس کی بات کی جارہی ہے وہ دونوں آپس میں ہاتھ ملالیں اور بیعت کی شروعات بیعت کے فورا بعد نافذ العمل ہو جاتی ہیں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کسی بھی شخص کی بیعت بیعت شمار نہیں ہوتی ہے اسلام کی بنیاد مساوات کے اصول پر قائم ہے بیعت کے حوالے سے مرد و زن یکساں حیثیت حامل ہیں کیونکہ خواتین سے بھی بیعت طلب کی جاتی ہے مجنون اور نابالغ بچے بیعت سے مستثنی ہوتے ہیں۔ گزشتہ گفتگو سے واضح ہوگیا ہے کہ اسلام میں بیعت کا تصور ایک ایسا جمہوری تصور ہے کہ جس کے حوالے سے اسلام تمام موجودہ اور سابقہ تہذیبوں پر سبقت رکھتا ہے اور اس اعتبارامتیازی حیثیت کا حامل ہے اور آج کی موجودہ سیاسی اور انتخابی جمہوریت بھی بیعت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے۔

رسول خدا کے زمانے میں بیعت:

 دعوت اسلام کے آغاز سے ہی بیعت کا نظام واضح طور پر موجود تھا کیونکہ دعوت اسلام کی تصدیق کرنے والی عورتوں میں سے سب سے پہلی عورت جناب خدیجہ تھیں کہ جنہوں نے اپنے شوہر کی دعوت اسلام پر بیعت کی جبکہ مردوں میں سے سب سے پہلے اسلام کی تصدیق اور رسول اکرم کی بیعت کرنے والے حضرت علی تھے اور آپ علیہ السلام کی اتباع میں بنو ہاشم کے خاندان نے رسول اکرم کی بیعت کی۔ بیعت کا یہ نمونہ اسلام میں بیعت کی پابندی اور اہمیت کے لیے ایک اور مصداق اور شاہد شمار کیا جاسکتا ہے اور رسول خدا کا قریبی رشتہ داروں سے بیعت کا مطالبہ اور اعلانیہ طور سے دعوت اسلام کے بارے میں قرآنی حکم پر عمل پیرا ہونا اسلام کے جمہوری طرز عمل کی تاکید کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس لیے کہ جب رسول خدا نے اپنے تمام قریبی رشتے داروں کو جمع فرما کر اپنے خدا کی طرف سے آنے والے پیغام کو پہنچایا کہ جو پیغام اسلام کا پیغام تھا تو ارشاد ہوتا ہے کہ "آپ کو جس چیز کا حکم ملا ہے اس کا واشگاف الفاظ میں اعلان کریں اور مشرکین کی اعتنا نہ کریں" (سورۃ الحجر آیت 94)  اسی طرح "اور اپنے قریب ترین رشتے داروں کو تنبیہ کیجیے" (سورۃ الشعراء آیت 214) ۔ اور یوں اس کے بعد بنو ہاشم نے رسول اللہ کی بیعت کی اور پھر اس کے بعد بعثت کے بارہویں سال حج کے موسم میں مکہ مکرمہ کے مقام پر انصار کے ایک وفد نے رسول خدا کی بیعت کی اور اس بیعت کو بیعت عقبہ اولیٰ کا نام دیا جاتا ہے اور پھر بعثت کے تیرھویں برس بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ پیش آتا ہے اور یہ بیعت بھی انصار کی طرف سے ہی کی گئی تھی لیکن اس دفعہ ایک بڑی تعداد نے رسول اکرم کی بیعت کی تھی اور اس بیعت میں انصار نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ رسول اکرم کی مدد کرنے کا پیمان باندھا تھا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی جان و مال کے ساتھ رسول خدا اور دعوت اسلام کا دفاع کریں گے۔ اگرچہ ان کو کسی بھی سرکش کے ساتھ جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے اور یہی وہ چیز تھی جو مکہ میں رسول خدا پر تنگی اور گھبراؤ کی کیفیت کے بعد مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کی بنیاد بنی اور پھر مسلمانوں نے رسول خدا کی بیعت "رضوان" کی کہ جس کو حدیبیہ میں ہونے والی "بیعت شجرہ" کا نام بھی دیا جاتا ہے اور اسی برس فتح مکہ کے بعد بھی مسلمانوں نے رسول خدا کی بیعت کی اور یوں مختلف افراد اور قبائل کی جانب سے بیعت کا ایک تانتا بندھ گیا یہاں تک کہ غدیر کی بیعت کا مرحلہ آن پہنچا کہ جس میں لگ بھگ سوا لاکھ حاجیوں نے رسول خدا کے بعد حضرت علی کو حکم خدا سے امیرالمؤمنین اور ولی ماننے پر رسول خدا کی بیعت کی۔ لیکن بہت جلد بعض افراد کی جانب سے اس بیعت کو توڑ دیا گیا رسول خدا کے بعد سیاسی خلفاء کے دور میں بیعت۔
رسول خدا کے بعد  خلفاء کے دور کی  بیعت:

رسول خدا کے بعد سیاسی خلفاء کے دور میں بھی بیعت کی شکل تبدیل نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ قبول اور اوامر کی اشاعت شامل ہونے کے تب اسے اپنی پہلی شکل پر ہی برقرار تھی لیکن یہ بیعت اپنا اصل اور شروط کہ جن پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی کھوچکی تھی بطور خاص یہ حقیقت سقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والے سیاسی انحراف کا ردعمل تھی سب سے پہلے مفقود ہونے والی شرط غدیر میں رسول خدا کی جانب سے لی جانے والی بیعت میں اطاعت و پیروی کی شرط سے روگردانی ہے اور یوں یہ انحراف رسول اللہ کی بیعت سے نکلنے کا ایک واضح نمونہ بن گیا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: " اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد تم اس سے روگردانی نہ کرو" (سورۃ الانفال آیت 20) ۔

بطور خاص رسول اکرم کی جانب سے غدیر میں لی جانے والی بیعت سے انحراف کرنے والے افراد امت کے متفقہ فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے اور دوسری بات یہ کہ سقیفہ کی بیعت زور زبردستی اور خوف دلانے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی تھی اور اس بیعت نے ایک ایسی قاتل دراڑ کی شکل اختیار کر لی کہ جس نے اسلام کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں خلیفہ اول کے دور میں کچھ جنگیں وقوع پذیر ہوئی کہ جن کو غلط انداز میں ارتداد کے خلاف جنگوں کا نام دیا گیا۔

اور جب پہلے سیاسی خلیفہ نے دوسرے سیاسی خلیفہ کو معین کیا تو رسول خدا کی وصیت کے مطابق بیعت، روح اسلام سے ایک دوسرے انحراف کا شکار ہو گئی۔اور یہ عمل اولیاء الامرکے بارے میں کتاب خدا اور رسول خدا کے حکم کے خلاف تھا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے "تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں" (سورۃ المائدہ آیت 55)

اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت علی علیہ الصلاۃ والسلام اس آیت کے مصداق ہیں پھر نہ جانے کیوں خلیفہ ثانی کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا اور رسول خدا کی یہ وصیت بھی اس آیت کو تقویت پہنچاتی ہے کہ رسول خدا کے اہل بیت میں سے ائمہ کرام ہی ہیں جو ان کے جانشین ہوں گے جیسا کہ حدیث ثقلین میں بھی یہی وارد ہوا ہے (انی تارکم فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بہما ل نتضلوا بعدی ابدا کتاب اللہ وعترتی اہل بیتی)

اس کے باوجود خلیفہ ثانی کے لیے جبری طور پر بیعت لی گئی جب کہ بہت سارے لوگ اس کے خلاف تھے اس جبری بیعت کے نتیجے میں ایک اور سوچ سمجھ سقیفے کی بدعت وجود میں آئی تاکہ اس کے ذریعے سے تیسرے خلیفہ کو اقتدار سونپا جا سکے اور یوں تیسرا خلیفہ اقتدار میں اپنے رشتے داروں کی ایک بڑی جماعت لے کر آگیا اور اس کے بعد جو ہونا تھا وہ ہوا یہاں تک کہ تیسرے خلیفہ کو قتل کردیا گیا اور پھر لوگوں کی ایک بڑی تعداد حضرت علی علیہ السلام کے گھر پر ٹوٹ پڑی تاکہ وہ اپنی خوشی سےآپ کی بیعت کرکے آپ کو اپنے امور میں سرپرست اور ولی مان لیں اور یوں حق اہل حق کی طرف پلٹ آیا اور یہ عمل اختیاری بیعت کے ذریعے سے وقوع پذیر ہوا اور اس میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں تھا اور مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت نےحضرت علی کی بیعت کی اور آپ نےکسی کوبھی بیعت پر مجبور نہیں کیا تھا اس لئے کہ حضرت علی علیہ السلام مخالف رائے رکھنے والے کو قبول کرنےاور اختیار کی آزادی پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مخالفت کے وجود میں آنے کا یقین بھی رکھتے تھے اس حقیقت پر کئی تاریخی شواہد اور دلائل موجود ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ان خوارج کا قصہ ہے کہ جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت مول لی تھی اس مخالفت کے باوجود لوگ حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کے لئے اس طرح امڈ آئے تھے کہ انہوں نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تک کو روند ڈالا تھا لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس بات کا مطالبہ کیا کہ یہ بیعت سرعام مسجد نبوی میں ہو نی چاہیے اور آپ اپنی بیعت کے حوالے سے نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں کچھ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ"ما راعني الا الناس لعرف الضبع إلي ينتالون علي من كل جانب حتى لقد وطئ الحسنان و شق عطفاي مجتمعين كربيضة الغنم"

لیکن پھر بھی حضرت علی علیہ السلام نے اس بات پر اصرار کیا کہ بیعت مسجد نبوی میں سب کے سامنے سرعام ہونی چاہیے۔ اور اس کے بعد مسلمانوں نے اپنے امیر کے طور پر مسجد کوفہ میں امام حسن علیہ السلام کی بیعت کی۔ اور اسلام میں اس بات پر کوئی اعتراض اور ممانعت موجود نہیں ہے کہ ولی الامر کی نیابت میں کسی کی بیعت لی جائے جیسا کہ حدیبیہ کے مقام پر عورتوں نے رسول خدا کی نیابت میں حضرت علی کی بیعت کی تھی اسی طرح جب اہل کوفہ نے مسجد کوفہ میں امام حسین علیہ السلام کو امیر ماننے کے لئے آپ کی نیابت میں اس وقت حضرت مسلم بن عقیل کی بیعت کی کہ جب آپ امام علیہ السلام کے سفیر بن کر وہاں گئے تھے ۔

موجودہ دور کی جمہوریت کے بارے میں اسلام کی رائے:

 ہم خدا کی جانب سے منسوب کئے گئے ولی شرعی امام حضرت صاحب زمان کی غیبت کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور دین اسلام کسی بھی سیاسی ولی الامر کے انتخاب میں جمہوری طرز عمل کو درست قرار دیتا ہے اسلام کسی بھی ایسے جمہوری طرزعمل کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتا کہ جس میں حاکم کی تعیین کے لئے اکثریت کی رائے کو معتبر قرار دیا گیا ہو اور اسی طرح اسلام کسی بھی ایسے جمہوری طرز عمل سے منع نہیں کرتا کہ جس میں اکثریت کے احترام اور ان کے حقوق کی رعایت کی خاطر اکثر عوام کسی بھی سیاسی معاہدے میں شریک ہوں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ سب کچھ شریعت اسلامی کے احکام کے خلاف نہ ہو۔

انتخاب کے لیے صحیح جمہوریت کے طریقوں کے بارے میں بحث اور اسلام ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں بلکہ اسلام تو پہلے سے ہی حکمرانوں کو بیعت کے ذریعہ سے منتخب کرنے کے طریقے پر عمل کررہا ہے اور ہم یہ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ اسلام کس طرح عوام کی طرف سے حکمرانوں کی تعیین کے لئے جمہوری طرز عمل کو سراہتا ہے اس کے باوجود کہ حقیقت میں خداوندمتعال ہی ان حکمرانوں کو معین فرماتا ہے اور ہم نے یہ بھی ملاحظہ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ان حکمرانوں کی بیعت نہیں کرتا تو اس پر بھی اسلام کو کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ اس کا معاملہ بروز قیامت خدا پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جس سے کوئی بھی چھوٹا یا بڑا انسان فرار نہیں کرسکتا ۔

جملہ حقوق بحق ویب سائٹ ( اسلام ۔۔۔کیوں؟) محفوظ ہیں 2018